راسخون فی العلم
روایاتِ اہل بیت علیہم السلام میں تواتر سے
ثابت ہے کہ رسول اللہ کے بعد راسخین فی العلم سوائے اہل بیت عصمت کے اور کوئی نہیں
چنانچہ بعض کا تبرکا ًذکر کیا جاتا ہے۔
ز ابو
بصیر سے مروی ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ ہم راسخین فی العلم
ہیں اور ہم ہی اس کی تاویل جانتے ہیں
ز امام
محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ راسخین فی العلم میں سے افضل فرد حضرت
رسالتمآب ہیں اور جو کچھ بھی خدا وند کریم نے نازل فرمایا اس کی تاویل و تنزیل کا
ان کو علم تھا اور کوئی چیز خدا نے ایسی چیز نازل نہیں فرمائی جس کا آنجناب کو علم
نہ ہو اور حضور رسالتمآب اور ان کے بعد ان کے اوصیا سب کا علم رکھتے ہیں، نیز آپ
نے فرمایا کہ قرآن میں خاص بھی ہے عام بھی محکم بھی متشابہ بھی ناسخ بھی منسوخ بھی
لیکن راسخین فی العلم ان تمام کو جانتے ہیں
ز ایک
روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ قرآن زاجر بھی ہے اور آمر
بھی جنت کا امر کرتا ہے اور دوزخ سے زجر کرتا ہے، اس میں محکم بھی ہے اور متشابہ
بھی پس محکمات کا تعلق ایمان و عمل ہر دو سے ہے اور متشابہات کا تعلق ایمان سے ہے
ان پر عمل نہیں کیا جا تا اس کے بعد آپ ؑ نے آیت مجیدہ کی تلاوت فرمائی اور آخر
میں فرمایا کہ آلِ محمد ہی راسخین فی العلم ہیں
ہم نے تفسیر کی جلد اوّل یعنی مقدمہ تفسیر
میں بھی اس پر کسی حد تک روشنی ڈالی ہے اوراس مطلب کو متعدد عناوین کے تحت بیان
کرنے کی کوشش کی ہے احادیث کے علاوہ صحابہ کرام کی تصریحات بھی نقل کی ہیں جس سے
روز روشن کی طرح عیاں ہوتا ہے کہ وقار علمی میں حضرت علی ؑ کے ہم پلہ صحابہ میں سے
کوئی نہ تھا حتیٰ کہ ابن عباس کا قول ہے کہ میرے اورجناب رسالتمآب کے تمام صحابہ
کے علم کو حضرت علی ؑ کے علم سے وہ نسبت ہے جو ایک قطرہ آب کو سات سمندروں سے حاصل
ہے
اس بناپر آیت مجیدہ میں اَلرَّسِخُوْنَ فِی
الْعِلْمِ کا عطف لفظ اللہ پر ہے اورمقصد یہ ہے کہ تاویل آیاتِ قرآنیہ کے علم کا
حصر ہے اللہ میں اورراسخون فی العلم میں اوران کے سوا اس کو کوئی جانتا ہی نہیں
اوراس کے بعد یَقُوْلُوْنَ محلّاًمنصوب اورحال ہے راسخون فی العلم سے پس لفظ اللہ
پر وقف درست نہیں اورمعنی آیت وہی ہے جو تحت اللفظ موجود ہے۔
اور اس ایت کی دوسری ترکیب اس طرح ہے کہ لفظ
اللہ پر وقف اورجملہ کوتام مانا جائے اوراس کے بعد واﺅ کو بجائے عطف کے استینا
فیہ قرار دیا جائے اور اَلرَّاسِخُوْن کو مبتداقرار دے کر یَقُوْلُوْنَ اس کی خبر
ہو اورآیت مجیدہ کا اس ترکیب کی روسے مطلب یہ ہوگا کہ متشابہ کی تاویل کو کوئی
نہیں جانتا مگر صرف اللہ اورجو لوگ علم میں راسخ ہیں وہ اس چیز کا اعتراف کرتے
