التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

تفسیر رکوع ۴۱ -- حیاتِ مسیح علیہ السلام

تفسیر رکوع ۴۱، حیاتِ مسیح علیہ السلام
4 min read
 تفسیر رکوع ۴۱ --  حیاتِ مسیح علیہ السلام


اِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسٰٓی اِنِّی مُتَوَفِّیْکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاَحْکُمُ بَیْنَکُمْ فِیْمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ (55) فَاَمَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَاُعَذِّبُھُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ وَ مَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ (56) وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْھِمْ اُجُوْرَھُمْ وَاللّٰہُ لا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ (57) ذٰلِکَ نَتْلُوْہُ عَلَیْکَ مِنَ الْاٰیٰتِ وَالذِّکْرِالْحَکِیْمِ (58)
ترجمہ:
جب فرمایااللہ نے اے عیسیٰؑ! تحقیق میں تجھے پورا لینے والااوراپنی جانب اٹھانے والااورتجھے نجات دینے والاہوں ان لوگوں سے جو کافر ہیں اورکرنے والاہوں تیرے تابعداروں کو بلند ان سے جو کافر ہیں قیامت تک پھر میری جانب تم سب کی باز گشت ہوگی پس میں فیصلہ کروں گا تمہارے درمیان جس چیز میں تم اختلاف کرتے تھےo پس وہ لوگ جو کافر ہیں تو ان کو عذاب دوں گا سخت دنیا اور آخرت میں اور ان کاکوئی مدد گار نہ ہوگاo اورلیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اوراعمال نیک کئے پس پورادے گا ان کو اجر ان کا اوراللہ نہیں دوست رکھتا ظالموں کوo یہ ہم تلاوت کرتے ہیں تیرے اوپر کتاب اورذکرحکیمo

تفسیر رکوع ۴۱
حیاتِ مسیح علیہ السلام
اِذْقَالَ اللّٰہُ: مرزاغلام احمد قادیانی نے مسیح موعود بننے کے شوق میں حضرت عیسیٰؑ کی موت کا اعلان کیا جس طرح کہ حضرت عیسیٰؑ کے متعلق یہودیوں نے افواہِ عام پھیلائی تھی کہ انہیں سولی پر چڑھا دیا گیا اورقتل کردیا گیا۔
قادیانی لوگ اپنے عقائد کے دعویٰ کو سچا ثابت کرنے کےلئے عام مسلمانوں کو قرآن کی ان آیات سے دھوکا میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں جن میں حضرت عیسیٰؑ کے متعلق تَوَفّی کا لفظ کو استعمال کیا گیا ہے اور ان کا معنی موت بیان کرکے مسیح موعود کا خطاب میرزائے قادیانی پر منطبق کرنے کی کوشش کرتے ہیں اورعوام بیچارے اکثر ان کے پھندے میں آکر دین سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں خداوند کریم نے اس آیت مجید ہ میں جہاں یہودیوں کے غلط پروپگنڈے کی غیر مبہم الفاظ میں تردید کرتے ہوئے ان کے منہ میں لگام دی ہے اسی طرح بعد میں آکر مسیحیت کا لباس اوڑھنے کے شیدائیوں کا بھی حیات مسیح کا اعلان فرما کرناطقہ بند کردیا ہے۔
بروایت اکمال حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کو خدانے نورِ علم وحکمت اورانبیائے سابقین کے علوم کے علاوہ انجیل بھی عطا فرما کربیت المقدس میں بنی اسرائیل کی تبلیغ کےلئے بھیجا آپ ؑ وہاں تینتیس (۳۳)برس مقیم رہے اوراس کے بعد یہودیوں نے آپ ؑ کے ساتھ مکر کیا اورخدانے ان کو محفوظ کرتے ہوئے اپنی طرف اٹھالیا (روایت میں تینتیس (۳۳)برس صرف تبلیغی عمر ہے نہ کہ کل عمر لہذا کہو لت میں ان کے کلام کرنے سے متعارض نہیں)
بروایت تفسیر قمی حضرت امام محمد باقرؑ سے مروی ہے کہ حضرت عیسیٰؑ نے اپنے بارہ حوارییّن کو اسی شام اپنے پاس طلب کیا جس رات کو وہ اٹھائے جانے والے تھے پس وہ آئے اورآپ ؑ نے ان کو ایک کمرہ میں داخل کیا اورآپ ؑ زاویہ گھر میں جوتالاب تھا اس میں غوطہ لگا کر باہر نکلے اوربالوں سے پانی کو جھاڑتے ہوئے ان کے پاس تشریف لائے اورفرمایاکہ مجھے بذریعہ وحی اطلاع ہوئی ہے کہ خدامجھے اپنی جانب اٹھانے والاہے اوریہودیوں کے شرّ سے مجھے نجات دینے والاہے پس تم میں سے کون ہے جو یہ قربانی کرے کہ اس کو میری شبیہ بنایاجائے تاکہ اس کو میری جگہ قتل اورپھانسی کی سزادی جائے پس وہ میرے درجہ میں میرا شریک ہوگا؟ پس ایک جوان نے لبیک کہا پھر آپ ؑ نے فرمایاکہ تم میں سے ایک آدمی قبل از صبح کا فر ہو جائے گا پھر آپ ؑنے فرمایا کہ تم لوگ فرقوں میں بٹ جا گے دو فرقے افتراپر داز جہنمی ہوں گے اورایک فرقہ جو شمعون (وصی عیسیٰؑ ) کا تابع ہوگا جنتی ہوگا اس کے بعد حضرت عیسیٰؑ ان کے دیکھتے ہی کمرہ کے ایک گوشہ سے بلند ہو کر ان کی نظروں سے چھپ گئے۔
اُسی شب یہودی حضرت عیسیٰؑ کی تلاش میں آپہنچے اورانہوںنے دوآدمیوں کو پکڑ لیا ایک وہ جوان جو اپنے آپ کو موت کے لئے پیش کرچکا تھا پس اس کوقتل کرکے سولی پر لٹکادیا اوردوسراکافر ہوگیا جس کے متعلق حضرت عیسیٰؑ نے صبح سے قبل کافر ہونے کی پیش گوئی کی تھی بعض روایات میںہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی شبہ اس شخص پر ڈالی گئی جو یہودیوں کو حضرت عیسیٰؑ کے گرفتار کرنے کےلئے لایا تھا۔
اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافَعُکَ اِلَیَّ: امام رضا علیہ السلام سے مروی ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کو زمین سے زندہ اٹھایا گیا اورآسمان وزمین کے درمیان ان کی قبض روح ( تَوَفّی) کی گئی پھر آسمان پر لے جانے کے بعد ان کی روح واپس لوٹا دی گئی۔

ایک تبصرہ شائع کریں