التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

حر ّ بن یزید ریاحی

21 min read
یہ بزرگوار کوفہ کے سادات شرفأاور روسأمیں سے تھے لیکن حضرت امیرالمومنین ؑ کے دَور میں ان کا کہیں تذکرہ نہیں مل سکا کہ یہ کس جانب تھے؟ بس ان کی تاریخ کا باب اسی جگہ سے شروع ہوتا ہے کہ جب حضرت امام حسین ؑ مکہ سے بسوئے عراق روانہ ہوئے تو ابن زیاد ملعون نے ان کو ایک ہزار سوار کا سپہ سالار مقرر کر کے قادسیہ کی طرف روانہ کیا تاکہ امام حسین ؑ کی کوفہ کی طرف پیش قدمی کو روکا جائے، حضرت امام حسین ؑ جب منزل اشراف سے روانہ ہونے لگے تو بوقت سحر حکم دیا کہ مشکیزوں کو خوب پُر کر لو اور کافی پانی اپنے ساتھ ر کھ لو۔۔ وہاں سے روانہ ہوئے تو دوپہر کے وقت صحابہ سے ایک شخص نے نعرہ تکبیربلند کیا حضرت نے بھی تکبیر کہی پھر پوچھا کہ تیرے تکبیر کہنے کی کیا وجہ ہے؟ اس نے جواب دیا کہ سامنے کھجوروںکا ایک باغ دیکھ رہا ہوں، بنی اسد میں سے ایک شخص نے کہا کہ اس مقام پر ہم نے کبھی کجھور یں نہیں دیکھیں، تو امام ؑنے فرمایا کہ ذرا غور سے دیکھو کہ کیا چیز ہے؟ تو پھر جواب ملا کہ خدا کی قسم یہ تو گھوڑوں کے کان اور نیزوں کے پھل دکھائی دے رہے، تو آپ ؑ نے فرمایا میں بھی یہی کچھ دیکھ رہا ہوں، پھر فرمایا کہ کوئی پناہ کی جگہ ہے جہاں ہم اُتر جائیںاور لڑائی کا رُخ صرف ایک ہی طرف ہوجائے؟ تو اصحاب نے عرض کیا کہ ہماری بائیں جانب ذوخشم موجود ہے، پس آپ ؑ نے گھوڑے کی باگ بائیں طرف موڑ دی اور اصحاب نے بھی کمالِ سرعت سے کام لیا،اس طرف سے دشمن کی فوج کے پہلے حصے بھی قریب آپہنچے تھے لیکن امام ؑ اور ان کے ساتھی وہاں پہلے پہنچ گئے اور خیمے نصب کر لئے، دشمن کی فوج کی قیادت حر ّ کے سپرد تھی اوریہ ساری فوج فولادی لباس میںملبوس اور آلاتِ حرب و ضرب سے مسلح تھی، حر ّ نے امام حسین ؑ کے خیام کے مقابلہ میںخیام لگائے، آپ ؑنے پوچھاتو کون ہے؟ اس نے جواب دیا میں حربن یزید ریاحی ہوں، حضرت نے پوچھا ہمارے موافق یا مخالف؟ جواب دیا بلکہ مخالف، اس منبع فیض و کرم نے حُر کی فوج کے چہروں میں تشنگی کے آثار پائے تو فرمایا کہ ان لوگوں کوبمعہ گھوڑوں کے پانی پلا دو جب لوگ پانی پی چکے تو گھوڑوں کوبھی سیرا ب کیا گیا۔
علی بن طعان محاربی کہتا ہے کہ میں لشکر حر ّ میں سب سے آخر میں پہنچا میرے اُوپر اور میرے گھوڑے کے اُوپر پیاس سخت غالب تھی جب میں پہنچا تو مشکیزوں کے دہانے بند کئے جا چکے تھے، امام ؑ خیمہ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے دیکھ تھے مجھے فرمایا کہ سواری سے اُترو، پس میں نے ایسا ہی کیا۔۔ مجھے پانی دیا گیا لیکن پیاس نے مجھے اس قدربد حواس کر دیا تھا کہ مجھ میں پانی پینے کی طاقت نہ تھی، پس آپ ؑ خود اُٹھے اور بنفس نفیس مشک کو اُٹھا کر مجھے پانی سے سیراب کیا۔
نماز ظہر کا وقت آیا حضرت ؑ نے حجاج بن مسروق کو آذان کا حکم دیا نماز کیلئے صفیں درست ہوئیں حضرت ؑ باہر تشریف لائے اور ایک مختصر سا خطبہ ارشاد فرمایا:
اے لوگو! میں یہاں بن بلائے یہاں نہیں آیا بلکہ تم لوگوں نے متواتر خطوط لکھ کر مجھے اس طرف آنے پر آمادہ کیا ہے اگر تم لوگ ان وعدوں پر کار بند ہو تو ہمیں مطمئن کرو اور اگر پشیمان ہو تو مجھے واپس جانے دو؟
پس حر ّاور اس کے لشکر نے شرمندگی سے کچھ جواب نہ دیا، اقامت پڑھی گئی تو امام ؑ نے حر ّ سے فرمایا کہ تو بے شک اپنے لشکر کے ساتھ علیحدہ نماز پڑھ، لیکن حر ّنے جواب دیا ہم آپ ؑکی اقتدا میں پڑھیںگے، پس حضرت ؑآگے کھڑے ہوئے اور دونوں لشکروں نے پیچھے کھڑے ہو کر نماز ادا کی، گرمی اس قدر تیز تھی کہ دونوں لشکر اپنے اپنے گھوڑوں کی لگامیں تھام کر ان کے سایہ میںبیٹھے تھے، پھر نماز عصر حضرت ؑ نے دونوں لشکروں کو پڑھائی اور حر ّ کے لشکر کی طرف مخاطب ہوکر مثل سابق ایک مختصر سی تقریر فرمائی۔۔۔ حر ّنے عرض کیا ہمیں خدا کی قسم آپ ؑ کے خطوط کا کوئی پتہ نہیں، پس آپ ؑنے عقبہ بن سمعان سے فرمایا کہ تھیلا لے آئو چنانچہ وہ لایا اور آپ ؑنے حر ّ کے سامنے سب خطوط نکال کر رکھ دئیے، حر ّ نے جواب دیا میں ان خطوط کے لکھنے والوں میں سے نہیں ہوں، مجھے تو اس لئے بھیجا گیا ہے کہ میں آپ ؑ کو جہاں پائو ں ابن زیاد کے پاس لے جائوں، آپ ؑنے غصہ میں آکر اپنے اصحاب سے فرمایا اُٹھواور سوار ہو جائو اور عورتوں بچوں کو محملوں میں سوار کر لو تاکہ واپس چلے جائیں، اُدھر حر ّ کے لشکر نے سامنے صف بستہ ہو کر راستہ روک لیا، آپ ؑ نے حر ّسے فرمایا تیری ماں تیرے ماتم میں سو گوار ہو تو میرے ساتھ کیوںاُلجھتا ہے؟ حر ّنے جواب دیا اگر آپ ؑ کے بغیر کوئی دوسرا عرب میری ماں کا نام لیتا تو میں اس کی ماں کا نام بھی ضرور لیتا، لیکن خدا کی قسم آپ ؑکی ماں وہ ہے جس کا بغیر درود و سلام کے نام لینا مناسب نہیں۔
آپ ؑنے فرمایا مجھ سے کیا چاہتا ہے؟ تو جواب دیا کہ ابن زیاد کے پاس لے جائوں گا، آپ ؑ نے فرمایا یہ تو نہیں ہو سکتا حر ّنے کہا اس کے بغیر میں بھی نہ چھوڑوں گا۔۔ تین تین دفعہ یہ کلمات دہرائے گئے جب بات نے طول کھینچا تو حر ّنے کہا مجھے لڑنے کا حکم نہیں بلکہ صرف یہ کہ آپ ؑکے ہمراہ رہوں، اگر آپ ؑ کوفہ نہیں جاتے تو پھر کوفہ اور مدینہ کے درمیان کا راستہ اختیار فرمائیے۔۔ پھر میںابن زیاد کو اطلاع دوں گا ممکن ہے کوئی اچھی صورت پیدا ہو جائے پس اسی پر اتفاق ہوا اور روانہ ہوئے۔
یہاں سے عذیب تک ۳۸میل فاصلہ تھا بائیں جانب سب لق و دق جنگل ہی جنگل تھا آ پ ؑ نے صحابہ سے فرمایا کوئی ہے جوراستہ سے الگ ہو کر ہمیں منزل مقصود تک لے جائے؟ طرما ح نے عرض کیا آقا میں راہ بے راہ خوب جانتا ہوں، پس امام ؑ نے اس کو آگے چلنے کا حکم دیاساری رات سفر ہوتا رہا نماز صبح کے وقت مقام بیضہ پر پہنچے جو بنی دار م کی آبادی تھی پس وہاں نماز صبح پڑھی گئی اور مروی ہے کہ یہاں پھر آپ ؑ نے ایک خطبہ دیا جس میں بنی امیہ کی دین فروشی اور اسلام دشمنی پر تبصرہ فرمایا ااور اپنا استحقاقِ خلافت بھی بیان کیا اور کوفیوں کے خطوط اورد عوت ناموںکا ذکر فرماتے ہوئے ا رشاد فرمایا:
اگر تم میری بیعت پر ثابت قدم اور وفادار ہو تو خوب اور اگر عہد شکنی کر چکے ہو اور بیعت کو توڑ چکے ہوتو یہ بات تم سے غیر متوقع بھی نہیں کیونکہ تم اس سے پہلے میرے باپ اور بھائی کے ساتھ بھی یہ سلوک کر چکے ہو!