ہوئے کہتے ہیں کہ ہم تسلیم کرتے ہیںکہ یہ سب ہمارے پروردگار کی جانب سے ہی ہیں
یعنی تاویل کا علم تو صرف اللہ کے پاس ہے اورلوگوں کی اس بارے میں دو قسمیں ہیں:
٭ ایک وہ ہیں جو من مانی
تاویلیں کر کے متشابہات کی اتباع کرتے ہیں اوروہ وہی ہیں جن کے دل حق سے پھرے ہوئے
ہیں
٭ اورجو علم میں رسوخ
رکھتے ہیں اوروہ متشابہات کا اللہ کی جانب سے ہونا تسلیم کرتے ہوئے ٹھہر جاتے ہیں
اوراپنی جانب سے اس میں رائے زنی نہیں کرتے
لیکن اگر صحیح تدبر کرتے ہوئے حقیقت کا
جائزہ لیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ پہلی ترکیب اورمعنی بالکل صاف وسیدھا
اورموزوں ومناسب ہے اوردوسری ترکیب اورمعنی میں مخالفت واقع بھی ہے اورمخالفت عمل
بھی نیز مخالفت عقل بھی ہے اورمخالفت نقل بھی:
مخالفت واقع: اس لئے ہے کہ خداوند عالم نے قرآن مجید میںمتعدد مقامات پر آیات قرآنیہ
میں تدبر اورتفکر کی دعوت دی ہے تو یقینا اس کا مطلب یہ نہیں ہوسکتا کہ صرف محکمات
میں ہی تدبر کریں کیونکہ محکمات کا تو مطلب ہی صاف ہوتاہے اوران میں مزید غور وفکر
کی ضرورت ہوتی لہذااِس سے مراد آیات محکمہ کے علاوہ دوسری آیات ہی ہونی چاہییں
کیونکہ اگر ان کا علم صرف اللہ ہی کی ذات میں منحصر ہے تو عام لوگوں کو ان میں
تدبر وتفکر کی دعوت دینا عبث ہے اورلطف یہ ہے کہ خداوندکریم نے اُن لوگوں کی
جابجامذمت فرمائی ہے جو آیات میں تدبر نہیں کرتے، پس معلوم ہواکہ ان آیات کا علم
خدانے اپنی ذات میں منحصر نہیں فرمایابلکہ راسخون فی العلم کو بھی ان کا علم دیا
ہے اورلوگوں کو ان میں تدبر کی دعوت بھی دی گئی ہے۔
سوال: اگر
قرآن میں تدبر اورتفکر کی دعوت عام ہے تو پھر اس مقام پر ان کی مذمت کیوں ہے؟ کہ
فرماتاہے جن لوگوں کے دلوں میں کجی اورکھوٹ ہے وہی متشابہات کی پیروی کرتے ہیں؟
جواب: مذمت
اس لئے نہیںکہ وہ تدبر کیوں کرتے ہیں بلکہ اس لئے ہے کہ فتنہ جوئی اورفساد کی خاطر
وہ متشابہات کو اپنے مطلب فاسداورمقصد کا سد پر فٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں گویا ان
کا متشابہات کے درپے ہونا حق طلبی کےلئے نہیں ہوتا بلکہ فتنہ پروری کے لئے ہی ہوتا
ہے۔
سوال: راسخون
فی العلم متشابہات کی تاویل صحیح طور پر جان سکتے ہیں اوران کے علاوہ کوئی اورنہیں
جانتا کیونکہ متشابہ کی تاویل کا علم اللہ اورراسخون فی العلم میں بند ہے تو پھر
وہی اعتراض تو واقع ہو گا کہ خدانے باقی مخلوق کو قرآن میںتدبر کرنے اورتفکر کرنے
کی دعوت کیوں دی جب کہ ان کا علم سوائے اللہ اورراسخون کے کوئی حاصل ہی نہیں
کرسکتا؟ اورراسخین سے مراد صرف آل محمد ہیں جس طرح کہ احادیث آئمہ میںتواتر سے یہ
