التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

سوید بن عمرو

1 min read
زیارتِ رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے۔۔۔ یہ بزرگ سن رسیدہ اور نہایت عبادت گزار تھا، متعدد جنگوں میں حاضر ہو کر کافی تجربہ رکھتا تھا، اپنے دور میں شجاعت کے لحاظ سے بے نظیر تھا، روز عاشور جب بشر بن عمرو حضرمی کی شہادت ہو چکی تو یہ میدان کی طرف بڑھا اور آخر کار زخمی ہو کر گر گیا، لوگوں نے اس کو مقتول سمجھ کر چھوڑ دیا تھا جب امام حسین ؑ کے قتل کی آوازیں بلند ہوئیں تو اس نے ہوش سنبھالا لیکن دشمن چونکہ اس کی تلوار لے چکے تھے اس کے پاس ایک چھُری موجود تھی جس کو چھپائے ہوئے تھا پس وہ چھُری ہاتھ میں لے کر مشغول جنگ ہوا۔۔ بہت سے لوگ اس پر ٹوٹ پڑے بالآخر عروہ بن بکار تغلبی اور زید بن ورقأ جہنی نے اس کو شہید کیا۔