’’کفایۃ
الطالب‘‘ سے منقول ہے کہ اس کی والدہ رملہ بنت سلیل بن عبداللہ بجلی تھی، ابھی
دائرہ بلوغ میں ان کا قدم یہی آیا تھا( بہر کیف یہ شہزادہ دس گیا رہ برس کے لگ
بھگ ہی تھا) جب اپنے عم بزرگوارکو اپنے مقام پرنہ پایا توخیمہ سے نکل کر جلدی سے
میدان کی طرف دوڑا، جناب زینب عالیہ نے کوشش کی کہ اس کوواپس لے آئیں لیکن اس نے
قسم کھا لی کہ میں اپنے چچا بزرگوار سے ہرگز جدانہ ہوں گا، پس وہ حضرت امام حسین ؑ
کی خدمت میں پہنچا، اس طرف ابحربن کعب یاحرملہ ملعون نے امام پاک کو شہید کرنے کے
لئے تلواربلند کی تواس بچے نے اپنے دونوںہاتھ اپنے چچا کے اُوپر ڈھال بنالئے بچے
کے دونو ہاتھ جُداہوگئے! بچہ نے آوازدی جیسے کہ بچوں کا دستور ہے مصیبت کے وقت
باپ سے پہلے ماں کو یاد کرتے ہیں اے مادر گرامی میرے ہاتھ کٹ گئے ہیں پس امام
عالیمقام ؑ نے اس کو اپنی گود میں لیا اوراس کو بہلایا اورفرمایابیٹے ابھی تم اپنے
باپ کی گود میں جاپہنچو گے بس کوئی غم نہ کرو، ابھی امام ؑ بچے کو بہلارہے تھے کہ
حرملہ نے ایک تیرمارا جوبچہ کی گردن میں لگا اوربچہ اپنے چچا کی گود میں خاموش
ہوگیا، جناب زینب عالیہ نے یہ حالت دیکھ کرنالہ وفغاں کیا اور تمام اہل بیت میں
کہرام ماتم بپا ہوا۔
عبداللہ بن حسن اصغر ؑ
1 min read