التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

شمربن ذی الجوشن لعنہٗ اللہ

2 min read
یہ انسان نماکتایک چشم اورمبروص تھا اوراس کے بال مثل خنزیر کے بالوں کے تھے، جب بروز عاشور حضرت سیدالشہدأ کے سینہ پر سوارہوا توامام مظلوم ؑ نے آنکھ کھولی اورفرمایا تو کون ہے؟ جواس بلند مقام پر سوارہوا ہے جو پیغمبر کی بوسہ گا ہ ہے؟ کہنے لگا میں شمر بن ذی الجوشن ضبابی ہوں، آپ ؑ نے فرمایا کیا تومجھے پہچانتا بھی ہے؟ تواس نے جواب دیا خوب پہچانتاہوں توحسین ؑبن علی ہے۔۔ تیری والدہ ماجدہ جناب فاطمہ زہراؑ۔۔ ناناحضرت محمد مصطفیٰ اورنانی خدیجہ الکبریٰ ہیں، امام مظلوم ؑ نے فرمایا تیرے اوپر وائے ہوجب مجھے اتناپہچانتا ہے توپھر مجھے قتل کیوں کرتا ہے؟ اس نے جواب دیا یزید کے انعام واکرام کی خاطر؟ آپ ؑ نے فرمایا یزید کا انعام تجھے زیادہ پسند ہے یابروزمحشرمیرے ناناکی شفاعت؟ تواس بدباطن نے نہایت دریدہ دَ  ہنی سے جواب دیا کہ مجھے یزید کا انعام تیرے نانا اورباباکی شفاعت سے بدرجہامحبوب ہے! امام مظلوم ؑ نے فرمایااب جب کہ تومیرے قتل کے ارادہ سے باز نہیں آتاتومجھے ایک گھونٹ پانی پلادے؟ شمر نے کہا یہ نہیں ہوسکتابلکہ تجھے پیاساہی ساغر موت پینا ہوگا! اے ابوتراب کے فرزندہ تمہارا تودعویٰ ہے کہ میراباپ علی ؑ ساقی کوثر ہے اور جو بھی اس کی وِلا رکھتاہووہ اس کوکوثر سے سیراب کرتاہے پس صبر کیجئے اوراپنے باپ کے ہاتھوں اب کوثرپیجئے؟
امام مظلوم ؑ نے فرمایا اپنے چہرہ شوم سے نقاب کوہٹاتاکہ تجھے دیکھو ں، پس اس نے اپنے منہ سے نقاب ہٹایا تو آپ ؑ نے فرمایا  صَدَقَ جَدّیْ رَسُوْل اللّٰہ  یعنی میرے ناناحضرت رسولؐ خدانے سچ فرمایا تھا شمر نے پوچھا انہوں نے کیا فرمایا تھا؟ آپ ؑ نے فرمایامیرے بابانے میرے والد ماجد حضرت علی ؑ سے فرمایاتھا کہ تیرے اس فرزند کوایک انسان نما سگ جومبروص اوریک چشم ہوگا اوراس کے بدن پر خنزیر کی طرح بال ہوں گے قتل کرے گا، شمر کویہ سن کرغصہ آیا اورکہنے لگا اگر تیرے نانانے مجھے کتے سے مشابہت دی ہے تومیں تجھے پس گردن سے ذبح کروں گا، پس اس شقی نے امام ؑ کومنہ کے بل لٹایا اورپس گردن ذبح کرناشروع کیا اور بارہ ضربوں کے بعد سرکوتن سے جدا کرکے نوک نیزہ پربلند کیا۔
مختارکے خروج کی خبرسن کریہ حرامزادہ اپنے ہم خیال وہم کردارلوگوں کی ایک جماعت کے ہمراہ بصرہ کی طرف بھاگاتاکہ مصعب بن زبیر کی فوج کے ساتھ مل جائے، مختارنے ایک سو آدمی اس کی گرفتاری کے لئے روانہ کئے چنانچہ انہوں نے کلسانیہ بستی میں ان پرچھاپہ مارا، مقابلہ کرنے کے بعد آخرکارگرفتاہوا پس انہوں نے اس کوقتل کرکے اسکی لاش کو گھوڑوں کے سموں میں پامال کیا اوراسکا سرقلم کرکے مختارکی طرف بھیج دیا جوبعد میں حضرت محمد بن حنفیہ کی خدمت میں بھیجاگیا۔
’’بحارالانوار‘‘میں ’’امالی شیخ‘‘ سے منقول ہے کہ شمرنے جنگل کی طرف فرارکیا مختار نے ابوعمروکوایک دستہ فوج دے کر اس کی گرفتاری کے لئے روانہ کیا وہ ملعون مقابلہ کرنے کے بعد آخرکارگرفتارہوگیا مختار نے ایک دیگ میں تیل ڈال کرگرم کیا اوراس ملعون کوپکڑکراس میں ڈال دیا گیا یہاں تک کہ وہ اسمیں جل کرکوئلہ ہوگیا اورشمرکے تمام ساتھیوں کوتہِ تیغ کرکے ان کے سروں کوایک شاہراہ پرلٹکایاگیا۔