تفسیر رکوع ۳
نمرود کا حضرت ابراہیم ؑ سے مناظرہ
اَلَمْ
تَرَ اِلَی الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰھمَ فِیْ رَبِّہٓ اَنْ اٰتہُ اللّٰہُ الْمُلْکَ
اِذْ قَالَ اِبْرٰھمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْی وَیُمِیْتُ قَالَ اَنَا اُحْی وَاُمِیْتُ قَالَ اِبْرٰاھمُ فَاِنَّ اللّٰہَ یَاْتِیْ
بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِھَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُھِتَ الَّذِیْ
کَفَر وَاللّٰہُ لا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ (258)
ترجمہ:
کیا تم نے نہیں دیکھا وہ شخص جس نے جھگڑا
کیا ابراہیم ؑ سے اس کے ربّ کے متعلق اس لئے کہ دیا اس کو خدا نے ملک جب فرمایا
ابراہیم ؑ نے کہ میرا ربّ وہ ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے تو کہنے لگا کہ میں بھی
جلاتا اور مارتا ہوں تو فرمایا ابراہیم ؑ نے کہ تحقیق اللہ لاتا ہے سورج کو مشرق
سے پس تو لا کر دکھا مغرب کی طرف سے تو لاجواب ہو گیا کافر اور خدا نہیں ہدایت
فرماتا اس قوم کو جو ظالم ہوo
تفسیر
رکوع ۳
نمرود کا حضرت ابراہیم ؑ سے مناظرہ
اَلَمْ تَرَ: یہ قصہ حضرت رسالتمآب کی تسلی
و اطمینان کیلئے ہے کہ ہمیشہ سے دشمنان خدا نبیوں کے ستاتے رہے اور نبی حوصلہ کرتے
رہے ہیں۔
اِلٰی الَّذِیْ: حضرت ابراہیم ؑ سے جھگڑا
کرنے والے کا نام نمرود بن کنعان تھا اور کہتے ہیںکہ یہ پہلا شخص ہے جس نے خدائی
دعوےٰ کیا اور تفسیر برہان میں ابو بصیر سے منقول ہے کہ ایک دفعہ حضرت یوسف ؑ
بادشاہ کے پا س آئے تو بادشاہ نے ان کو ابراہیم ؑ سمجھ کر ان سے مزاج پرسی کی حضرت
یوسف ؑ نے فرمایا کہ میں ابراہیم ؑ نہیں ہوں بلکہ حضرت ابراہیم ؑ کے فرزند حضرت
اسحٰقؑ کا پوتا ہوں یہ وہی بادشاہ تھا جس نے ابراہیم ؑ سے مناظرہ کیا تھا؟ اس کی
عمر چار سو برس تھی اور جوان تھا؟
مناظرہ
مناظرہ کا موضوع توحید تھا اور یہ مناظرہ
حضرت ابرہیم ؑ کی بت شکنی کے بعد اور آگ میں ڈالے جانے سے پہلے واقع ہوا تھا اور
بعض نے کہا ہے کہ آگ میں ڈالے جانے کے بعد تھا اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سرے سے
خدا کے وجود کا منکر نہیں تھا بلکہ لوگوں کو دھوکا دینے کےلئے اس فعل شینع کا
مرتکب تھا جس طرح کہ فرعون مصر، پس اس کا خدائی دعویٰ صرف دنیاوی گھمنڈ پر تھا
حضرت ابراہیم ؑ نے دلیل پیش فرمائی کہ میرا خدا مارتا اور جِلاتا ہے تو اس نے جواب
میں کہہ دیا کہ ایسا تو میں بھی کر سکتا ہوں آپ ؑ نے پوچھا کیسے؟ اس نے کہا کہ دو
واجب القتل قیدیوں کو حاضر کر کے ایک کو رہا کر دوں گا اور دوسرے کو قتل کر دوں
گا، چنانچہ اس نے ایسا کر بھی دیا آپ ؑ نے فرمایا اگر تو جِلا سکتا ہے تو قتل کرنے
کے بعد اسی کو زندہ کر دکھااس میں اگرچہ وہ لا جواب تھا لیکن عوام الناس ان
باریکیوں کو نہ سمجھتے تھے، پس فوراً آپ ؑ نے پہلی بات کی تائید میں سورج کے ابھارنے
کو دلیل پیش فرما دیا اب نمرود نے سمجھا کہ اگر میں یہ کہتا ہوں کہ مشرق سے میں
