اولا تویہ فرق کرنا مجھے اچھا معلوم نہیں ہوتا کیونکہ معصوم ہوتاہی وہی ہے جو مشیت پرور دگار کے بغیر کوئی کام نہ کرے خواہ عام تمدنی ومعاشرتی مشاغل کی صورت میں ہو یا اعجاز نمائی کے رنگ میں ہو تو جب معصوم کاعام قول و فعل جو اعجازی حیثیت سے نہ ہو اس کو بھی خدااپنی جانب سے منسوب فرماتا ہے مثلا ما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی اپنی مرضی سے نہیں بولتا بلکہ یہ تو وحی الہی ہوا کرتی ہے چونکہ منافقوں نے حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی خلافت کے لئے نامزدگی پر چہ مے گوئیاں کی تھیں پس ان کی تردید میں یہ آیت اتری اسی طرح فرمایا ما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی جو تونے تیر یا سنگریزے مارے و ہ تونے نہیں بلکہ اللہ نے مارے تھے ید اللہ فوق ایدیھم بیعت کرنے والوں کے ہاتھوں پر آپ کا نہیں بلکہ اللہ کا ہاتھ تھا ا ن آیات کے ذکر کرنے سے میرا مقصد یہ ہے کہ معصوم کے عام افعال جواعجاز نمائی کے لئے نہیں ہوتے خدا ان کوبھی اپنی طرف منسوب کرتاہے کیونکہ ان کا کوئی کام بغیر مشیت پروردگار کے نہیں ہوتاتو معجزہ جو خدا وند کریم کی مخصوص مشیت سے ظہور پذیر ہوتا ہے اگر اس کو فعل خدا کہا جائے تو ا س میں کیا حرج ہے ہاں وہ معصوم کے دست حق پرست پر ظاہر ہونے کی وجہ سے معصوم کافعل بھی کہا جا سکتا ہے اور ہر دو صورتیں معصوم کی عظمت شان کی بولتی ہوئی زبانیں ہیں۔
معجزہ فعل خدا ہے یافعل معصوم
1 min read