التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

برے رسم و رواج

ہمارے ملک میں بھی عورتوں کے لئے ہندوؤں کی رسم ستی اور عربوں کی رسم زندہ درگور کرنے جیسی رسوم اب تک پائی جاتی ہیں ۔۔۔
3 min read

برے رسم و رواج

ہمارے ملک میں بھی عورتوں کے لئے ہندوؤں کی رسم ستی اور عربوں کی رسم زندہ درگور کرنے جیسی رسوم اب تک پائی جاتی ہیں ۔

1۔ بعض جاہل لوگوں میں یہ رسم ہے کہ بیوہ ہو جانے کے بعد عورت کی دوسری شادی کو باعث توہین سمجھا جاتا ہے بعض اوقات نوجوان لڑکی کا جوان شوہر اگر کسی حادثے کا شکار ہو جائے تو وہ بیچاری اپنی پوری زندگی سوگواری میں گزارنے پر مجبور ہو جاتی ہے جوانمرگ شوہر کی موت کا سوگ اپنی قیمتی جوانی کا سوگ اور نندوں بھاوجوں کی نیش زنی کا سوگ بالائے سوگ اس کا مقسوم بن جاتا ہے مرد تو عورت کے مرنے کے بعد کئی کئی شادیاں رچا لیتے ہیں لیکن عورت کی دوبارہ شادی کو ناک کٹنے کے مترادف قرار دیتے ہیں اور یہ رسم ہندوؤں کی رسم ستی سے کم نہیں کیونکہ وہ تو مرد کی ارتھی کے ساتھ ساتھ عورت کو زندہ جلا دیا کرتے تھے لیکن ان لوگوں نے ہندوؤں کی نقالی کی کہ مرد کی میت کو دفن کرکے اس کی بیوہ کو شادی سے ہمیشہ کے لئے محروم کرتے ہوئے نندوں اور بھاوجوں کی دل آزاریوں کی آگ میں جلنے پر مجبور کر دیا اور عربوں کی رسم بد کے مطابق یہ بھی زندہ درگور ہونے سے کم نہیں۔

بعض جاہلوں میں کنواری لڑکیوں کو شادی سے محروم کرنے کا رواج ہے پس وہ شرافت کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے کہہ دیتے ہیں کہ ہماری لڑکی اب مصلے پر بیٹھ گئی ہے اور شادی کرنا نہیں چاہتی اسی طرح کسی کو مسجد سے کسی کو امام باڑہ سے اور کسی کو علم عباس سے منسوب کر کے ان کی شادیکو روک دیتے ہیں خدا جانے یہ شرف مرد اپنے لئے کیوں پسند نہیں کرتے اور بعض کہتے ہیں کہ ہماری لڑکی کے جوڑ کا شوہر کوئی نہیں یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ مردوں کےلئے جوڑ کی بیوی مل سکتی ہے تو لڑکی کے لئے جوڑ کا شوہر کیوں نہیں مل سکتا ؟ بس عورت کی بے چارگی سے ناجئز فائدہ اٹھا کر اس کی زندگی کو تباہ کیا جاتا ہے تا کہ اس کے حصہ کی جائیداد کو ہتھیانا آسان ہو اور یہ بھی لڑکی کے زندہ درگور کرنے کی ایک صورت ہے ۔

بعض خاندانوں اور علاقوں میں جہیز کی رسم بد نے لڑکیوں کی شادی کے سلسلہ میں روکاوٹ پیدا کر دی ہے کہ لڑکی کے اچھے جہیز کے بغیر سسرال میں قدر نہیں ہوتی پس اگر ماں باپ جہیز بنانے پر موفق ہو گئے تو لڑکی کی شادی پورے شان سے ہو گئی ورنہ زندہ درگور۔

خاندانی رشتوں کی پابندیاں بھی بعض اوقات مصیبت بن جاتی ہیں کہ اپنے خاندان میں مناسب رشتہ نہیں اور دوسرے خاندان میں کرنا نہیں لڑکوں کو اس پابندی سے مستثنٰی قرار دیا جاتا ہے اور لڑکیوں کو ہی زندہ درگور ہونے کی صورت سے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔

لڑکیوں کی مادی اعلٰی تعلیم بھی بعض اوقات رشتے سے محرومی کا باعث بن جاتی ہے کہ لڑکا لڑکی سے کم تعلیم رکھتا ہو تو لڑکی کی کسر شان سمجھی جاتی ہے اور لڑکے چونکہ اس قسم کے فرق کو محسوس نہیں کرتے لہذا یہ وبال صرف عورت کے ہی حصہ میں آتا ہے ۔

بعض علاقوں اور قوموں میں کاح و بیاہ کے اخراجات اس قدر زیادہ اور بیہودہ ہوتے ہیں کہ متوسط خاندان کے ماں باپ ان کو ادا نہیں کر سکتے مثلاً زیورات و پارچات کی مخصوص پابندیاں پس لڑکی کےلئے شادی سے محرومی اور زندہ درگور ہونے کی مصیبت جھیلنے کے سوا کئی چارہ نہیں ہوتا پس اسلامی اصول اور شرعی ضوابط کی پاسداری ہی صحیح طور پر انسانوں کو ان جیسے مصائب سے نجات دلا سکتی ہے پس جو لوگ اسلامی فیصلوں کے سامنے سر تسلیم خم کر کے اپنے جذبات و خواہشات پر کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں وہ اس قسم کے روح فرسا مصائب سے آزاد ہو جاتے ہین اور جو لوگ اسلام فیصلوں سے سرتابی کر کے اپنی خواہشات و رسوم کی پابندی ضروری سمجھتے ہیں وہ ہندوؤں اور جاہلی عربوں کی رسوم بد میں مبتلا ہو کر ظالموں پر لعنت کرنے کے باوجود خود ظلم کے طوفانی بھنور میں پھنسے رہتے ہیں پس مسلمانوں کو بالعموم اور اہل ایمان کو بالخصوص دوسروں کی رسم بد پر تالیاں بجانے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانک کر اپنی کمزوریوں کو ختم کرنا چاہیے ۔

ایک تبصرہ شائع کریں