جب حضرت مسلم کی نصرت سے اہل کوفہ نے منہ پھیرلیا اور بیعت توڑ دی تو تاریکی
شب میں حضرت مسلم اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور شہر سے نکل جانے کا ارادہ فرمایا
لیکن صحیح راستہ معلوم نہ ہو سکا، سعید بن احنف نامی ایک شخص سے ملاقات ہوئی اس نے
آپ کی پریشانی کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ اہل کوفہ نے بے وفائی کی ہے اب میں کوفہ
سے باہر کوئی جائے امن تلاش کرتا ہوں تاکہ میرے سچے وفادار میرے پاس وہاں جمع ہوں،
سعید نے عرض کیا کہ حضور کوفہ کے تمام دروازے بند کر دئیے گئے اور پہرے بٹھا دے
گئے ہیں آپ کسی دروازہ سے بھی باہر نہیں جاسکتے، آپ میرے ساتھ چلیں تاکہ میں ایک
امن کی جگہ پر آپ کو پہنچا دوں، چنانچہ وہ حضرت مسلم کو محمد بن کثیر کے گھر کے
دروازہ پر لایا اور آوازدے کر کہا کہ یہ مسلم بن عقیل میرے ساتھ ہیں ان کو اپنے
گھر لے جائو، محمد بن کثیر فوراًگھرسے باہر آیا اور حضرت مسلم کے ہاتھ پائوں
کوبوسہ دیا اورآپ کی تشریف آوری سے خشنود ہوا اور اپنے گھرکے ایک خفیہ کمرہ میں
ان کو جگہ دی جس کا رستہ کسی کو معلوم نہ ہو سکے، آپ کی خورد ونوش کا سامان مہیا
کیا، ابن زیاد کی خفیہ پولیس نے بھی سراغ لگا لیا اور ابن زیاد کو اطلاع دے دی۔
چنانچہ اس ملعون نے اپنے بیٹے خالد کو فوج کثیر دے کر حضرت مسلم کی گرفتاری
کیلئے روانہ کیا محمد بن کثیر کے گھر کا محاصرہ کریا گیا، حضرت مسلم کے مکان کو تو
کسی کو علم نہ ہو سکا لیکن محمد بن کثیر اور اس کے بیٹے کو گرفتار کر کے ابن زیاد
کے پاس لائے، ادھر سلیمان بن صرد خزاعی اور مختار بن ابی عبیدہ ثقفی اور دیگر
اشراف کوفہ نے اس واقعہ سے اطلاع پاکر باہم مشورہ کیا کہ کل صبح سویرے فوج جمع
کرکے ابن زیاد کے دارالامارہ پر حملہ کرکے محمد بن کثیر اور اس کے فرزند کو رہائی
دلائی جائے اور پھر امام عالیمقام ؑ کی خدمت میں پہنچنے کی کوشش کی جائے، پس راتوں
رات انہوں نے قبائل عرب کو اطلاع بھیج کر تیار کر لیا اور صبح ہوتے ہی لڑائی کا
منصوبہ بنا لیا گیا، ادھر تقدیر کا فیصلہ یہ ہوا کہ صبح کی سفیدی نمودار ہونے سے
قبل عامربن طفیل شام سے دس ہزار فوج لے کر ابن زیادکی امداد کیلئے پہنچ گیا جس سے
ابن زیاد کے حوصلے بڑھ گئے۔
سورج طلوع ہوا تو ابن زیاد نے محمد بن کثیر کو طلب کرکے اس کو خوب گا لیاں
دیں، محمد بن کثیر نے کہا اے ابن زیاد! بیہودگوئی اور فحش کلامی چھوڑدے یہ بے
وقوفی کی باتیں تیرے لئے نادرست ہیں میں تجھے اور تیرے حسب و نسب کو خوب پہچانتا
ہوں، تیرے باپ کو جھوٹی گواہیوں سے ابو سفیان کا بیٹا بنایا گیا، تو خود زنا کی
پیداوار ہے اور تیر باپ بھی زنازادہ تھا اور یہی وجہ ہے کہ تو اس فتنہ عظیم کا
مرتکب ہورہا ہے، اندر یہ باتیںہو رہی تھیں کہ باہر سے جنگ کے طبل بجنے لگ گئے اور
لوگوں کی ہائو ہوکی آوازیں بلند ہوئیں، چالیس ہزار جنگ آور بہادروںنے قلعہ کا
محاصرہ کر لیا تھا اور فوج در فوج ان کی مدد کیلئے جمع ہو رہی تھی۔
ابن زیاد ان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے محمد بن کثیر کو کہنے لگا کہ مسلم بن
عقیل میرے حوالہ کر دو ورنہ تمہارا سر اڑا دوں گا، محمد بن کثیر نے جواب دیا یہ
