جب امام مظلوم ؑ کا سرابن زیادکے سامنے رکھا گیا تووہ حرامزادہ بہت خوش ہوا
اور اس کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی وہ امام مظلوم ؑ کے دندانِ مبارک پرمارنے لگا اور
ساتھ ساتھ یہ بھی کہتاتھاکہ تیرے دانت کس قدر خوبصورت ہیں؟ اوربعض روایات میں ہے
اے حسین ؑ تیری داڑھی بہت جلدی سفید ہوگئی ہے؟
بروایت ’’مخزن البکأ‘‘ ایک بوڑھا شخض اُٹھ کھڑا ہوا اورکہنے لگا اے ابن
زیاد جہاں توچھڑی مار رہاہے میں نے دیکھا کہ رسولؐ خدا اس جگہ کو بوسہ دیا کرتے
تھے توابن زیاد ملعون نے جواب دیا یہ جنگ بدر کا بدلہ ہے (یعنی اس کے باپ نے ہمارے
اکابر کو جنگ بدر میں تہِ تیغ کیا تھا اورہم اب بدلہ لے رہے ہیں)
’’فرسان
الہیجا‘‘میں ہے زیدبن ارقم صحابی رسول ؐجو پاس بیٹھا تھا اس سے برداشت نہ ہوسکا
اورکہنے اِدْفَعْ قَضِیْبَکَ عَنْ ھَاتَیْنِ الشَّفَتَیْنِ
فَوَاللّٰہِ الَّذِیْ لَا اِلٰـہَ اِلَّا ھُوَ لَقَدْ رَاَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ
یُقَبِّلُ مَوْضِعَ قَضِیْبَکَ مِنْ فِیْہِ
چھڑی ہٹا لے ان لب ہائے مبارک سے، کہ مجھے خدائے واحد کی قسم اسی چھڑی کے
مقام کو میں نے اپنی آنکھوں دیکھا ہے کہ حضرت رسالتمابؐ بوسہ دیتے تھے، اورایک
روایت میں ہے انہی ہونٹوں پر میں نے رسول کے لب ہائے مبارک رکھے ہوئے اتنی مرتبہ
دیکھے کہ شمار سے باہر ہیں اوروہ باربار ان کو چومتے تھے، اس کے بعد زید ہائے ہائے
کرکے رونے لگا، ابن زیاد نے جواب دیا اگر تو بوڑھا نہ ہوتا اور تیری عقل ضائع نہ
ہوچکی ہوتی تو میں تجھے قتل کردیتا کیونکہ توہماری فتح پر روتا ہے؟ زید بن ارقم نے
کہا اے ابن زیاد تجھے ایک اورحدیث بتاتاہوں جو تجھے ناگوار ہو گی کہ میں نے اپنی
آنکھوں سے دیکھا تھا ایک روز حضرت رسول خدا ایک زانوپر امام حسن ؑ کو اوردوسرے زانوپر
امام حسین ؑکو بٹھائے ہوئے تھے اوردعاکررہے تھے کہ اے پروردگار میں ان دونوں
کواورعلی ؑ کو تیرے حوالہ کرکے جارہاہوں اے ابن زیاد توخود سوچ لے کہ رسول کی
امانت سے تونے کیا سلوک کیا ہے؟ پس یہ کہتا ہوا اور روتاہوا دربارسے اٹھ کھڑا ہوا
اور مجلس عام کی طرف خطاب کرکے کہنے لگااے اہل عرب تم نے مرجانہ کے بیٹے کی خاطر
اپنے رسول کے نواسہ کو قتل کر ڈالا ہے یہ شخص تمہارے شریفوں کو ذلیل کرے گا
اورکمینوں کو تمہارے سروں پر سوار کرے گا تم نے اپنے لئے ذلت وخواری خریدی ہے
اورخدا کی رحمت سے دورہے وہ شخص جو بے حیائی اور بے غیرتی کو اپنے لئے فخر محسوس
کرے۔
بروایت ’’منتہی الآمال‘‘ طبری سے منقول ہے کہ سر مبارک کو اپنے سامنے رکھ
کر ابن زیاد ملعون ایک گھنٹہ تک چھڑی سے پے درپے مارتارہا؟ جس طرح بارش کے قطرات
یکے بعد دیگرے زمین پرپڑتے ہیں۔
بروایت ’’قمقام‘‘ جب حضرت رباب ؑ نے دیکھا تو سہانہ گیا اٹھ کھڑی ہوئیں
