التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

دشمنان دین کی دین سےآزادی اور اس کے مہلک اثرات

5 min read

یہ وہ پر خطر دور ہے جس میں دھریت اور کمپونزم کا خونخوار عقاب ادیان عالم کو صفحہ ہستی سےمٹانے کے لئے اپنے پر و بال خوب مضبوط کر چکا ہے اور اس کی گرفت روز بروز مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی جا رہی ہے ان کا یہ عقیدہ ہے کہ انسان صرف گوشت پوست خون اور ہڈیوں کا مجموعہ ہے جو بہت جلد مضمل اور منصرم ہونے والا ہے اور اس کی زندگی ان اعضا کی مجموعی حیثیت اور ان میں توازن کے قیام کا نام ہے جب کہ موت ان کے تفرقہ کی تعبیر ہے ان لوگوں کے نزدیک شرف و خیر یا فضل و کمال بالکل بے معنی اوربے مقصد ہے وہ مآل زندگی نفس حیوانی کی لذات اورجذبات شہوانیہ کے ذرائع میں وسعت کو سمجھتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان جنسی لذات اورشہوانی جذبات کے استعمال میں خواہ کس قدر ہی  ترقی کر جائے و ہ اس مرحلہ میں خسیس ترین حیوان کی برابری بھی نہیں کرسکتا۔

بہر کیف ان کا مطح نظریہ ہے کہ دنیا سے تمام ادیان و مذاہب کے نقوش کو محو کر دیاجائے اور غیرت و حمیت اور عزت و شرافت کو کچل کر رکھ  دیا جائے وہ اس سلسلہ میں سعی دبلیغ اور حد درجہ کی دریدہ دہنی اور کمینہ حرکات کا ارتکاب کرتے ہیں اور دین و مذہب کی جملہ قیود سے آزادی کو انسان کا فطری اور بنیادی حق کہہ کر سادہ لوح انسانوں کواپنے دام تزویر میں پھنساتے ہیں یہ عقل و دانش کے دشمن اس تصور سے بالکل بے نیاز ہیں کہ اگر دین و مذہب کا تصور نہ ہوا ور قانون کی گرفت کا خطرہ نہ ہو توانسانیت اوج شرف سے اوندھے منہ فلاکت و بلاکت او ذلت و رسوائی کی پستی میں جاگرے گی انسان کا دین و مذہب سے بغاوت کا نتیجہ صرف یہی ہے کہ وہ وحشیانہ انداز کو اپنائے اور عہد قدیم کی طرح بہیمیت و حیوانیت کا  طور طریقہ اختیار کر ے اور جہاں کمیو نزم نے نئی روشنی کے بہانہ سے انسانی آزادی کے تصور کا چقمہ دے کر نوجوان طبقہ کو راہ راست سے ہٹانے کی سعی نا مسعود کی ہے وہاں عیسائیت کے علمبرداروں نےاپنی پوری کوششوں اور ہر ممکن سازشوں سےاسلام اور محافظین اسلام پرقسم و قسم کے ناروا اور کیک حملے کر کے اسلامیان عالم کی روحوں کو زخمی کیاور کچھ نہ سہی تواس کا نتیجہ یہ ضرور ہوا کہ لوگ اگرچہ عیسائیت کی طرف بہت کم مائل ہوئے لیکن اسلامی تعلیمات پر بھی ثابت قدم نہ رہ سکے دین و مذہب کی تعلیمات کو انہوں نےفرسودہ خیالات کہنا شروع کر دیا اور الحاد کی وادی میں کود گئے گویا ان کےسامنے کمیونزم کا دروازہ کھل گیا اور دھریت کاپر چار کرنے والے ان کے دل و دماغ پر مسلط ہو گئے حتی کہ مسلمان کہلانے والوں کی زبان پرجس حد تک اسلام نام ہے وہ صرف اورصرف اسلام نہیں بلکہ تمام ادیان عالم اس کی زد سے نہیں بچ سکے اور ہر انسان مذہب کا جوا گردن سے اتار پھینکنے کے لئے بے تاب ہے بےشک میں آپ کو پھر بھی دعوت دیتا ہوں کہ چشم خرد پر بصیرت کی دورمین لگا کر دیکھئے کہ چہار دانگ عالم میں اور ریع مسکون کے گوشےگوشےمیں کمیونزم اور دھریت کی تیز آندھیاں اور لادینیت کے بے پناہ طوفان تمام ادیان و مذاہب کاصفحہ ہستی سے ملیا میٹ کرنے پر کس طرح تلے ہوئے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ انسان اپنی شرافت و نجابت سے ہٹ کر عہد سابق کی طرح بہیمت کو اپنا شعار بنائے پس درندہ بن کر رہے جو چاہے سو کھائے اورجس سے چاہے نکاح کرے نہ اسکی خواہشات کے آگے قانون کی بندش ہو اور نہ تہذیب و ادب کی روکاوٹ ہواور خدا کی قسم اگر رہنما یان ملت سختی اورپامردی سے اس متعدی و مہلک مرض کے روکنے کی طر ف اقدام نہ کریں تووہ دن دور نہیں کہ شرافت بلکہ انسانیت کا جنازہ نکل جائے باقی تمام  اقوام کو چھوڑئیے ہمارے لئے تو یہ مصیبت اور زیادہ جان لیوا اور خطر ناک ہے کیونکہ ہمارے منبر پر بعض ایسے لوگ بھی آدھمکے ہیں جو آل محمد کے ذکر کی آڑ میں عوام کے لئے دین و مذہب کی قیود سےآزادی کے علمبردار ہیں اور عوام اس سم قاتل کو خوشنما لیبل کے دھوکے سے نوش کرتے جارہے ہیں ان کو ان کی سادہ ضمیری پس منظر کی تحقیق سےغافل کئے ہوئے ہے اس قسم کےناخدا ترس اہل منبر کا یہ دعوی اور ببانگ و ہل اعلان کہ فضائل آل محمد سنو اور صرف زبان سے علی علی کرو اور پھر مصائب آل محمد سنو اور آنسو کے چند قطرات بہالو بس جنت تمہاری ہے اور تم جنت کے ہو۔

