التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

فضیلت اہل علم

فضیلت اہل علم
3 min read
فضیلت اہل علم
وَاُوْلُوا الْعِلْمِ: اس آیت مجیدہمیں ذاتِ ذوالجلال نے علم و علماکی فضیلت کو اُجاگر فرمایا ہے کیونکہ علماکا ذکر ملائکہ کے ذکر کے ساتھ اور ان کی شہادت کو ملائکہ کی شہادت کے ساتھ متصل فرمایا ہے اور صرف انہی کا ذکر کر کے باقی مخلوق کا تذکرہ ترک فرما دیا ہے اور وہ علم جس کی بدولت علماکا ذکر خالق کائنات نے ملائکہ کے ساتھ کیا اور ان کی شہادت کا اہمیت سے تذکرہ فرمایا علم توحید ہے یا جو علم علومِ توحید سے وابستہ ہیں یعنی علوم شرعیہ دینیہ اس جگہ مراد ہیں کیونکہ شہادت اسی مطلب پر ہے یہی وجہ ہے کہ آئمہ معصومین ؑاور خود جناب رسالتمآب نے تحصیل علوم دینیہ پر بڑا زور دیا اور علماکے فضائل بہت زیادہ بیان فرمائے۔
چنانچہ مجمع البیان میں جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ جناب رسالتمآب نے ارشاد فرمایا کہ عالم کا ایک گھنٹہ تک اپنے تکیہ پر آرام سے اپنے علم میں غور و فکر کر نا ایک عبادت گزار کی ستر برس کی عبادت سے افضل و بر تر ہے اور انس بن مالک سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا لوگو! علم سیکھو کیونکہ اس کا سیکھنا نیکی ہے اس کے درس و تدریس میں ثواب تسبیح خدا ہے اس کا تکرار و مباحثہ جہاد ہے اس کا ان پڑھ کو پڑھانا صدقہ ہے اور اس کی اپنے اہل کو یاد دہانی کرانا قربت ہے کیونکہ یہ حلال و حرام کا نشان ہے اور جنت و نار کے راستوں کا مینار ہے یہ وحشت کا مونس مسافرت کا ساتھی تنہائی میں ہمکلام و ہمدم خوشی و غمی میں رہبر دشمن کے سامنے ہتھیار اور غرباکے نزدیک موجب قرب ہے اس کے ذریعے سے خدا قوموں کو سربلندی عطا فرما کر پیشرو بنا دیتا ہے تاکہ ان کی اقتداکی جائے اور ان کے نقوش قدم پر چلا جائے اور ان کے مشوروں کو آخری فیصلہ قرار دیا جائے فرشتوں کو ان کی دوستی محبوب و مرغوب ہے وہ اپنے پروں کو ان سے مس کرتے ہیں اور اپنی نمازوں میں ان کے لئے بخشش طلب کرتے ہیں بلکہ ہر خشک و تر حتیٰ کہ دریاں کی مچھلیاں اور دوسرے جانور زمین کے درندے اور چوپائے آسمان اور اس کے ستارے ان کے لئے استغفار کرتے ہیں آگاہ رہو ! علم دلوں کی زندگی آنکھوں کا نور اور جسموں کی طاقت ہے یہ انسان کو شرفاکی منازل اور سلاطین کی مجالس تک پہنچاتا ہے اس میں غور و خوض روزوں کے برابر اور اس کی درس و تدریس عبادت کے برابر ہے اور اسی کے ذریعے سے حرام و حلال کی پہچان اور صلہ رحمی ہوتی ہے علم عمل کا پیش رو اور عمل اس کا مقتدی ہے، یہ نیک بختوں کو عطا ہوتا ہے اور بد بخت اس سے محروم رہتے ہیں امام محمد باقرؑ سے مروی ہے کہ ہم اولو العلم ہیں اور ہم ہی حلال و حرام کو جانتے ہیں (البرہان)
آیت مجیدہ شَھِدَ اللّٰہُ اَنَّہآخر تک پڑھنے کے متعلق انس نے جناب رسالتمآب سے روایت کی ہے کہ سوتے وقت اس آیت مجیدہ کی تلاوت کرنے والا بارگاہِ خدا میں پیش ہو گا تو خدا فرمائے گا میرے اس بندے کا مجھ سے عہد ہے اور میں عہد کو پورا کرنے کا سب سے بڑا حقدار ہوں پس میرے اس بندہ کو داخل جنت کر دو، سعید بن جبیر سے منقول ہے کہ کعبہ کے پاس ۰۶۳ بت تھے جب یہ آیت اتری تو سب بت سجدہ میں سر نگوں ہو گئے ۔

ایک تبصرہ شائع کریں