ذات واجب الوجود چونکہ واحدوبسیط ہے اور اجزاء سے مرکب نہیں ورنہ حدوث وتعد دلازم آئے گا اوریہ دونوباتیں ذات حق سبحانہ میں محال ہیں اور وہ ایک طرف چونکہ وحدت وبساطت کے بلند ترین مقام پر فائز ہے اور دوسری طرف تمام صفات کمالیہ کا جامع ہے تو ماننا پڑے گا کہ اس کی تمام صات اس کی عین ذات ہیں وہ لوگ جو صفات کو زائد برذات مانتے ہیں ۔ان کے لئے توحید کا اثبات نہایت مشکل ہوجائے گا ۔کیونکہ ہر صفت کے قدیم ہونے کی صورت میں ایک نہیں بلکہ اتنے واجب بن جائیں گے جس قدر صفات ہوں گی اور اگر آپ اس کی تقریب تمثیل کے رنگ میں معلوم کرنا چاہیں تو اپنے نفس کا جائزہ لے لیں اور بقول معصوم جس نے اپنے نفس کو پہچان لیااس نے اپنے رب کو پہچان لیا ۔
دیکھئے نفس میں متعدد صات
پائی جاتی ہیں ۔محبت بغض ارادہ کراہت ۔علم ودانش ،سخاوت ،شجاعت اور علاوہ ازیں
بیسیوںصفات جن سے وہ متصف ہے اور وہ اتنی صفات کے بعد بسیط بھی ہے اور واحد بھی ہے
اور یہ صات متغائرہ نہ اس کی ذات میں ترکیب پیداکرسکتی ہے اورنہ ہی اس کی حقیقی
وحدت میں خلل اندازہ ہو سکتی ہےہیں حالانکہ
سب کی سب ایک ہی ذات سےظہورپذیر ہوتی ہیں اور یہ مثال سمجھانے کے لئے ہے
ورنہ اللہ کی عظمت اوراس کا حلال ارفع واعلی ہے اس سے کہ اسکی کوئی مثال دی جاسکے
۔ہرانسان بدیہی طور پر جانتاہے کہ اس کا نفس ابتداء میں بالکل جاہل تھا پھر مراجعہ
کتب اورمطالعہ صحف کے ذریعہ سے متفرق علوم معارف سے وہ متصف ہو انیزبچنے میں عاجز
تھا پھر ایک وقت کے بعد صاحب قدرت ہوا اوراعضا روقوی کی مدد سے صنعتوں میں اس نے
آگے بڑھنا سیکھا اسی طرح وہ پہلے کچھ نہ دیکھ سکتا تھا پھر ایک مدت کے بعد دور
نزدیک چیزوں سے اس کی آنکھ شنا سا ہوئی اور پہلے گونگا وبہرہ تھا پھر بولنے اور
سننے لگا ۔غرضیکہ تمام صفات وملکات ہماری ذات سے جداگانہ حیثیت رکھتے ہیں نہ یہ
ہماری عین ذات ہیں نہ جزوذات ورنہ جب سے ہماری ذات تھی تب سے یہ صفات ملکات بھی
ہوتے البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ حاصل ہونے کے بعد یہ تمام صفات نفس کے ساتھ متحد
ہوجاتے ہیں اسی بنا پر علم ومعلوم وعالم کے اتحاد کا قول حکمانے
کیاہے اور اس سب کچھ کے باوجود اگر عقل کی طرف رجوع کیا جائے تو وہ ان صفات کو نفس
سے الگ بھی دیکھتی ہے کہ ذات اور ہے اور صات اور ہیں پھر ان صآت میں بھی باہمی
اتحاد نہیں ہے علم قدرت سے متحد نہیں اور سماعت گویائی سے الگ صفت ہ ےیعنی عالم کے
لئے قدرت ضروری نہیں اور قادر کے لئے علم غیرضروری ہے اسی طرح سننے کے لئے بولنے
ضروری نہیں اور بولنے کے لئے سماعت کا ہونا ضروری نہیں اورتمام صفات کا باہمی تعلق
