’’عمدۃالطا
لب‘‘ میں ہے کہ حضرت جعفر طیارکہ دو فرزند عون اور محمد اصغر حضرت امام حسین ؑکے
ہمراہ کربلا میںشہیدہوئے، ان کی والدہ ماجدہ اسما بنت عمیس تھی، عون کی ولادت حبشہ
میں ہوئی جب حضرت جعفر طیار وہاں مکہ سے ہجرت کرکے تشریف لے گئے تھے اور جب جعفر
طیار کی حبشہ سے واپسی ہو ئی تو عون کو اپنے ہمراہ خیبر میں لے آئے تھے
اورجعفرطیار کی شہادت کے بعد عون ہمیشہ اپنے
چچا بزرگوارحضرت علی ؑ کے ہمرکاب رہا۔
’’اصابہ‘‘
میں عبداللہ بن جعفرسے مروی ہے کہ جب ہمارے والد جنگ موتہ میں مرتبہ شہادت پرفائز
ہوئے توحضرت رسالتمآبؐ ہمارے گھر بنفس نفیس تشریف لائے اورہماری والدہ سے دریافت
کیا کہ جعفر کے بچے کہا ں ہیں؟ توہماری ماں نے ہم کو بارگاہِ اقدس میں حاضر کیا اس
وقت ہم چھوٹے تھے پس آپؐ نے فرمایاکہ محمد میرے چچاحضرت ابوطالب ؑ کی شبیہ ہے
اورعون سیرت وصورت میں حضرت جعفر کی شبیہ ہے۔
’’عمدۃ
الطالب‘‘ میں حضرت عبداللہ بن جعفرسے منقول ہے کہ جب جناب رسالتمآبؐنے ہمارے والد
کی شہادت کی خبر سنائی توہماری ماں نے گریہ کیا اور حضوؐر بھی روئے اورزینب صغریٰ
نے جن کی کنیت اُمّ کلثوم تھی اس کا عقد حضرت امیرالمومنین ؑ نے عون سے کیا تھا
(ان کی اولاد کا کہیں ذکر نہیں ملتا)
’’مامقانی‘‘
نے ذکر کیا ہے کہ عون مدینہ سے مکہ اورمکہ سے کربلاتک امام حسین ؑ کے ہمرکاب تھا
اوراس کی زوجہ جناب امّ کلثوم بھی ان کے ہمراہ تھی، حضرت عبداللہ بن مسلم کی شہادت
کے بعد حضرت عون بن جعفر طیار میدا ن میں گئے اوررجز پڑھتے ہوئے نہایت جرأت
مندانہ لڑائی کی یہاں تک کہ تیس سواراوراٹھارہ پیادوں کو اپنی تیغ بے دریغ سے واصل
جہنم کیا اوردرجہ شہادت پرفائز ہوئے، اُس وقت ان کی عمر۵۶یا۵۷برس تھی۔