اورایک مرتبہ امام مظلوم ؑ کے سر کو اٹھالیا اورگود میں رکھ کر اس کو بوسہ دیا
اورہائے ہائے کرکے رونے لگیں اورپھر دوشعر پڑھے جن کا مقصد یہ ہے:
(۱) مجھے اپنے آقا حسین ؑکا وہ وقت ہرگزنہ بھولے
گا جبکہ ہر
طرف سے تیر اُن پر پڑرہے تھے؟
(۲) ظالموں
نے اُن کی لاش مطہر کو سرزمین کربلا میں بے
گوروکفن چھوڑدیا ہے؟
’’مخزن
البکأ‘‘ میں تبرمذاب سے منقول ہے ہشام بن محمد کہتاہے میں دربار ابن زیاد میں
موجود تھا جب امام مظلوم ؑ کا سر پیش ہوا، وہاں ایک کاہنہ ملعونہ بیٹھی تھی اس نے
ابن زیاد کو کہا کہ کھڑے ہوکر اس پر اپنا قدم رکھو، چنانچہ اس بدنہاد نے اس عورت
کی بات مان کر کھڑے ہوکر اپنانجس قدم قرآن ناطق پر رکھا اور زید بن ارقم سے کہنے
لگا کیایہ خوب ہے؟ توزیدبن ارقم نے جواب دیا:
وَاللّٰہِ رَأیْتُ رَسُوْل اللّٰہِ وَاضِعًا فَاہُ حَیْثُ وَضَعْتَ قَدَمَکَ۔
خداکی قسم میں نے اسی مقام پررسول خداکو اپنامنہ رکھتے دیکھا ہے جہاں تونے
اپناقدم رکھا ہوا ہے؟
اوراسی کتاب سے مروی ہے کہ جب امام مظلوم ؑ کا سرابن زیاد کے پیش تھا تو
چونکہ شمرملعون نے امام مظلوم کو پس پشت سے ذبح کیاتھا اورکند خنجر سے ضربیں مار
مار کربارہ ضربوں سے گلاکاٹاتھا لہذا گردن کے ساتھ کچھ چمڑا اورگوشت لٹک رہاتھا،
جب ابن زیاد ملعون نے دیکھا توایک حجام کو بلایا اورحکم دیا کہ لٹکے ہوئے چمڑے
اورگوشت کو کاٹ ڈالے، چنانچہ اس حجام نے قینچی سے تراشناشروع کیا اورسرکو گول بنا
کرابن زیاد کے سامنے رکھا اورزائد چمرا ہڈیاں اورگوشت کے ریزے نیچے پھینک دئیے؟
بقدرت خدا اس حجام کے ہاتھ اسی وقت خشک ہوگئے اورعذاب خداوند ی میں گرفتارہوا، پس
عمروبن حریث نے کھڑے ہوکر کہا اے امیر تونے حسب منشا سر مظلوم پرظلم کرلیا ہے اب
وہ ریزے جوگرے ہیں مجھے بخش دے، ابن زیاد نے پوچھا ان کو کیا کرے گا؟ تواس نے جواب
دیا میں ان کو دفن کروں گا، پس اس ملعون نے اجازت دی چنانچہ اس شخص نے حجام کے
تراشے ہوئے گوشت۔۔ ہڈیاں۔۔ رگوں اورچمڑے کے ٹکڑوں کو جمع کیا اورایک رومال میں
باندھ کر گھر لے آیا اوران کو غسل و کفن دے کرخوشبولگا کردفن کردیا۔
’’فرسان الہیجا‘‘میں
’’روضتہ الاحباب‘‘ سے منقول ہے کہ چھڑی مارنے کے بعد ابن زیاد نے سرمطہر کو اپنے
ہاتھوں پر رکھا اوراپنے منہ کے سامنے پکڑا کر اس کو غور سے دیکھ رہاتھا کہ اچانک
اس کے ہاتھ میں لرزہ آیا اورسر مبارک اس کی ایک ران پر آلگا اورخون کا ایک قطرہ
ٹپکا جواس کے کپڑوں سے گذرکر اس کی ران میں سوراخ کرکے زمین پر جاپہنچااس کے بعد
وہ ملعون اس کا علاج کرتارہالیکن تندرست نہ ہوسکا اوراس میں بدبوپڑگئی اوراورمشک
وعنبر سے اس کو پر رکھتاتھا تاکہ اس کی بدبوسے نجات پائے پس چھ سال متواتر اسی
عذاب میں رہ کرابراہیم بن مالک اشتر کی تلوار سے واصل جہنم ہوا اورابراہیم نے اس
خبیث کے مردہ کو اسی علامت سے ہی پہچاناتھا۔