دشمنان
خاندان رسولؐ ہمیشہ چونکہ تعصب وعناد کی بدولت خانوادہ عصمت کی ہر فضیلت پرپردہ
ڈلنے یا اس کی ہمیت کو کم کرنے میں لگے
رہتے تھے اور جن جن لوگوں میں بالخصوص اموی خون کا اثر موجود تھا نہوں نے تو فضائل
آل محمدؐ کو مٹانے یا گھٹانے کی شاید قسم
اٹھالی تھی چنانچہ اسی سلسلہ میں ابن تیمیہ نے اپنی ناپاک گوششوں کوبروئے کار لانے
کا کھیل کھیلا اور توہین اہل بیت کو اپنی زندگی کا محبوب مشغہ قرار دیا اس کی تمام
ترتصا نیف میں آئمہ اہ بیتؑ کے خلاف اچھا خاصا محازقائم ہے اس نے
اموی عصبیت کی بناء پر تحقیر وتذلیل اہل بیتؑ
میںکوئ دقیقہ فرد گزاشت نہہیں کیا
حتاکہ دامن اسلام پر اپنی جہالت وذلالت کے ناپاک جھنٹیے ڈالنے والا یزید بھی اس کے نزدیک ایک پکا مسلمان ہے جسکی
ناپاک سیرت کے سیاہ اوراق تاریخ اسلام میں رہتی
دنیا تک اہل اسلام کی گردنیں جھکاتے رہیں گے چنانچہ دور حاضر کے عباسی اور
بٹ اسی کے مسموم پروپیگنڈے سے متاثر ہیں اور
یزید لعہ کی مداحی میں اسی کے جور ظلمات سے اغتراف کرنے والے اور تنقیص شان اہل بیتؑ میں اسی کے نقش قدم پر
چلنے والے ہیں اس دشمن اہل بیت ؑ اموی
عصبیت کے جوش میں آکر حضرت علیؑ اور دیگر آئمہ اطہار کی ایک ہزار شبانہ روز نمازکی
عظمت کے خلاف آواز اٹھائی اور اسے ایک عبث فرل قرار دے کر عوام الناس کے دلوں کو
خاندان رسولؐ کی محبت سے منحرف کرنے کی ناپاک کوشش کی علامہ امینی نے الغدیر ج
5 میں اس کا اعتراض نقل کیاہے ابن تیمیہ
کےاعتراض کے تین پہلو ہیں
1
جناب رسالتماۤبؐ چونکہ ایک
ہزاررکعت نہیں پڑھاکرتے تھے لہذاعلیؑ واولادعلیؑ کا یہ فعل تعریف نہیں بلکہ خلاف
سنت رسولؐ ہے
2
دن رات میں دیگر امور ضروریہ کی انجام دہی کے
بعد ایک ہزاررکعت کا وقت نکالنا ناممکن ہے
3
اگر بالفرض وقت نکل بھی آئے توجلدبازی ہوگی اور خشوع وخضوع نہ ہوگا پس ایسی عبادت کی کوئی قیمت نہیں
اختتام کلام پر کہتاہے البتہ نماز
تہجد کےساتھ شب بیداری اور ایک رکعت میں ختم قرآن حضرت عثمان کے متعلق ثابت
ہے لہذاان کا تہجد اور تلاوت قرآن غیروں
سے زیادہ وزنی ہے (منہاج السنتہ لابن تیمیہ
ج 2ص 119 )
علامہ امینی نے پہلے اعتراض کا
جواب چار طریقوں سے دیا
1
قول رسولؐ
الصلوٰۃ خیر موضوع فمن استطاع ان یستکثر فالیستاثر نماز اچھا موضوع ہے جو جس قدرزیادہ پڑھ سکے بے
شک پڑھے (مستدرک حاکم ج2 اس کےعلاوہ اور
بھی بہت سی حدیثیں نقل کی ہیں لہذا زیادتی
نمازکو خلاف سنت رسول کہنا دیدہ دانستہ آل
محمدؐ پر کیچڑا اچھالنے کے مترادف ہے
2
فعل رسولؐ
صح عن المسلم والبخاری انہ کان
یقوم من اللیل حتی تنفطر قدماہ بخاری ومسلم سے صحیح منقول ہے کہ حضور رات کو نماز میں اس قدر قیام فرماتے
تھے کہ قدم مبارک پھول جاتے تھے
پس فعل رسول سے ثابت ہواکہ رات کو
زیادہ نماز پڑھنا قبیح نہیں بلکہ سنت رسول
ہے
3
فعل اکابر
اہل سنت کے امام اعظم کے متعلق
شیخ محمد عبدالحئی حنفی نے کتاب اقامتہ
الحجتہ ص 9 پرلکھاہے کہ وہ ہر رات تین سو
رعت نماز پڑھاکرتے تھے ایک دفعہ راستہ میں سنا ایک عورت دوسری عورت سے کہہ رہی تھی
کہ یہ شخص ہر شب پانچ سورکعت پڑھتاہے پس
انہوں نے پانچ سو پڑھنا شروع کردیا پھر لڑکوں کو کہتے ہوئے سنا کہ یہ ایک ہزار