اس میں بڑے بڑے ہو شمند لوگوں کو ہم نے سرگرداں دیکھا ہے کیونکہ اس میں لاگت کم اورآمدنی بے حساب کا لالچ ہے  گویا ا ن کے نظریہ میں حب علی اور غم حسین کی موجودگی میں نہ نیکی کا بجا لانا ضروری ہے اور نہ برائی سےبچنا لازمی ہے حالانکہ اہل منبر پر فرض ہے کہ جہاں ایک طرف اللہ کی رحمت و بخشش کا ذکر کریں وہاں دوسری طرف آل محمد کے مشن کی مخالفت پر  عذاب خدا وندی سے بھی روشناس کرائیں اس میں شک نہیں کہ علی متقبوں کا امام ہے اور حسین دین کا محافظ ہے ان عقل کے اندھوں سے پو چھتا کوئی نہیں کہ وہ تقوی کیا بلا ہے جو علی کے مقتدیوں کے لئے ضروری ہے اور و ہ دین کیا شئے ہے جس کی خاطر امام حسین نےاپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا جب تقوی کے بغیر علی کسی کواپنا مقتدی بنانا گوارا نہ کریں اور دین کو اپنانے کے بغیر حسین اس کو اپنا نہ بنائیں تو یقین کیجئے صرف زبان سے علی علی کر نا علی کو دھوکا میں نہیں ڈال سکتا جب تک علی کی سیرت کےرنگ میں اپنے آ پ کو رنگنے کی کوشش نہ کریں اور اسی طرح مگر مچھ کی طرح آنسو بہانے کا کوئی فائدہ نہیں جب تک حسین کے بچائے ہوئے دین کو اپنا لائحہ زندگی نہ بنائیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں