التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

عبداللہ بن عمیرکلبی اوراس کی زوجہ

3 min read
یہ شخص حضرت امیرعلیہ السلام کے صحابہ میں سے تھا، بروایت مامقانی اس کی کنیت ابووہب تھی، نہایت شجاع۔۔ دلیراورطاقتور بہادر تھا، کوفہ میں بیرالجعدہ کے قریب اس کا گھر تھا، اس کی عورت قبیلہ بنی نمرسے تھی، ایک دن گھر سے باہرنکلادیکھا کہ فوجیں نخیلہ کی طرف جارہی ہیں دریافت کیا کہ یہ لشکرکہاں جارہے ہیں؟ توجواب ملاکہ کربلامیں حسین ؑ سے جنگ کرنے جارہے ہیں، دل میں سوچاکہ میں کفار کے ساتھ جنگ کرنے کا شیدائی تھا لیکن وہ قوم جوفرزند پیغمبر کے خون کی پیاسی ہو ان سے جنگ کرنے ثواب کفار کی جنگ سے یقینا کم نہ ہوگا، پس گھر میں آیا اور اپنی زوجہ کواطلاع دی تواس کی نیک طینت زوجہ نے جواب دیا کہ تونے جوکچھ سوچاہے بہت بہتر ہے مجھے بھی ساتھ لے جا، راتوں رات عبداللہ نے اپنی زوجہ کے ہمراہ کوچ کیا اور آٹھویں کی شب وارد کربلاہوگئے اورامام عالیمقام ؑ سے باریابی کا شرف حاصل کیا۔
دسویں کے روز جب عمربن سعد نے پہلاتیرامام ؑ کے خیام کی طرف پھینکا تواسکے بعد زیادکا آزادکردہ غلام پہلے پہل فوجِ اشقیا ٔ کی طرف سے لڑنے کیلئے نکلا، اس طرف سے حبیب بن مظاہراوربریربن خضیر نے امام ؑ سے اجازت طلب کی لیکن امام پاک نے ان دونوں کو روک لیا، اس کے بعد عبداللہ بن عمیر نے اجازت چاہی توامام ؑ نے ایک نظر سے اس کی طرف دیکھا اوراسکی قدوقامت اورقوتِ توانائی کو ملاحظہ فرما کے ارشادفرمایاکہ میرے خیال میں تُواس کا بہترین مدّ مقابل ہوگا، پس اس کو رخصت ملی اورفوراً میدان میں پہنچا، زیاد کے غلام یسار نے پوچھا میرے مقابلہ میں توکون آیاہے؟ توجواب دیا میں عبداللہ بن عمیر کلبی ہوں، یسار نے کہا توواپس جا میرے مقابلہ میں حبیب یابریر کو آناچاہیے، عبدللہ نے جواب دیا اے حرامزادے کیا جنگ میں مدّ مقابل کا انتخاب تیرے ذمہ میں ہے کہ جس کو توچاہے وہی آئے؟ پس اتناکہہ کر شیرغضبنا ک کی طرح اس پرجھپٹے اورایک ہی ضربت میں اس کا کام تمام کردیا، ابن زیاد کا ایک غلام جس کا نام سالم تھا وہ فوراًعبداللہ کی طرف تلوارلے کربڑھا توعبداللہ کوآواز دی گئی کہ ہوشیار ہو یہ دشمن خدا وارکرنے لئے آرہا ہے، لیکن عبداللہ نے اس وقت توجہ کی جب کہ سالم تلوار چلاچکا تھا، پس اس نے اپنے بائیں ہاتھ سے تلوارکا وار روکا جس سے عبداللہ کی انگلیا ں کٹ گئیں لیکن اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے سنبھل کرسالم پرتلوارکا ایسا وار کیا کہ اُسے فی النار کردیا، پھر شیر ببر کی طرح گونجتاگرجتاہوا میدان کی طرف بڑھا اورلشکر اعدأ میں گھس گیا اس کی زوجہ یہ سب ماجرا دیکھ رہی تھی، پس خیمہ کا عمودلے کراس کے پیچھے دوڑی اور آواز دی کہ میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوں پیغمبر کی ذرّیت معصومین کی طرف سے خوب فداکاری کرو، عبداللہ نے جب اپنی عورت کی آوازسنی توفرطِ غیرت سے پلٹا اورچاہاکہ اس کو واپس لوٹا ئے لیکن وہ نہ مانی اوراس نے اپنے شوہر کا دامن تھام کر کہا کہ میں تیرے ساتھ قتل ہوں گی۔
چونکہ عبداللہ کے دائیں ہاتھ میں تلوارتھی اوربائیں ہاتھ کی نگلیا ں کٹ چکی تھیں اوروہ زخمی ہوگیا اسلئے عورت کو واپس پلٹا نے میں کامیاب نہ ہوسکا، فوراًامام عالیمقام ؑ کی خدمت میں فریاد کی توامام ؑ اس کی آواز سن کر بنفس نفیس خود تشریف لائے اور اس عورت سے فرمایاخدا تیرے اوپررحم کرے اورخداآل رسول کی طرف سے تجھے جزائے خیردے تو عورتوں کی طرف واپس آجا کیونکہ عورتوں سے جہاد ساقط ہے، اس نے امام ؑ کے فرمان کی تعمیل کی اورواپس آگئی، عبداللہ مصروف جہاد رہا حتیٰ کہ شربت شہادت پی کرراہی جنت ہوا۔
جب اس عورت نے اپنے شوہر کوشہید دیکھا توپھربے تابانہ دوڑ کر لاش پرپہنچی اوراس کے سرہانے بیٹھ کراس کے چہرہ سے خاک وخون صاف کرنے لگی اورکہتی تھی تجھے بہشت مبارک ہو اورمیری دعاہے کہ خدا مجھے فورا ًتیرے ساتھ ملحق کر دے کہ اتنے میں شمر ملعون نے اپنے غلام رستم سے کہا کہ جائو اوراس عورت کو اپنی شوہر سے ملادو، چنانچہ اس بے حیانے ایک عمود کی ضرب سے اس نیک نصیب عورت کے سرپروارکیا جس سے اس کا سر پھٹ گیا اورشوہر کے ہمراہ جنت میں جا داخل ہوئی۔