مطلب منقول ہے تو گویا تدبر کاحکم بھی صرف انہی کے لئے ہی ہے اوران کے علاوہ باقی
لوگ اگر تدبر کریں تو و ہ تفسیر بالرائے کے مرتکب ہوں گے؟
جواب: قرآن
مجید چونکہ خالق کا کلام ہے اوراس میں ہر وہ خوبی موجود ہے جو کسی کلام میں ہوسکتی
ہے لہذا اس کے جملہ پہلوﺅں پر پوری طرح اطلاع صرف اسی کی ذات کو ہی ہوسکتی
ہے جس نے اس کو نازل فرمایا اوراس کے تمام رموز ونکات پرعبور کامل بھی اسی کی ذات
کےلئے ہے جس نے اس کو خلق فرمایاہے۔
اورظاہری اعتبار سے اگر چہ ایک کلام میں
احتمالات متعددہ پیدا ہوتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوا کرتا کہ ہر پیدا ہونے
والااحتمال جو قواعد عربیہ یامحاورات اہل لسان کے ساتھ مطابقت رکھتا ہووہ خوا ہ
مخواہ مراد متکلم بھی ہو، چنانچہ ہر معمولی قابلیت کا انسان اس حقیقت کامعترف ہے
بلکہ یہ چیز فطرت سلیمہ کے مسلّمات میں سے ہے، پس خداوند کریم نے اپنے مقدس کلام
کو جس پاک وجود پر نازل فرمایااس کو قرآن کا علم بھی ساتھ ساتھ عطا فرمایاکیونکہ
اگر قرآن لانے والے کو قرآنی علوم پر عبور تام حاصل نہ ہوتو اس کاقرآن لانا سوائے
مضحکہ کے اورکچھ نہیں اوراسی طرح جن کو تاقیام قیامت قرآنی تبلیغات پر مامور
فرمایا اورجناب رسالتماب نے صحابہ کے بھرے مجمع میں اپنے بعد کے لئے ان کی خلافت
کااعلان فرمایا اوردیگر فرامین میں متعدد مقامات پر ان کا قرآن کے ساتھ ہونا
اورقرآن کا ان کے ساتھ ہونا ذکر فرمایا (جس طرح کہ حدیث ثقلین جو تواتر سے فریقین
کی کتب میں منقول ہے) ان لوگوں کو بھی قرآنی علوم کما حقہ عطافرمائے پس جس طرح کہ
جناب رسالتماب عالم قرآن تھے اسی طرح وہ بھی عالم قرآن ہیں اوراگر قرآن کا علم صرف
اللہ نے اپنی ذات تک محدود رکھا ہوتا اورمبلغین کو اس سے بہرہ ور نہ فرمایا ہوتا
تو صرف کتاب کا کسی کو عطا کرکے بھیجنا فضول ہوتا اور اس کی حیثیت ایسی ہوتی جس
طرح ایک چٹھی رساں ایک خط کسی مکتوب الیہ کی طرف پہنچائے جس کونہ وہ خود پڑھ سمجھ
سکے اورنہ مکتوب الیہ کو اس سے کچھ حاصل ہو؟ اوراس صورت حال پر مطلع ہونے
والاسنجیدہ طبقہ چٹھی رساں یا مکتوب الیہ کو قابل ملامت ہر گز نہ سمجھے گا بلکہ خط
بھیجنے والے کی عقل ودانش کا ماتم کرے گا اورخداوند علیم وحکیم اس قسم کے نقائص سے
بلند وبالااوراجل واعلیٰ ہے۔
پس اس نے اپنی کتاب کا علم مبلغین کتاب کو
کما حقہ عطا فرمایا اورانہی کو راسخین فی العلم کے مقدس لقب سے سرفراز فرمایا
اورلوگوں کو اس کے علم حاصل کرنے اوراس میں تدبر کرنے کی د عوت دی تاکہ وہ راسخین
فی العلم کے دروازہ پر جبہ سائی کرکے ان سے فیوض معرفت حاصل کریںاورمطالب حقہ
قرآنیہ تک دسترس حاصل کرکے اپنے قلوب کو انوار علوم قرآنیہ کی روشن قندیلوں سے
منور کریں۔
