اس کانام یزید بن زیاد بن مہاجر ہے اور قبیلہ کندہ کا فردِ فرید ہے،
شہسواری اور فن تیر اندازی میں اپنی آپ نظیر تھا اور اپنے دور کا عالم اور محدث
تھا۔۔۔ علاوہ بریں نہایت شریف، مردِ میدان اور دلیر تھا۔
قبل اس کے کہ لڑائی کی نوبت حضرت سید الشہدأ تک پہنچے۔۔۔تلوار میان سے
نکال کر دشمنان دین پر حملہ آور ہوا جب اس کے گھوڑے کے پیر کاٹ دئیے گئے تو امام
پاک کے سامنے دو زانو ہو کر بیٹھ گیا اور تیراندازی شروع کی، ان کے سامنے ترکش میں
ایک سو تیر تھے اور سوائے پانچ تیروں کے سب نشانہ پر لگے۔
زیارت ناحیۂ مقدسہ میں حضرت قائم آل محمد نے اس پر بھی نام لے کر سلام
کیا۔۔۔ جب یہ شخص تیر مارتا تھا تو امام عالیمقام ؑ اس کو دعا فرماتے تھے اور صرف
تیروں سے ہی پانچ ملاعین کو فی النار کیا اور اس کے کل مقتولین کی تعداد چالیس سے
کچھ اوپر بیان کی گئی ہے۔۔ آخر کار درجہ شہادت پر فائز ہوا۔