لایا کرتا ہوں تیرا خدا مغرب سے لائے تو اس کو یقین تھا کہ ابراہیم ؑ ایسا کر لے
گا اور میں زیادہ شرمسار ہوں گا لہذا خاموشی کو غنیمت سمجھا کیونکہ دل سے تو وہ
خدا کی قدرت کا معترف تھا اور اپنے آپ کو عاجز جانتا تھا۔
تنبیہ
مردوں کو زندہ کرنا یا دَورِ شمس کو بدل
دینا صرف اللہ ہی کا کام ہے، اسی لئے حضرت ابراہیم ؑ نے ان فعلوں کو اپنی طرف
منسوب نہیں کیا بلکہ اللہ کے وجود کی دلیل قرار دیا ہے پس اگر کسی کامل انسان
(خواہ نبی ہو یا امام) سے اس قسم کے افعال ظہور پذیر ہوں تو یہ ان کے خدا ہونے کی
دلیل نہیں بلکہ یہ ان کے خدا دوست ہونے کی علامت ہے کہ خدا نے ان کی صداقت منوانے
کےلئے ان کی دعا کو قبول کر کے نظام ظاہری کو بدل دیا کیونکہ اس مقام پر اگر نمرود
ضد کرتا تو حضرت ابراہیم ؑ کے لئے خدا وند کریم نظامِ شمسی کو تبدیل فرما کر ان کی
صداقت کو تسلیم کرواتا لیکن نمرود کی ہارنے اس حد تک نوبت کو آنے ہی نہ دیا، پس
کسی انسان کامل کی دعا سے نظام شمسی کی تبدلیلی اس کی خدائی کی دلیل نہیں اور اسی
طرح باذن خدا مردوں کو زندہ کر لینا بھی خدائی کی دلیل نہیں بلکہ خدا وہ ہے جو
اپنے مخصوص بندوں کی شان دکھانے کےلئے ان کی دعاﺅں کو یہ ا ثر بخش دیتا
ہے کہ ان سے اس قسم کے خارقِ عادت افعال ظہور پذیر ہوں۔
پس حضرت امیر امومنین ؑ کےلئے ردّ شمس یا
مردوں کا زندہ ہونا ان کی بارگاہ ربّ العزت میں عظیم المنزلت ہونے کی دلیل ہے کہ
ان کی دعاﺅں کو مستجاب فرما کر خدا نے ان کی شان وعظمت کا سکہ لوگوں کے دلوں پر بٹھا
دیا ہے، بعض جہلا مقررین اس مقام پر عوام کو دھوکا میں ڈالتے ہوئے یہ کہہ جاتے ہیں
کہ دیکھو ابراہیم ؑ نے ردّ شمس کو توحید کی دلیل قرار دیا اور حضرت علی ؑ نے ردّ
شمس کر دکھایا پس حضرت ابراہیم ؑ کے بیان کردہ قاعدہ کی رو سے یہ خدا ٹھہرے اور
بعض جہلا سے مجھے شاید خود سننے کا اتفاق ہوا ہے کہ ہم ملت ابراہیمی پر ہیں اور
قرآن نے بھی ملت ابراہیمی پر چلنے کا درس دیا ہے اور ابرہیم ؑ کا عقیدہ یہ ہے کہ
جو مغرب سے سورج کو لا کر دکھائے وہ خدا ہے پس نتیجہ یہ نکلا کہ ملت ابرہیمی کی رو
سے علی ؑ خدا ہے معاذَاللّٰہ
ایمان والوں کو خدا وند کریم اس قسم کے فاسد
عقائد سے محفوظ رکھے بیان کرنے والے صرف نعرہ لگوانے اور اپنی خطابت کا سکہ بٹھانے
کےلئے یہ سب جتن کرتے ہیں جس سے عوام کا اعتقاد اور اپنی عاقبت تباہ کرتے ہیں، ردّ
شمس کے متعلق حقیقت یہ ہے کہ جناب امیر المومنین ؑ کے زانو پر جناب رسالتمآب کا سر
تھا بیدار کرنا مناسب نہ سمجھا لہذا اشارے سے نماز پڑھ لی، حضور کی آنکھ کھلی تو
دریافت فرمایا کہ نماز کا کیا ہوا؟ آپ ؑ نے جواب میں عرض کیا کہ حضور! اشارے سے
پڑھ لی ہے، حضرت رسالتمآب نے دعا مانگی اے میرے اللہ! اگر تیرا بندہ علی ؑ تیری
اور تیرے رسول کی اطاعت میں تھا تو تو اس کے لئے شمس کو واپس پھیر دے پس ابھی جناب
رسالتمآب کی دعا ختم ہی نہ ہوئی تھی کہ سورج واپس آیا اور حضرت علی ؑ نے نماز
اداکی۔
بہر کیف سورج کا واپس پلٹانا خدا کا فعل ہے
اور وہ اپنے خاص بندوں کی دعا کو قبول کر کے ان کےلئے ان چیزوں کو معرض ظہور میں