اسی نوع سے ہے پس جس طرح یہ صات ذات سے بھی جُدا ہیں اور آپس میں ایک دوسرے سے بھی
جُدا ہیں تو اس میں شک کرنے کی گنجائش نہیں رہی کہ کسی ایجاد کرنے والے نے یہ صفات
ہمیں سونپ رکھی ہیں ۔
پس جس طرح ممکن کی ذات کے لیے ضروری ہے کہ اس کا مبداء منتہی ایک ایسی ذات تک
ہو جوخود واجب الوجود ہو اسی طرح اس کی صفات کے لئے بھی ضروری ہے کہ ان کا متنہ
بھی صفات واجبہ ہوں توضروری ہوا کہ و ہ صفات واجبہ اس ذات واجب کی عین ذات ہوں
۔ورنہ اگر زائد برذات ہوں گی تو ان کا منتہی
کسی اور ذات کوماننا پڑے گا ۔حالانکہ ذات واجب سے پہلے کوئی شیءنہیں اور وہ
ہی سب سے پہلے ہے ۔
پس ذات واجب الوجد کی
جمیع صفات کمالیہ اس کی ذات کی عین ہیں اور وُہ صفات آپس میں ایک دوسری کی عین ہیں
گویاایک ذات ہے جو ہر حیثیت سے ایک ہے وہ علم قدرت حیات اور ارادہ وغیرہ تمام صفات
کمال کی مظہر ہے اور وہ ان تمام صفات کی عین ہے اور صفات کو زائد برذات ماننا
ترکیب و حدوث کا موجب ہے اور نیز شرک کا لازمہ ہے اور خدا اس سے اجل وارفع ہے پس
تمام صفات کمال کامبنبع وسرچشمہ واحد
وبسیط ہے اس بارے میں حضرت امیر المومین ّرئیس الموحدین کا قول ہے بطور تبرک ہم
پیش کرتے ہیں ۔
ترجمعہ :۔اول دین اس کی معرفت ہے اور کمال معرفت اس کی تصدیق ہے اور کمال
تصدیق اس کی توحید کا اقرار ہے اور توحید کے اقرار کا کمال اخلاص ہے اور کمال
اخلاص یہ ہے کہ اس سےصفات کی نفی کی جائے کیونکہ ہر صفت شاہد ہے کہ وہ موصوف سے
الگ ہے اور ہر موصوف شاہد ہے کہ وہ صفت کا غیر ہے پس جس نے ذات کو صفت سے الگ کرتے
ہوئے ۔اس کی وصف کی تو اس نے گویا اس کے ساتھ وصف کوملایا اور جس نے کسی شیءکو ملا
یا تو اس نے دو بنائے اور جس نے اس کو دو بنایا تو اس نےصاحب اجزاء سمجھااور صاحب
اجزاء سمجھنے والا اس کا جاہل ہوا جس نے اس کی طرف اشارہ کیا ۔اس نے محدود سمجھا
اور جس نے محدود سمجھا اس نے اس کو شمار کیا اور جس نے کہا وہ کہاں ہے تو اس نے اس
کو مکان کا محتاج سمجھا اور جس کہاکہ وہ کس جگہ ہے تو اس نےبعض مکامات کو اس سے
خالی جانا ۔
ایک اور مقام پر نفی صفات
زائدہ کے بارے میں ارشاد فرمایا ۔
ترجمعہ:۔جس نے اس کی وصف
کی گویا اس نے اس کی تحدید کی اور جس نے اس کی اس کی تحدید کی گویا اس نے اس کو
شمار کیا اور جس نے شمار کیا اس نے اس کی ازلیت کو باطل کہا اور جس نے کہا وہ کس
طرح ہے گویا اس نے اس کی حالت دریافت کی اور جس نے کہا کہ وہ کہا ہے تو اس نے اس
کے لئے مکان تجویز کیا وہ اس وقت سے عالم ہے جب معلوم کو ئی نہ تھا اور وہ اس وقت
رب تھا جب مربوب کوئی نہ تھا اور وہ اس وقت قادر تھا جب مقدور کوئی نہ تھا ۔