پڑھتاہے تو ایک ہزار رکعت پڑھنا شروع کردیا
اور سونا چھوڑ دیا مناقب خوارزمی جلد 1 ص 232
میں ابوحنفیہ کا چالیس برس تک عشاء کے وضو سے صبح کی نماز پڑھنا مزکور ہے نیز اس قسمکی اور ہزاروں حکایات موجود ہیں لہذا
ابن تیمیہ کو اپنا گھر پہلے سنبھال لینا
چائیے
4
معنی سنت
5
مستدرک حاکم سے جناب رسالتمآبؐ کا
فرمان منقول ہے علیکم بسنتی وسنتہ الخلفاء الراشدین تمہارے اوپر میری اور میرے خلافاء کی سنت پر
چلنا ضروری ہے نیز رسالتمآبؐ اور حضرت
ابوبکر کے زمانہ میں نماتراویح نہیں تھی اس کو حضرت عمر نے سہ ہ 14 میں جاری کیا پس جب اہل سنتکے نزدیک سنت کا
مفہوم سرف فعل رسول تک محدود نہیں بلکہ خلفائے راشدین کا فعل بھی سنت ہے جسکی بناء
پر حضرت عمر کی ایجاد کو سنت سمجھاجاتاہے اور علیؑ بھی جب خلیفہ راشد تھے تو ان کے
فعل کو بدعت اور خلاف سنت کہنے کا کیامعنی
؟ صرف دشمنی علیؑ کا بھوت سرپر سوار ہے جو
اپنے مسلمہ اصولوں کو بھی نظرانداز کرارہاہے ورنہ
جس لحاظ سے حضرت علیؑ کی ایک ہزار رکعت خلاف سنت قراردی جاری ہے اسی حثیت
سے تراویح کوبھی بدعت کہنا چایئے اور
ابوحنفیہ کی شب بیداری اور ایک ہزاررکعت کو بھی بدعت شمار کرنا چایئے اوران کے
علاوہ بھی بہت کچھ بدعتیں ہیں جن کی جہرست گنوانے کی ضرورت نہیں
دوسرے سوال کے جوات کے متعق علامہ
فرماتے ہیں اس کو ناممکن کہناصرف اپنی طبیعت پر قیاس ہے کیونکہ عبادت نہ کرنے والے کو دوسرے کی عبادت
ناممکن معلوم ہوتی ہے اگر خواہ مخواہ ناممکن ہی کہناہے تو ذرااپنے گھر کاجائزہ بھی
لے لیجئے مناقب خوارزمی میں ابوحنیفہ کا
نماز جمعہ سے قبل بیس رکعت نماز پڑھنا جن
میں قرآن ختم ہوتا تھا مزکورہ ہے حلیۃ
الاولیاء میں حضرت عثمان کا نماز شب کی ایک رکعت میں ختم قرآم مزکور ہے تو ابن
تیمیہ کے پاس ان بزرگوں کے متعلق امکان کا
دروازہ کیسے کھلے گا
اور تیسراسوال کا جواب بھی اسی میں موجود ہے کہ انکیجلد بازی میں خضوع
وخشوع کہاں سے آتاہوگا بلکہ اگر مواز نہ کیاجائے تو مذہب شیعہ کے طریقہ سے نماز کی
ایک رکعت کے الفاظ تراسی 83 بنتے ہیں تو ایک ہزار رکعت کے الفاظ تراسی ہزار ہوئے
اور قرآن کے کل الفاظ کی تعداد ستتر ہزار نوسوترتالیس ہے 77943گویا ایک ہزار رکعت نماز اور پورے ختم
قرآن میں پانچ ہزار ستاون الفاط کا فرق ہے خود اندازکیجئے کہ علیؑ کے لئے پورے شب
وروز کے 24گھنٹوں میں ایک ہزررکعت ناممکن ہے اور بصورت امکان منافی خضوع ہے جس کے
کل الفاظ تراسی ہزار بنتے ہیں اور حضرت عثمان اور ابوحنیفہ کی ایک رکعت میں پورے
قرآن کی گنجائش بھی ہے اور منافی خضوع بھی نہیں جسکے الفاظ کی تعداد 77943 ہے یہ
جواب اس سے قطع مظر کرتے ہوئے کہ حضرت عثمان حافظ قرآن بھی تھے
یا نہیں کیونکہ جامع ہونے کے لئے ضروری نہیںکہ وہ حافظ بھی ہواور تاریخ بتلاتی ہے
کہ جمع قرآن میں دیگر صحابہ کومامور کیاگیا تھا جن کو قرآن کچھ نہ کچھ یاد تھ ااور متفرق صحف کی امداد سے
انہوں نے جمع کیا ہم نے مقدمہ تفسیر انوار النجف میں اس پر سیر حاصل تبصرہ کیاہے
مقصد یہ ہے کہ جامع قرآن خود قطعا حافظ قرآن نہیں تھے پس ایک رکعت میں ختم قرآن
صرف انسانوی حثیت رکھتاہے لطف یہکہ ابن تیمیہ نے خودحضرت علیؑ کی عبادت پر اعترض کرکے حضرت
عثمان کےلئے ایک رکعت میں قرآن ختم کرنا
اسکے لئے باعث شرف لکھ دیا اور عقل کے اندھے کو یہ یاد نہ رہا کہ وہ تینوں اعتراض
تو اس پر بھی وارد ہوتے ہیں کیونکہ رسولؐ
اللہ نے ایسا نہیں کیا تھا لہذاخلاف سنت رسولؐ ہوا علاوہ ازیں وقت میں اس قدر
گنجائش نہ تھی لہذا ممکن ہے اور نیز اگر
تیزی سے پڑھتے ہوں تو منافی خشوع ہے
لہذافائدہ کچھ نہیں ہاں سچیبات ہے کہجس ے لگاؤ ہے اس کا ہر فعل برداشت کیاسکتاہے اور جس سے دشمنی ہے اس کے ہر فعککو
اعتراض کی نذرکردیاجاتاہے۔
بہر کیف یہ جملہ معترضہ تھا اس
جیسے ہزاروں لوگ آل محمدؐ کے فضائل و کمالات سے جل جل کر چل بسے اور آخر کار جہنم
کا ایندھن جا بنے سورج پر گرد اڑانے والے کے اپنے منہ پر گرد پڑا کرتی ہے اس سے
سورج کا کچھ نہیں بگڑتا منصف مزاج موخین نے آل محمدؐ کی عبادات کو سراہا ہے۔
اور میں نے پہلے عرض کیا ہے کہ
عبادت صرف نماز و روزہ کا نام نہیں بلکہ انسان کے تمام اعضاء و جوارح کا مشغول کار
خدا ہونا عبادت ہے اور حضرت علی علیہ کی عبادت کا نام سن کر اگر کوئی ناصبی غصہ و
تعصب سے بڑبڑانے لگ جائے تو بے شک ہوا کرے اگرخود بانی شریعت غراء حضرت محمد ؐ
مصطفٰی سے علیؑ کی عبادت کا وزن دریافت کیا جائے تو وہ علیؑ کی صرف ایک ضربت جو
بروز خندق عمر و بن عبدود کے سر پر پڑی اس کو میزان عدل کے ایک پلڑے میں اور تمام
امت کے اعمال نماز و روزہ وغیرہ یا باختلاف روایات ثقلین کی سب عبادتیں دوسرے پلڑے
میں ڈال کر فرماتے ہیں علیؑ کی ضربت مجھے جھکتی ہوئی نظر آتی ہے اور یہ ہے علیؑ کی
ایک عبادت اور وہ بھی چھٹے نمبر کی کیونکہ جہاد فروعات میں سے چھٹے نمبر پر ہے اور
یہ سارے جہادوں کا موازنہ نہیں بلکہ پوری زندگی کے جہادوں میں سے ایک جہاد اور اس
میں سے بھی صرف ایک ضربت کی قیمت ثقلین کی عبادتوں سے یا امت کے جملہ اعمال سے
زیادہ وزنی اور قیمتی ہے تو علیؑ کے باقی جہاد اور باقی عبادتیں نہ معلوم ان کا
کیا وزن ہو گا؟
اسی طرح حضرت علی علیہ السلام شب
ہجرت بستر رسولؐ پر سوئے ور اس کا سونا بھی چونکہ اطاعت و عبادت خداوندی تھا تو اس
عبادت کی قیمت قرآن سے پوچھئے صبح سویرے اٹھتے ہی جبریلؑ سے اپنے حق میں قصیدہ
سنا۔ اللہ نے قرآن میں آیت بھیج دی وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَشْرِى نَفْسَهُ
ٱبْتِغَآءَ مَرْضَاتِ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ رَءُوفٌۢ بِٱلْعِبَادِ (البقرة - 207)
لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو اللہ کی رضا لینے کی خاطر اپنا نفس قربان کر دیتے ہین
اور خدا اپنے بندوں پر مہربان ہے سبحان اللہ بعض لوگوں کو رو رو کر وہ مرتبہ نہیں
ملا جو علیؑ نے سو سو کر لے لیا بہر کیف خطابیات میں جانے کی ضرورت نہیں۔
اس مقام پر ثابت کرنا چاہتا تھا کہ
امت محمدیہ میں آئمہ اہل بیت کے ہم پلہ عبادت میں کوئی نہیں اور حسب ضرورت اس میں
مقصد کو بیان کر چکا ہوں اور میں ہر ہر صفت کمال کو بیان کرنا توضیح واضحات سمجھتا
ہوں خلاصہ یہ کہ آئمہ اہل بیتؑ تمام صفات
حمیدہ میں پوری امت سے اتم و اکمل تھے اور کوئی بھی ان کے گرد راہ تک نہیں پہنچ
سکتا چہ جائیکہ ان کے ہم پلہ یا ان سے افضل ہو۔