حر ّ نے جب یہ خطبہ سنا تو اس کو قدرے سر ہو ش آئی خدمت اقدس میں پہنچا اور عرض کیا اے فرزند رسول! خدا کو گواہ کر کے میں آپ کو سچی بات کہتا ہوں کہ اگر آپ ؑ ان لوگوں سے ایسی بات کریں گے تو بلاشک قتل ہو ںگے، آپ ؑ نے فرمایا:
اے حُر کیا تو مجھے موت سے ڈراتا ہے؟ لیکن یاد رکھ میرے قتل کے بعد تم لوگ آسودہ حال نہ ہوگے بلکہ تم کو عذابِ دردناک میں مبتلا ہونا پڑے گا، پھر فرمایا میں اسی نیّت پر جا رہا ہوں کیو نکہ جو ان مرد پر ایسی موت باعث ننگ نہیں جو نیک نیتی سے راہ حق میں پیش آئے ا ور ایسی موت جو مجاہد کو دین اسلام کیلئے جہاد میں پیش آئے اور ایسی موت جو نیک انسانوں کی ہمدردی کے راستہ میں آجائے اور ایسی موت جو بدکاریوں سے کنارہ کشی کی صور ت میں آجائے دریں صور ت ا گر زندہ رہوں گا تو پشیمان نہ ہوں گا اور اگر مرجائوں گا تو حسرت نہ رہے گی۔
حُر حضرت امام حسین ؑ کے ہمراہ سفر کر رہا تھا کہ کوفہ کی طرف سے ایک تیزرو قاصد آپہنچا جس نے حُر کو سلام کیااور امام حسین ؑ کو سلام نہ کیا! اس کے پاس حُر کے نام ابن زیاد کا ایک خط تھا جس میںمرقوم تھا کہ میرا یہ آرڈر تجھے جہاں پہنچے امام حسین ؑ کو آگے جانے کی بالکل مہلت نہ دو اور ایک سنسان اور غیر آباد جنگل میں انہیں اُترنے پر مجبو رکرو، حُر وہ خط اما م ؑ کی خدمت میں خود لایا اور کہا کہ ابن زیاد کا قاصدیہ خط لایا ہے اور وہ خود ہمارے اُوپر نگران ہے کہ ابن زیاد کے فرمودہ پر عمل ہوتاہے یا نہیں؟ اور وہ واپس جا کر ابن زیاد کو اطلاع دے گا۔۔۔۔۔ آخر کار آپ ؑ زمین کربلا میں فروکش ہوئے اور حُر کا لشکر بالمقابل خیمہ زن ہوا۔
حُر ّ کی توبہ
عبیداللہ بن زیاد کی طرف سے عمر بن سعد بھی ایک لشکر کے ساتھ وارد کربلا ہوا اور پھر یکے بعد دیگرے لشکر پہنچتے رہے، ابن سعد نے حر ّ کو تمیم اور ہمدان کے1/4 حصہ پر افسر مقرر کر دیا، آخر کار جب عمر بن سعد نے امام حسین ؑ کی تمام شروط کو ٹھکرا دیا تو حُر نہایت غمزدہ ہو کر ابن سعد کے پاس پہنچا اور کہا کہ کیا تم لوگ حسین ؑ سے جنگ کرو گے تو ابن سعد نے جواب دیا ضرور کریں گے، حُر نے کہا کیا حسین ؑ کی کوئی خواہش قبول نہیں کی جا سکتی تاکہ معاملہ صلح پر ختم ہو جائے؟ ابن سعد نے جواب دیا اگر میرے بس کی بات ہوتی تو ضرور میں ایسا کر لیتا لیکن ابن زیاد راضی نہیں ہوتا۔
حُر شکستہ خاطر واپس اپنے ٹھکانے پر پہنچا۔۔ قرہ بن قیس جو حر ّ کے قبیلہ کا ایک آدمی ہے کہتا ہے حر ّ نے مجھ سے دریافت کیا کہ تو اپنے گھوڑے کو پانی دے چکا ہے؟ میں نے کہا ہاں!  تو حر ّ نے کہا کہ بس اب گھوڑے کو پانی نہ پلائو گے۔۔ قرہ کہتا ہے کہ حُر کی یہ بات سن کر میں سمجھ گیا کہ حُر لڑائی سے گریز کر رہا ہے لیکن ہمیں اپنے راز سے آگاہ نہ کیا ورنہ میں ضرور اس کے ہمراہ امام حسین ؑ کی خدمت میں چلا جاتا۔
