زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس پر اسلم بن کثیر ازدی کے نام سے سلام وارد ہے۔۔
لیکن کتب رجال اورصحائف تاریخ میں اس کا نام مسلم بن کثیر وارد ہے، لہذا غالب خیال
یہ ہے کہ کاتب کی غلطی سے مسلم کی بجائے اسلم لکھا گیا ہو مروی ہے کہ جنگ جمل میں
ایک تیراس کے پاوں میں لگا تھا جس کی وجہ سے وہ لنگڑا ہوگیا تھا اوراسی لئے مسلم
بن کثیراعرج کے نام سے مشہور ہے اورعسقلانی سے اس کا صحابی رسول ہونا منقول ہے۔۔
یہ بزرگوار حملہ اولیٰ میں شہید ہوا۔
مسلم بن کثیر ازدی صحابی
0 min read