لاتا ہے اگر حضرت ابراہیم ؑ کو ضرورت پڑتی اور دعا کرتے تو ان کےلئے بھی سورج مغرب
سے طلوع کرتا جس طرح کہ حضرت علی ؑ کےلئے بوقت ضرورت جناب رسالتمآب کی دعا سے سورج
مغرب کی طرف سے پلٹ آیا پس خدا وہ بالا و بر تر ذات ہے جو اپنے مخصوص بندوں کی دعاﺅں کو اتنا زبر دست اثر عطا فرما دیتا ہے کہ ان کے طفیل نظام عالم میں
انقلاب پیدا ہو جاتا ہے اور بلا شک خدا یسا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ کرنے پر قادر
ہے، نیز ردّ شمس کی روایات متعدد ہیںاور الفاظ مختلفہ وارد ہیں اور سب کا مآل یہ
ہے کہ خدا نے ردّ شمس کے بارے میں دعا کو مستجاب فرمایا اور سورج واپس پلٹا۔
پس جو شخص انبیا یا آئمہ کو اس قسم کے
معجزات یا خارق عادات چیزیں دیکھ کر خدا مانے یا خدا کا شریک مانے وہ کافر اور
مشرک ہے انبیا اور آئمہ علیہم السلام اس قسم کے لوگوں سے بیزار ہیں خدا وند کریم
تمام مومنین کو اس قسم کے بےہودہ اور بے بنیاد عقائد سے محفوظ رکھے آمین
نےز اگر ےہی بات درست ہو جس کے لئے سورج
واپس پلٹ آ ئے اس کو خدا مان لےا جائے تو اس کا مطلب ےہ ہوا کہ اگر نمرود حضرت
ابراہیم ؑ کے سامنے بضد ہو جاتا اور حضرت ابراہیم ؑ خدا سے دعا مانگ کر سورج کو
پلٹا دیتے ( اور یقینا ایسا ہی ہوتا کیونکہ وہ سچے اور بر حق اولوالعزم پیغمبر تھے
اور ان کی دعا مستجاب تھی) تو اسی صورت میں عوام الناس نمرود کو خدائی دعویٰ میں
جھوٹا قرار دے کر حضرت ابراہیم ؑ کو خدا تسلیم کر لینے میں حق بجانب ہوتے حالانکہ
یہ بالکل غلط ہے اور اگر ایسا ہوتا تو اجس طرح وہ لوگ نمرود کو خدا کہہ کر مشرک
تھے اسی طرح حضرت ابراہیم ؑ کو خدا مان کر بھی مشرک ہی رہتے خدا وہ ہے جس نے
ابراہیم ؑ کو ابراہیم ؑ بنایا محمد کو محمد بنایااور علی ؑ کو علی ؑبنایا، یہ سب
اس کے عبد ہیں اور وہ ان سب کا معبود ہے۔
بعض روایات میں ہے کہ چار آدمی پورے روئے
زمین کے بادشاہ گزرے ہیں دو مسلمان اور دو کافر:
حضرت سلیمان بن داﺅد اور حضرت ذو القرنین
یہ دونوں مسلمان اور نمرود اور بخت نصر یہ دونوں کافر تھے (غالباً ان کے پوری روئے
زمین پر بادشاہ ہونے کا مقصد یہ ہو گا کہ ان کے زمانہ میں ان کا اقتدار پورے روئے
زمین پر مسلم تھا اور باقی کسی خطہ زمین کا کوئی حکمران ان کے آگے سر اٹھانے کی
جرات نہ کر سکتا تھا)
مجمع البیان میں ابن عباس سے مروی ہے کہ
مچھر نمرود کے منہ پر بیٹھا اور اس کو کاٹا نمرود نے اس کو پکڑنے کےلئے ہاتھ
اٹھایا تو وہ اڑ کر اس کے ناک کے سوراخ میں چلا گیا، پس یہ جونہی اس کے نکالنے کی
کوشش کرتا رہا وہ آگے گھستا گیا حتی کہ اس کے دماغ تک جا پہنچا پس خدا وند کریم نے
اس کو چالیس شب و روز اسی عذاب میں گرفتار رکھا اور پھر اس کو ہلاک کر دیا ۔
یہ سب ذاتِ مقدسہ الٰہیہ کی مصلحتیں ہیں اگر
نہ چاہا تو چار سو سال تک اپنے دشمن کو مسند الوہیت پر قبضہ جمائے ہوئے رہنے دیا
اور اسے ذرّہ بھر بھی عذاب زندگی کا مزہ نہ چکھایا لیکن جب چاہا تو کسی کی سطوت کو
مٹانے کےلئے مچھر کو مسلط کر دیا اور کسی کی الوہیت مفروضہ کو دریاﺅں کی لہروں کی نذر کر دیا۔