التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

یزید بن مغفل صحابی

1 min read


ابن حجر عسقلانی سے ’’اصابہ‘‘ میں منقول ہے کہ یزید بن مغفل بن عوف بن عمیر بن کلیب بن ذہل بن سیاربن بستہ بن وئل بن سعد بن عامر بن جعف بن سعد العشیرہ مدحجی جعفی صحابہ رسو ل میں سے تھا، یہ اوراس کا بھائی زہیربن مغفل خلافت ثانیہ کے زمانہ میں جنگ قادسیہ میں شریک تھے۔
علامہ سماوی کی ’’ابصارالعین‘‘ سے منقول ہے کہ یہ شخص نامی بہادروں میں سے تھا اورحیدر کرار کے شیعانِ خصوصی میں اس کا شمار تھا، نیز فن شعار گوئی میں بھی اس کو کا فی دسترس حاصل تھی، جنگ صفین میں حضرت امیر ؑ کی رکاب فخرانتساب میں موجود تھا اورحضرت امیر ؑ نے خریت بن راشد خارجی کے مقابلہ میں بھی اس کو بھیجا تھا اوراس نے اس کو واصل جہنم کیا تھا۔
یزید بن مغفل مکہ سے امام ؑکے ہمراہ آیا تھا، روز عاشور صرصر عاصف کی طرح دشمنان حسین ؑ پرحملہ آور ہوا اورباوجود سن رسید گی کے بیس سے زیادہ ملاعین کو تہِ تیغ کیا اورایسی جنگ کی جس کی نظیر نہیں ملتی ااور آخر کا ر درجہ شہادت پر فائز ہوا۔