منہال بن عمروسے روایت ہے کہ میں حج بیت اللہ سے فارغ ہوکر مدینہ منورہ میں
حضرت امام زین العابدین ؑ کی زیارت سے مشرف ہوا، آپ ؑ نے دریافت فرمایا کہ حرملہ
بن کاہل کا کیا ہوا؟ تو فوراً میرے ایک ساتھی بشربن غالب اسدی نے جواب دیا کہ ہم
کوفہ میں اسے زندہ چھوڑ کر آئے ہیں، ا س وقت امام ؑ نے ہاتھ آسمان کی طرف بلند
فرمائے اوردعاکی: اَللّٰھُمَّ اَذِقْہُ
حَرَّالْحَدِیْدِ اَللَّھُمَّ اَذِقْہُ حَرَّالنَّاِر
یعنی اے اللہ! اس کولوہے کی گرمی
اورآگ کی حرارت کا عذاب چکھا۔
منہال کہتاہے جب ہم واپس کوفہ میں پہنچے تومختار نے خروج کیا ہوا تھا
اورمیرے اس کے ساتھ پہلے سے دوستی کے مراسم تھے، لہذا میں سوارہوکراس کو ملنے گیا
دیکھا تووہ گھر سے باہر آرہاتھا مجھے دیکھتے ہی کہنے لگا اے منہال! تونے اس
کارخیر میں ہمارے ساتھ حصہ کیوں نہیں لیا؟ میں نے جواب دیا کہ میں حج کوگیا تھا
اورابھی واپس آیا ہوں اورتجھے ملنے کی غرض سے حاضر ہوا ہوں، پس میں اس کے ہمراہ
روانہ ہوا اورکناسہ کوفہ میں ہم پہنچے تومختارکسی انتظار میں وہاں ٹھہر گیا، اتنے
میں ایک جماعت پہنچی اورآتے ہی انہوں نے حرملہ کی گرفتاری کی مبارک بادپیش کی جب
وہ ملعون حاضرکیا گیا توامیرمختار نے ایک قصاب کو بلوا کراس کے ہاتھ پائوں کی تمام
انگلیوں بندبند سے جداکیں اورپھر اس کے ہاتھ پائوں قطع کئے اورتمام اعضا کو ٹکڑے
ٹکڑے کیا پھر ایک بڑی آگ روشن کرکے اس کے ناپاک جسم کواس میں ڈال دیا کہ وہ
خاکسترکا ڈھیر ہوگیا۔
منہال کہتاہے کہ میری زبان سے تسبیح وتکبیرجاری ہوئی تومختارنے سوال کیا کہ
اس میں شک نہیں کہ ذکر خداہروقت اچھا لگتاہے لیکن اس وقت تیری زبان پرتسبیح کا
جاری ہوناتعجب کو ظاہرکرتاہے؟ پس منہال نے جواب دیا کہ میں حج کے بعد خدمت امام
زین العابدین ؑ میں حاضرہوا تھا اورامام ؑ کی زبان سے میں نے حرملہ کے متعلق یہ
کلمات سنے تھے لہذا ب امام پاک کی دعا کی مقبولیت پر تعجب کررہاہوں، مختار نے جب
سنا توگھوڑے سے اترکودورکعت نمازاداکی اورسجدہ شکربجالایا، پس ہم دونوں گھوڑوں پر
سوارہوکرپلٹے، جب میرے گھر کے قریب سے گذراہواتومیں نے مختار کوکھانے کی دعوت دی
مختارنے جواب دیا اے منہال تونے مجھے خبردی ہے کہ میرے مولاحضرت امام زین العابدین
ؑنے اس طرح دعافرمائی تھی اورخدانے ان کی دعاکومیرے ہاتھوں پرمستجاب فرمایاہے
لہذامیں اب کس طرح کھانا کھائوں بلکہ میں نے اس نعمت خداوندی کے شکرمیں آج روزہ
کی نیت کرلی ہے، منہال کہتاہے میں نے کہاخداتجھے اورتوفیق دے۔