بات تیری قدرت سے باہر ہے، پھر ابن زیاد نے کہا تجھے ابن عقیل کی جان عزیز ہے یا
اپنی؟ تو محمد بن کثیر نے جواب دیا ابن عقیل کا خود اللہ محافظ و ناصر ہے اور میر
ے پاس تیس ہزار مرد جنگی موجود ہیں جو اس وقت بھی دارلامارہ کا محاصرہ کئے ہوئے
ہیں، ابن زیاد کے سامنے ایک دوات پڑی تھی اٹھا کر غصہ سے محمد بن کثیر کی پیشانی
پر زور سے ماری کہ محمد بن کثیر کی داڑھی خون سے تر ہو گئی، پس فوراً تلوار کھینچ
کر ابن زیادکی طرف بڑھا لیکن اس کے حاشیہ نشینوں نے درمیان میں آکر بچالیا، البتہ
اس کا غلام معقل جو ہانی سے ایک چوٹ کھا چکا تھا وہ سامنے آگیا تو محمد بن کثیرکی
تلوار نے اس کو دوٹکڑے کرکے واصل جہنم کیا، ابن زیاد نے محمد بن کثیر کی جب یہ
جرأت دیکھی تو فوراً اس کے قتل کا حکم دیا، محمد بن کثیر بھی تلوار لے کر مقابلہ
کیلئے ڈٹ گیااور دوملعونوں کو تہِ تیغ کر ڈالا، اتنے میں محمد کا پائوں پھسلا اور
گر پڑا، پس سپاہیوں نے اس کو گرفتار کر لیا، محمد بن کثیر کے فرزند نے جب یہ دیکھا
تو تلوار کھینچ کر لڑتے ہوئے دارالامارہ کے دروازہ کا رخ کیا اور دروازہ تک پہنچتے
ہوئے بیس ملاعین کودارالبوار پہنچایا، اتنے میں پیچھے سے اس کے ایک غلام نے نیزہ
کا وار کیا اور وہیں شہید ہوگیا۔
دروازہ سے باہر اہل کوفہ اور شامی فوج کے درمیان سخت جھڑپ ہورہی تھی، تیر و
تلوارکی لڑائی جاری تھی، ابن زیاد نے حکم دیا کہ کوفہ والے محمد بن کثیر اور اس کے
بیٹے کیلئے لڑرہے ہیں ان دونوں کے سرکاٹ کر باہر پھینک دو تاکہ وہ لوگ جنگ بند کر
دیں، چنانچہ ان دونوں کے سرکاٹ کر باہر پھینک دئیے گئے لیکن جنگ پھر بھی نہ رُکی
اور غروب شمس تک جاری رہی، شام کے وقت تمام لوگ واپس چلے گئے اور شوروغل کی
آوازیں خاموش ہو ئیں، لیکن چونکہ ڈرتھا کہ کہیں دشمن مسجد میں چھپے ہوئے نہ ہوں
اس لیے ابن زیاد مغرب کی نماز کیلئے مسجد میں نہ آیا اور اپنے خصوصی عملے کو حکم
دیا کہ وہ مسجد کے کونہ کونہ کو دیکھیں شاید مسلم اپنی فوج کے ساتھ کہیں چھپا ہوا
نہ ہو اور اچانک حملہ نہ کردے، چنانچہ چراغ و مشعل روشن کئے گئے اور مسجد کے ہر
گوشہ کو خوب جھانک جھانک کر دیکھا گیا اور ابن زیاد کو خبر دی گئی کہ اب کوئی بھی
مسجد میںموجود نہیں، پس مسجد کا وہ دروازہ جو دارالامارہ کی طرف تھا کھولا گیا اور
ابن زیاد اپنے مخصوص دستے کے ساتھ مسجد میں آیا اور شہر میں اعلان کیا کہ تمام
لوگ عشا کی نماز کیلئے مسجد میں جمع ہوں ورنہ مخالفت کرنے والے کا جان و مال مباح
سمجھا جائے گا، پس تھوڑی ہی دیر میں مسجد پُر ہوگئی، نمار عشا کے بعدابن ملعون
منبرپر گیا اور کہنے لگا دیکھو حضرت مسلم نے کس قدر فتنہ برپا کر دیا ہے؟ پس جس
شخص کے گھر میں مسلم ہو وہ ہمیں فوراً اطلاع دے ورنہ اس کا جان و مال مباح سمجھا
جائے گا اور جو شخص مسلم کو گرفتار کر کے ہمارے حوالے کر ے گا اس کو انعام دیا
جائے گا، پھر حکم دیا کہ کوفہ کے تمام دروازے بند کئے جائیں اور پہرہ دار پولیس ہر
دروازہ پر معین کی جائے او ر حصین بن نمیر کو ساری پولیس کا افسر اعلیٰ مقر رکیا
گیا اور عمروبن حریث کو جنگی فوج کا کمانڈر مقر ر کیا گیا، ادھرمحمد بن کثیر اور
اسکے فرزند کے کے قتل کی خبر حضرت مسلم کو پہنچی تو وہ نصف شب کو وہاںسے گھوڑے
پرسوارہوکر روانہ ہوگئے۔