زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس پر سلام وارد ہے، طبری سے منقو ل کہ مالک بن عبد
اللہ اور سریع (غالباً یہ سیف بن حارث ہے جس کا بیان گزر چکاہے ) یہ دونوں ماں کی
طرف سے بھائی اور باپ کی طرف سے ایک دوسرے کے چچا زاد تھے، ایام صلح میں کربلا
پہنچے اور امام عالیمقام ؑکی فوج میںشامل ہوئے، روز عاشور جب آتش حرب شعلہ زن
ہوئی تو دونوں روتے ہوئے خدمت امام ؑ میں حاضر ہوئے امام ؑ نے فرمایا اے برادر
زادے کیوں روتے ہو؟ تو آنسو بہاتے ہوئے عرض گزار ہوئے ہمارے ماں باپ آپ ؑ پر
نثار ہوں ہم اپنے قتل ہونے کے خوف سے نہیں روتے بلکہ آپ کی غربت وبے کسی ہمیں
رُلا رہی ہے، آپ ؑاس ناہنجار قوم میں گھِر چکے ہیں اور آپ ؑکو ہم ان مصائب سے
چھڑا بھی نہیں سکتے! آپ ؑ نے فرمایا خدا کی قسم ایک گھنٹہ کے بعد تمہاری آنکھیں
نعماتِ ابدیہ سے ٹھنڈی ہوں گی خدا تمہیں اس ہمدردی کی جزائے خیر دے، پس دونوں نے
میدان کا رزار کا رُخ کیا اور آخر کار درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔
مالک بن عبد اللہ بن سریع
1 min read