حُرنے اپنی جگہ کو تھوڑا تھوڑا چھوڑنا شروع کر دیا کہ امام حسین ؑ کی طرف نزدیک ہوتا جاتا تھا، مہاجرینِ اوس نے پوچھا حُر کیا ارادہ ہے؟ کیا حملہ کرنے کی نیت ہے؟ تو جواب نہ دیا اور حُر کے تمام بدن پر کپکپی اور لرزہ طاری تھا، پھر مہاجر نے کہا اے حُر مجھے تیرے اُوپر شک ہو رہا ہے۔۔ خدا کی قسم میں نے کسی جنگ میں تیری یہ حالت نہیں دیکھی اور اگر مجھ سے کوئی شخص دریافت کرتا تھا کہ کوفہ کا شجاع ترین انسان کون ہے؟ تو میں تیرا نام لیا کرتا تھا۔۔۔ بتائو جسم پر یہ لرزہ اور کپکپی کیسی ہے؟ حُر نے جواب دیا کہ میں اپنے آپ کو بہشت اور دوزخ کے درمیان دیکھ رہا ہوں اور خدا کی قسم اگر پارہ پارہ ہو جائوں اور آگ میں جلایا جائوں تو بہشت سے کنارہ نہ کروں گا۔۔۔ پس گھوڑے کو تیز کر کے درِجنت پر پہنچا، حُر کا سمند گھوڑا تازیانہ کا اشارہ پا کر ہوا سے باتیں کرتا ہوا ساقی کوثر کے قدموں میں پہنچا۔
ابن طائوس سے منقول ہے کہ اس وقت حر ّ کی آنکھیں برس رہی تھیں دونوں ہاتھ سر پر دھرے تھے اور منہ آسمان کی طرف کر کے عرض کر رہا تھا اے پروردگار! میں تیری طرف پلٹ آیا ہوں میری توبہ کو قبول فرما کیونکہ میں تیرے اولیا ٔ کے دل اور تیرے پیغمبر کی ذرّیت کے جگر کو آزردہ کر چکا ہوں۔۔ خدمت عالیہ میں پہنچا اور سلام کیا۔۔ بعض روایات میں ہے کہ زمین پر اَوندھے منہ گر گیا اور قدموں کی زمین کو بوسہ دیا اور منہ خاک پر رکھ لیا، آپؑ نے فرمایا ذرا سر اُٹھا تو سہی دیکھوں تو کون ہے؟ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شرمندگی سے سر اور منہ لپیٹے ہوئے تھے اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حُر کا بیٹا بھی حُر کے ساتھ تھا۔
عرض کرنے لگا حضور!  میرے باپ اور ماں آپ ؑ پر فدا ہوں میں حُر بن یزید ریاحی ہوں۔۔ میں وہی ہوں جس نے مدینہ کی طرف جانے سے آپؑ کو روکا اور آپؑ کو مجبور کر کے یہاں لایا اور آپؑ کو کسی پناہ کی جگہ پر جانے نہ دیا اور پھر سختی سے آپؑ کو اس جگہ پر اُترنے کو کہا۔۔۔۔ خدا کی قسم مجھے گمان تک نہ تھا کہ یہ لوگ آپؑ کی امن کی خواہش کو ردّ کر دیں گے اگر مجھے پہلے سے معلوم ہوتا تو ہرگز یہ غلطی مجھ سے صادر نہ ہوتی۔۔۔ اب توبہ کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں اور اپنی جان کو فدیہ کر کے لایا ہوں کیا میری توبہ قبول ہو سکے گی؟ آپ ؑ نے فرمایا بے شک خدا توبہ قبول کرنے والا ہے۔۔ حُر خوشخبری سن کر خوش ہوا اور سر کو زمین سے بلند کیا۔
پھر گھوڑے پر سوار ہو گیا۔۔ امام ؑ نے فرمایا گھوڑے سے اُتر کر آرام کر لو۔۔ تو حُر نے جواب دیا میرا گھوڑے پر رہنا میرے پیدل ہونے سے آپؑ کو زیادہ نفع دے گا لہذا مجھے معاف فرمائیے۔۔۔ آپ ؑ نے فرمایا جیسا تجھے مناسب معلوم ہو کرو، حر ّ نے عرض کیا اے فرزند رسول ؐ!  جب میں کوفہ سے نکلا تو میرے کان میں آواز پہنچی اے حُر تجھے جنت کی خوشخبری ہو میں دل میں سوچتا تھا کہ فرزندرسولؐ سے لڑنے جا رہا ہوں اور پھر بشارتِ جنت! یہ ناممکن ہے اب میں اس کا مطلب سمجھا ہوں کہ وہ بشارت درست تھی۔۔ امام ؑ نے فرمایا وہ حضرت خضر ؑ پیغمبر تھے جنہوں نے تجھ کو جنت کی بشارت دی تھی۔
بعض کتب میں ہے کہ حُر نے عرض کیا آقا!  گذشتہ شب میں نے اپنے والد کی خواب میں زیارت کی۔۔ انہوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ تو ان دنوں کہاں تھا؟ تو میں نے جواب دیا کہ فرزند رسول کا راستہ روکنے کے لئے گیا تھا، تو میرے باپ نے فریاد کی اور فرمایا بیٹا تجھے فرزند رسولؐ کے راستہ روکنے سے کیا واسطہ؟ ہاں اگر ہمیشہ کے لئے جہنم خریدنا چاہتا ہے تو بیشک حسین ؑ کے ساتھ جنگ کرو۔۔۔ اور اگر بروز قیامت رسول کی شفاعت چاہتا ہے تو جا کر ان کی نصرت کرو اور اس کے دشمنوں سے جہاد کرو، یہ کہہ کر گھوڑے کو جولان دیا اور فوجِ اشقیا کے سامنے جا کھڑا ہوا اور فرمایا اے قوم! کیا تم حسین ؑ کی کسی بات کو نہیں مانتے ہو تاکہ خدا تم کو بروز قیامت اس جنگ کے انجام سے محفوظ رکھے!
انہوں نے جواب دیا کہ عمربن سعد جو فیصلہ کرے گا وہی قابل قبول ہو گا۔۔ پس عمر بن سعد کے پاس جا کر حر ّ نے انہی باتوں کا اعادہ کیا۔۔ عمر سعد نے جواب دیا کہ میں نے اس معاملہ میں بہت کچھ سوچ و بچار کی ہے اگر مجھے کوئی اور راستہ مل سکتا تو ضرور اس پر عمل کرتا۔۔۔ پس حر ّ نے غصہ سے عمرسعد کے ساتھ دوبارہ بات نہ کی اور فوجِ اشقیا کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا کہ تمہاری مائیں تمہارا ماتم کریں اس مرد صالح یعنی امام حسین ؑ کو تم نے خود دعوت دی جب وہ تمہاری دعوت کو مان کر تشریف لائے تو تم ان سے دور ہو گئے اور ان کے دشمنوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر لیا! حالانکہ تم ان کے ساتھ عہد و پیمان کر چکے ہو کہ ہم آپ ؑ کی نصرت میں جان و مال قربان کریں گے!
اب عذر کر کے اس کے قتل کے درپے ہو؟ اور اس کے سامنے راہ مسدود کر کے کسی اور جگہ بھی نہیں جانے دیتے! یہ پانی جس کو کتے۔۔ سور۔۔ یہود و نصاریٰ اور مجوس تک استعمال کر رہے ہیں! حسین ؑ اور اس کی اہل بیت ؑ و اصحاب پر تم نے بند کر دیا ہے؟ کہ وہ پیاس کے مارے جان بلب ہیں تم کیسی اُمت ہو کہ اپنے رسول کی ذرّیت سے یہ سلوک کر رہے ہو؟ خدا تمہیں بروز قیامت سیراب نہ کرے اگر بے توبہ مر جائو۔
حُر نے جب یہ کلام کیا تو انہوں نے اس کا جواب تیروں سے دیا، پس حُر واپس آگیا۔۔۔ اس وقت ابن سعد خیمہ سے باہر نکلا اور اپنے غلام دُرید سے کہا کہ علَم فوج اُٹھا کر آگے بڑھو اور خود ایک تیرکمان میں رکھ کر خیام حسین ؑ کی طرف مارا۔۔ اور کہا اے لوگو! گواہ رہنا کہ میں پہلا شخص ہوں جس نے خیام حسینی کی طرف پہلے تیر مارا ہے۔
مبارزۂ حُرّ
یہ سن کر غیرت حُر جوش میں آئی۔۔ طبیعت میں تاب ضبط باقی نہ رہی۔۔ عرض کیا اے فرزند رسولؐ میں ہی وہ شخص ہوں جو پہلے پہل حضور ؑ کے سامنے بے ادب ہوا، اب میں چاہتا ہوں کہ میں ہی پہلا شخص بنوں جو آپ ؑ پر جان فدا کرے تاکہ سب سے پہلے سرخرو ہو کر روزِ محشر خدا سے مصافحہ کروں۔۔ حُر کو اجازت ملی اور شیر غضبناک کی طرح میدان کارزار کی طرف لپکا اور چند اشعار پڑھے جن کا مقصد یہ ہے:
میں نے قسم کھالی ہے کہ اس وقت تک میں قتل نہ ہوں گا جب تک کہ دُشمنان خدا کو قتل نہ کر لوں اور آج کے دن تمام زخم سینہ پر ہی لوں گا، میں ان کو تلوار شرربار سے ناقابل اصلاح زخم لگائوں گا نہ ان کے قتل سے مجھے سستی لاحق ہو گی اور نہ ہراس۔۔۔ میں اپنے مولاحسین ؑ کی حفاظت کی خاطر سب کچھ کروں گا اس سے کوئی چیز مجھے نہیں روک سکتی اور نہ اس سلسلہ میں مجھے کسی قیمت پر خریدا جا سکتا۔
پس بادِ عاصف اور برقِ خاطف کی طرح لشکر ِاعدا پر حملہ آور ہوا اور رجزیہ اشعار بھی پڑھتا تھا جن کا مقصد یہ ہے کہ:
میں وہ حُر ہوں جو مہمانوں کی جائے پناہ تھا میں تلوار سے تمہاری گردنیں اُ ڑادوں گا اور زمین مکہ ومنیٰ پر نازل ہونے والے لوگوں میں بہترین انسان کی طرفداری میں تمہیں تلوار کا ذائقہ چکھائوں گا اور اس میں مجھے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔
حُر نے میدان کارزار میں وہ دادِ شجاعت دی کہ آزمودہ کارانِ حرب و ضرب کے حوصلے پست کر دئیے اور اتنی شدت سے حملہ کیا کہ فوجِ اشقیا پر جان کے لالے پڑ گئے۔۔ زخموں کی کثرت سے حُر کے گھوڑے کی کنپٹیوں سے خون کی دھاریں جاری تھیں کسی بدنہاد کو حُر کے سامنے آنے کا یارانہ تھا۔۔ حصین بن تمیم نے یزید بن سفیان نامی ایک شخص کو پکار کر کہا دیکھ یہ وہی حُر ہے جس کے قتل کی تیرے دل میں خواہش تھی اب اس کے سامنے میدان میں کیوں نہیں جاتا؟ اس بے غیرت نے جوش کھا کر ہاں میں جواب دیا۔۔۔ جب حسین ؑ کے لشکر میں حُر کے ملنے کی اطلاع اس کو ملی تھی تو اس نے کہا تھا کہ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ حُر حسین ؑ کی فوج کی طرف جا رہا ہے تو ایک تیر سے اس کا کام تمام کر دیا ہوتا۔۔۔ حصین نے اب اس کو وہی بات یاد دلائی پس یزید بن سفیان گھوڑا دوڑا کر حُر کے مقابلہ میں آیا اور کہا کہ اے حُر آیا مجھ سے لڑنے کی تجھے خواہش ہے؟ حُر نے جواب دیا کہ ضرور پس لڑائی شروع ہوئی تو حصین بن تمیم کہتا ہے خداکی قسم ایسا ہی معلوم ہوا کہ یزید بن سفیان کی موت حُر کے ہاتھ میں تھی پس چشم زدن میں ہی حُر نے اُس کو واصل جہنم کیا۔
’’ناسخ‘‘ سے منقول ہے کہ حُر کی شجاعت سے عمر بن سعد گھبرا گیا اس نے صفوان بن حنظلہ کو بلایا جو شجاعت و دلیری میں پورے لشکر میں شہرت رکھتا تھا اور کہا کہ تجھے ہی حُر کے مقابلہ میں جانا چاہیے لیکن پہلے اس کے غیظ و غضب کو اپنی نصیحت آمیز باتوں سے ٹھنڈا کرنا۔۔ اگر نہ مانے تو اس کے سر کو تن سے جدا کر دینا۔۔ عمر بن سعد کی یہ بات سن کر صفوان پورے ہتھیار لگا کر میدان میں حُرکے سامنے پہنچا اور کہنے لگا اے حُر تو نے ناسپاسی کی ہے کہ یزید خلیفہ کی اطاعت سے کنارہ کش ہو گیا ہے اور حسین ؑ کے ساتھ جا ملے، حُر نے جواب دیا اے صفوان! تو مجھے دانا معلوم ہوتا ہے لیکن تعجب ہے کہ تو مجھے یہ کہتا ہے کہ حسین ؑ کو چھوڑ کر شرابی اور بدمعاش یزید کا طرفدار ہو جائوں؟ صفوان نے غصے سے بھرپور ہو کر حُرپر نیزے کا وار کیا حُر نے اس کا وار ردّ کر کے اس کے سینہ پُر کینہ پر ایسا نیزہ مارا کہ اس کی پشت سے جا نکلا، صفوان کو مقتول دیکھ کر اس کے تین بھائی شجاعت و شہامت میں سب ایک جیسے تھے اپنے بھائی کی موت سے بدحواس ہو کر انتقام لینے کے لئے یکبارگی حملہ آور ہوئے، حُر نے ان کے آتے ہی ایک کی کمر میں ہاتھ ڈالا اور اس کو گھوڑے کی زین سے کھینچ کر ایسے زور سے زمین پر مارا کہ اس کی ہڈیاں چور ہو گئیں اور راہی جہنم ہوا اور دوسرے کو تلوار سے دو ٹکڑے کر دیا اور تیسرے نے بھاگنے میں ہی اپنی بھلائی سمجھی اور بچ نکلنے کی کوشش کی لیکن حُرنے سبقت کر کے اس کی پشت پر نیزہ مارا اور وہ بھی اپنے بھائیوں کے ساتھ دربانِ دوزخ کا مہمان جا ہوا۔
حُر نے پھر نیام سے تلوار نکالی اور شعلہ نار بن کر لشکر کفار پر حملہ آور ہوا اور اس طرح جنگ کی کہ دشمنانِ دین پر عرصہ حیات تنگ کر دیا۔۔ سروں کو جسموں سے اُڑاتا ہوا گھوڑے کے نیچے روندتا۔۔ پچھاڑتا ہوا جس طرف سے گذرتا تھا کسی کو تابِ مقاومت نہ رہتی تھی کہ اس کی پیش قدمی کو روک سکتا۔۔۔ اب سوائے مکر و فریب کے حُر کو مغلوب کرنے کی ان کے پاس کوئی دوسری صورت نہ تھی۔
ایوب بن مسرح کہتا ہے کہ میں نے حُر کے سمند گھوڑے کو میدان میں جولانی کرتے ہوئے دیکھا تو ایک تیر کس کر اس طرح زور سے مارا کہ حُر کے گھوڑے کے شکم میں جا لگا۔۔۔ گھوڑا پیچ و تاب کھا کر گرا تو حُربھی خانہ زین سے زمین پر جا پہنچا، لیکن فوراً جان سنبھال کر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا ابھی شیر کے ہاتھ میں تلوار موجود ہے اگر گھوڑے سے گر گیا ہوں تو پرواہ نہیں کیونکہ نسب سے نہیں گرا ہوں اگرچہ تم نے میرے گھوڑے کوناکارہ کر دیا ہے لیکن میں وہ جواں مرد ہوں کہ شجاعت اپنے باپ سے ورثہ میں پائی ہے جو ہمارے خون میں رَچی ہوئی ہے اور ہماری شجاعت گھوڑے کی مرہونِ منت نہیں بلکہ وہ تو ہمارے رگ و پے میں خون کی طرح جاری ہے۔
سید ابن طائوس سے منقول ہے کہ حُر نے شجاعت کے خوب جوہر دکھائے اور قوم اشقیا میں سے چیدہ چیدہ بہادروں کو تہِ تیغ کیا جب اسّی بدکردار کفار کو جو شجاعت کا دم بھرتے تھے فی النار کر چکا تو ابن سعد نے فوج میں آواز دی کہ حُر کو تم اس طرح زیر نہ کر سکو گے بلکہ یکبارگی اس پر تیروں کی بوچھاڑ کرو۔۔۔ چنانچہ ہر طرف سے تیراندازوں نے تیربارانی شروع کی۔۔۔ اور حُر کو اس قدر تیر لگے کہ کوئی جگہ جسم کی خالی نہ رہی حُر نے جب یہ دیکھا تو غیرت کے مارے آنکھوں سے آنسو نکلے اور پھر بھی لڑائی سے جی نہ ہارا آخر کار تاب نہ لا کر زمین پر گرا اصحاب حسین ؑ فوراً پہنچے اور حُر کی لاش کو اُٹھا لائے، امام پاک نے حُر کے چہرہ سے بنفس نفیس خون صاف کیا اور فرمایا خدا کی قسم تیری ماں نے تیرا نام حُر غلط نہیں رکھا بلکہ تو دنیا و آخرت میں حُر ہے اور پھر حُر کی لاش پر خوب روئے اور اس کے لئے استغفار بھی کیا اور معصوم ؑ نے حُرکے متعلق یہ اشعار بطور مرثیہ کے کہے:
لَنِعْمَ الْحُرّ حُرُّ بَنِی الرِّیَاحِ
صَبُوْرٍعِنْدَ مُشْتَبَکِ الرِّمَاحِ
بہترین حُر ہے حُر بنی ریاح جو پے در پے نیزوں کے پڑنے پر صابر رہا۔
وَ نِعْمَ الْحُرّ اِذْ نَادیٰ حُسَیْناً
فَجَادَ بِنَفْسِہٖ عِنْدَ الصَّبَاحِ
البتہ بہترین حُر ہے جس نے حسین ؑ کو پکارا اور پہلے پہل اپنی جان کو قربان کیا۔
وَ نِعْمَ الْحُرّ فِیْ رَھْجِ الْمَنَایَا
اِذِ الْاِبْطَالُ تَخْفَقُ بِالصَّفَاحِ
بہترین حُر تھا موتوں کے غبار میں جب کہ بہادروں کے دل کانپ جایا کرتے ہیں۔
وَ نِعْمَ الْحُرّ اِذْ وَاسٰی حُسَیْنًا
وَ فَازَ بِالْہِدَایَۃِ وَ الْفَلاحِ
بہترین حُر تھا جب کہ حسین ؑ کی نصرت کی اور ہدایت و کامرانی پر فائز ہوا۔
فَیَا رَبِّ اَضِفْہُ فِیْ جِنَانٍ
وَ زَوِّجْہُ مَعَ الْحُوْرِ الْمَلاحِ
اے پروردگار جنت میں حُر کو مہمان کر اور خوبصورت حُوروں کو اس کی زوجیت عطا کر۔
بعض علمائے اکابر کا یہ نظریہ ہے کہ حُرجہاں شہید ہوا ہے وہیں دفن بھی ہوا ہے لیکن آقا ذبیح محلاتی فرماتے ہیں کہ حُر کی لاش کو اصحابِ حسین ؑ وہاں سے اُٹھا کر لے گئے تھے اور حُر کی آرامگاہ اِس وقت کربلا سے تقریباً تین میل کے فاصلہ پر ہے، اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ لاشوں کی پامالی کے وقت حُر کا قبیلہ لاش کو اُٹھا کر وہاں لے گیا تھا جہاں اُن کے خیام تھے اور پھر وہیں دفن کر دیا گیا۔
حُر کی قبر کا وہاں ہونا جس جگہ موجودہ زیارت گاہ بنی ہوئی ہے اس کی مزید تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے، جیسا کہ انوار نعمانیہ و دیگر کتب تاریخ سے منقول ہے کہ جب شاہ اسمٰعیل صفوی نے بغداد کو فتح کیا اور عتباتِ عالیات کی زیارت سے مشرف ہوا تو کربلا میں حضرت سید الشہدأ کی زیارت سے فارغ ہو کر حُرکی قبر کا رُخ کیا لیکن سنا کہ لوگ حُر کے بارے میں چہ میگوئیاں کرتے ہیں اور لوگوں کے دلوں میں شبہ ڈالتے ہیں کہ حُر کی توبہ قبول نہیں ہو سکتی۔۔ شاہ اسمٰعیل نے حکم دیا کہ چونکہ شہید کا بدن بوسیدہ نہیں ہوا کرتا لہذا یہ شک ابھی دور کیا جا سکتا ہے پس قبر کھودی جائے جب قبر کھودی گئی دیکھا تو حُرکا بدن تروتازہ اور اپنے مرقد میں اس طرح محو خواب تھا جس طرح تازہ شہید ہوا ہو، اس کی لاش خون سے آلودہ تھی اور پیشانی پر رومال بندھا ہوا تھا شاہ نے کہا غالباً یہ رومال مولا حسین ؑ نے ہی باندھا تھا اس کو کھول کر مجھے دو تاکہ بطورِ تبرک اس کو اپنے پاس رکھوں لیکن جب رومال کھولا گیا تو تازہ خون جاری ہوا دوسرا رومال باندھا گیا لیکن خون نہ رکا جب دوبارہ وہی رومال باندھا گیا تو خون فوراً رُک گیا پس لوگوں کا شک ختم ہوگیا اور اس کا خاتمہ بالخیر معلوم ہو گیا۔۔۔ پھر شاہ اسمٰعیل نے اس قبر پر روضہ تعمیر کرنے کا حکم دیا اور خدّام بھی مقرر کیا۔