طلاق شدہ عورتوں کے بعض احکام
وَصِیَّةً لِاَزْوَاجِھِمْ: یہاں فعل محذوف
مانا گیا ہے جو وصیت کا ناصب ہے یعنی فَلْیُوْصُوْا وَصِیَّةً
تفسیر برہان میں تفسیر عیاشی سے بروایت
معاویہ بن عمار مرسلاًمروی ہے کہ یہ آیت چار ماہ اوردس روز کی عدت بتلانے والی آیت
سے منسوخ ہے اورنیز آیت میراث بھی اس کی ناسخ ہے۔
مجمع البیان میں حضرت امام جعفر صادقؑ سے
منقول ہے کہ پہلے یہ دستور تھا کہ جب ایک شخص مرجاتا تھا تو اس کی بیوہ پر ایک سال
تک اسی متوفی کے مال سے خرچ کیا جاتا تھا اورپھر میراث دیئے بغیر اس کو گھر سے
نکال دیا جاتا تھا پس اس حکم کو چوتھائی یا آٹھواں حصہ کی میراث والی آیت نے منسوخ
کردیا پس اب عورت کاخرچ اپنے حصہ میراث سے ہوگا۔
وَلِلْمُطَلَّقٰتِ: طلاق شدہ عورت کے حقوق
کی تفصیل گزر چکی ہے متعہ ( فائدہ پہنچانا ) صرف اس مطلقہ کے لئے واجب ہے جو غیر
مدخولہ ہو اوراس کامہر مقرر نہ ہو ورنہ غیر مدخولہ جس کامہر مقررہو اس کو طلاق کے
بعد نصف مہر دیا جائے گا اورمدخولہ مطلقہ کو اگر مہر مقرر ہو تو سالم مہر ورنہ
مہرمثل دیا جائے گا یعنی مطلقہ کی ان تینوں قسموں کےلئے مذہب امامیہ میں متعہ نہیں
ہے۔
بِالْمَعْرُوْفِ ط:
خداوندحکیم نے ان احکام میںمعروف کے لفظ کو بار بار دُہرایا ہے اورانہی آیات میں
اسی لفظ کا بارہ دفعہ تکرار کیا ہے، اس سے مقصود نکاح طلاق اوران سے متعلقہ جملہ
احکام کی اہمیت کو واضح کرنا ہے اورازدواجی زندگی کو خوشگوار بناتے ہوئے ہر پہلو
میں خوش اسلوبی کے برتاﺅ کی تاکید ہے اورمعروف کی لفظ مقتضائے عقل حکم شرع
اخلاقی فرائض اوربلند کرداری ہر ایک کی رعایت کو شامل ہے۔