اسی بناپران لوگوںکی مذمت فرمائی جو اپنی
عقل فاسد اورذہن کا سد سے قرآنی مطالب کا استناج کرنے کے درپے ہوتے ہیں اورقرآن
والوں سے مطالب صحیحہ تک رسائی کا درس حاصل نہیں کرتے اوراسی چیز کو احادیث نبویہ
میں تفسیر بالرائے سے تعبیر کیا گیا ہے اورایسے لوگوں کی پر زور مذمت کی گئی ہے جو
قرآن کی تفسیر اپنی رائے فاسدہ سے کرتے ہیں اورجہاں تدبر وتفکر کونے والوں کی
تعریف کی گئی ہے وہاں ان کی محنتوں اورذہنی کاوشوں کو سراہاگیا ہے، اس سے مراد وہ
لوگ ہیں جو احادیث نبویہ اورفرامین عترت طاہرہ کی روشنی میں قرآنی مطالب میں غور
وخوض کرتے ہیں۔
پس قرآنی جملہ علوم اورمحکمات ومتشابہات کی
تمام ترمعلومات کاراسخین فی العلم میں بند کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ملت اسلامیہ کا
شیرازہ منتشر نہ ہو اوران کے علوم دینیہ کا مرکز ایک ہو جوان کو ہمیشہ ہمیشہ کے
لئے تشتت وافتراق کی وبائی روحانی امراض سے بچائے رکھے کیونکہ مرکز علم کی وحدت سے
بڑھ کر کسی قوم کی وحدت کو برقرار رکھنے کےلئے اورکوئی علاج کارگر ہے ہی نہیں جس
طرح کہ اقوام عالم کی تاریخ کاسچا مطالعہ اس کا شاہد ہے۔
پس خداوند کریم نے ایک طرف تدبر اورتفکر کی
دعوت عام دے دی اوردوسری طرف مرکز علم کو مستحکم اورمضبوط کرکے اختلافی مسال حل
کرنے کےلئے ان کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دی تاکہ نہ ان میں قرآن فہمی کی شوق کم ہو
اورنہ اپنی آراو قیاسات میں پڑ کرراہ حق سے دور نکلنے پائیں یایوں سمجھئے کہ علوم
قرانیہ کی طرف شوق وشغف کا اضافہ بھی ہوتا رہے اورراسخین کی ہدایات کے ماتحت حدود
متعینہ سے باہر جانے کی نوبت بھی نہ آئے۔
پس قرآن کے علوم کا راسخین فی العلم میں
منحصر ہونا عوام الناس کے تدبر فی القرآن کی دعوت سے کوئی منافات نہیں رکھتا ہاں
اگر متشابہات کا علم صرف ذاتِ خدامیں منحصر قرار دیا جائے تو پھر تدبر وتفکر کی
دعوت قطعاً بے محل ہے کیونکہ نہ تو انسان خود اپنی ذہنی صلاحیتوں سے مطالب وا
قعیّہ تک دسترسی حاصل کرسکتا ہے کیونکہ اس کی صحیح تاویل صرف اللہ کے پاس ہی ہے
اورنہ اس میں کسی سے رہبری حال کرسکتا ہے کیونکہ اس کی صحیح تاویل صرف اللہ کے پاس
ہی ہے پس تدبر وتفکر کا نتیجہ اس صورت میں صرف تفسیر بالرائے ہے جس سے پرزور منع
کیا گیا ہے، لہذا صحیح مطلب اسی صورت میں نکلے گا کہ اَلرَّاسِخُوْنَ فِی الْعِلْم
کا عطف اللہ پر ہو اور ساتھ ساتھ یہ تسلیم کیا جائے کہ خدا نے ان کو قرآن کے
محکمات و متشابہات کاکامل علم عطا فرمایا ہے اس سے تدبر و تفکر کا حکم بھی صحیح ہے
کیونکہ مقام خطا پر راسخین کی طرف رجوع کر کے مطالب صحیحہ تک رسائی ممکن ہے اور اس
میں تفسیر بالرائے کا خطرہ بھی نہیں رہتا۔
مخالفت عمل: صدر اوّل سے لے کر آج تک علمائے مفسرین نے قرآن مجید کی تمام آیات کی
تفاسیر اور حل مطالب میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا اور کسی مشکل سے مشکل ترین
آیت کی تفسیر کو اس لئے ترک نہیں کیا کہ یہ متشابہ ہے اور اس کا علم صرف ذات احدیت
تک محدود رہے اس میں فرق نہیں کہ علمائے مفسرین شیعہ ہوں یا سنی، تمام کا یہی رویہ
رہا ہے پس یہ عمل صاف بتلاتا ہے کہ وَالرَّاسِخُوْن کا عطف اللہ پر ہے اور بعد میں
آنے والا جملہ مستا نفہ نہیں بلکہ راسخین سے حال ہے۔
مخالفت عقل: قرآن میں آیاتِ متشابہات نازل فر ما کر اس کا علم کسی کو نہ دینا قرآن
مجید کے تاقیامت ہادی ہونے کو باطل کرتا ہے کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ خدا مبلغین کو
تبلیغ امور قرآنیہ پر مامور فرمائے اور ان کو قرآن کے اکثر مطالب کا واقعی علم نہ
عطا کر ے؟ جس طرح کہ گزشتہ بیان میں تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے پس معلوم ہو ا کہ
جس طرح قرآن تا قیامت ہادی ہے اس کے ساتھ ساتھ مبلغین قرآن کا سلسلہ بھی تا قیامت
جاری ہے جو تمام قرآنی رموز و نکات کا واقعی علم رکھتے ہیں ان کو محکم و متشابہ
عام و خاص ناسخ و منسوخ مطلق و مقید تاویل و تنزیل اور ظاہر و باطن وغیرہ کا کما
حقہ علم حاصل ہے اور وہ صرف محمدو آل محمد ؑ ہی ہو سکتے ہیں اس کی مزید تفصیل
تفسیر کی جلد اوّل میں ملاحظہ فرمائیں۔
مخالفت نقل: اس لئے ہے کہ کتب فریقین میں یہ چیز مسلم حیثیت رکھتی ہے کہ حضرت امیر
المومنین ؑ کے عالم قرآن ہونے پر تقریباً تمام صحابہ متفق تھے اور جناب رسالتمآب
کا فرمان اس مطلب پر نص قاطع ہے اور تاریخ صاف صاف بتلاتی ہے کہ صحابہ کرام قرآن
کے مشکل مسائل کا حل حضرت امیر المومنین ؑ سے ہی طلب کرتے تھے، یہاں تک کہ حضرت
عمر کے یہ الفاظ تواتر سے منقول ہیں لَوْلا عَلِیّ لَھَلَکَ عُمَر (اگر علی ؑ نہ
ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا) چنانچہ مقدمہ تفسیر میں مختلف حوالہ جاتِ کتب کے ساتھ اس
مطلب کو بیان کیا جا چکا ہے۔
احادیث آئمہ اس بارہ میں تواتر سے منقول ہیں
کہ تمام قرآن کاعلم اہل بیت ؑ کے پاس ہے چنانچہ جلد اوّل مقدمہ تفسیر میں بعض
احادیث کو میں نے نقل کیا ہے، اور تاریخ بتلاتی ہے کہ ہر دور میں جب قرآنی مسائل
مشکلہ میں علمائے مذاہب لا جواب ہو جاتے تھے تو آئمہ اہل بیت ؑ کی طر ف رجوع کرنے
کے بغیر ان کا کوئی چارہ نہ ہوتا تھا، پس ان حقائق پر نظر دوڑانے سے صاف معلوم
ہوتا ہے کہ اَلرَّاسِخُوْنَ فِی الْعِلْم کا عطف لفظ اللہ پر ہے اور آیت کا صاف
مطلب یہ ہے کہ تاویل آیاتِ متشابہ کو سوائے خدا اور راسخین فی العلم کے اور کوئی
نہیں جانتا۔