جو لوگ حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہین اور کہتے ہیں کہ پہلے نبی نہ تھے اور ثلیس برس کے بعد نبی بنے اس سے قبل ان سے اغلاط سرزد ہوتی تھیں یا ہو سکتی تھیں بلکہ نبوت کے بعد بھی ان سے غلطی کے صدور کا امکان تھا اور جبرائیل نے اپریشن کے ذریعے سے گندہ مواد خارج کر کے حضورﷺ کے باطن کو نبوت کے علوم قابل بنایا جبرائیل بحثییت معلم و استاد کے تھے پس ملکہ فاضلہ کسب کر کے نبی بنے یعنی ان کے نزدیک نبوت کا عہدہ جلیلہ کسبی تھا اس اعتقاد والا فرقہ وہابی کہلاتا ہے اور جس فرقہ نبوت کی یہ پوزیشن ہو اس فرقہ کے ہر آدمی کے دل میں یہ جذبہ ہونا چاہیے کہ چلو ہم بھی محنت کر کے آگے بڑھیں پس نبوت کا درجہ کے لیں اب ہزار مرتبہ اور کروڑ دفعہ ختم نبوت کی رٹ لگاتے رہیئے کون مانے گا جو شخص ایک درجہ پر فائض ہو سکتا ہے اور ایک کمال تک پہنچ سکتا ہے وہ کیوں نہ پہنچے اب نبوت کا دروازہ بند ہو کیسے سکتا ہے اور اس کو بند کر کون سکتا ہے اللہ تو اس لئے بند نہیں کر سکتا کہ وہ تو عادل ہے اور نبوت کے درجے تک محنت کر کے اگر کوئی پہنچ جائے تو وہ عہدہ کیوں نہ دے جب ایک شخص ایک امتحان میں اپنی ہمت سے کامیاب ہو جائے تو اسےسند دینی چاہیے ہاں ظالم ہوتا تو باوجود محنت اور کوشش کے بھی کسی کا حق روک لیتا اب اگر اس دروازہ کو رسول بند کرے تو کیونکر وہ توبقول ان کے ہم جیسا آدمی ہے اگر وہ ایک ظرھ کوشش کر کے نبوت کا عہدہ کے بیٹھیں تو ان کو یہ حق کب پہنچتا ہے کہ دوسروں کے لئے دروازہ ہی بند کر سیں پس انہی خیالات نے آگے بڑھ کر مرزا غلام احمفٓد قادیانی کو نبوت کی اسٹیج پر لا کھڑا کیا اب ہزاروںچلاتی رہے دنیا اس کو کون پیچھے ہٹا سکتا ہے جب نبوت کا کوئی معیار نہ ہو تو ہر آدمی کا اچھے عہدہ کے لئے دل للچا ہی جاتا ہے ۔پس نبوت کے کسبی ہونے کی صورت میں یہ خرابیاں ضروری ہیں جن کا کوئی سد باب نہیں لہذا نبوت کے کسبی ہونے کا نظریہ سراسر غلط اور نبوت کے مقام کو نہ پہچاننے کے سبب سے ہے
عہدہ نبوت کسبی نہیں ہے
ہم نے سابقہ بیانا ت سے واضع کیا
ہے کہ نبوت کو عام انسان تک پہنچا نے اور اس کے چلانے کے لیے خدا ازراہ لطف خد ہی اپنا
نمائندہ مقرر کرتا ہے اور اسے استعدا دے کر بھیجتا ہے پس وہ تمام کمالات نبعت کا
جامع ہو کر نبوت کی سٹیج پر قدم رکھتا ہے اس میں ایسا ملکہ فاصلہ ہوتا ہے جس کی
بدولت وہ تمام ان نقائص و عیوب سے منزہ ہوتا ہے جو انسانیت کے وقار کے منافی ہوں
اور منشاں پروردگار کے خلاف ہوں پس خدا نبی بنا کر بھیجا ہے یہاں آکرنہ کوئی نبی
بنا ہے نہ بن سکتا ہے وہ اپنے علم میں دنیا والوں کا محتاج نہیں ہوتا اور چونکہ
فرشتوں سے نبی کی شخصیت اور اس کا مرتبہ بلند
و بالا ہے لہذا فرشتہ ان کا استاد ع معلم نہیں ہوسکتا جب نبوت کے پہلے فرد
حضرت آدم کے علمی وقار کے سامنے تمام ملائکہ ہار مان کر سجدہ کرنے پر رضامند ہوگئے
تھے تو نبوت طے منازل کے بعد جب اپنی آخری سٹیج پر پہنچی تو اس کے ملائکہ استاد
معلم کیسے بن سکتے ہین جب حضور نے کم مرتبہ کا نبی پیدائشی نبی ہوتا ہے جیسے حضرت
عیسیٰ تو حضور ﷺ جو سید الانبیا ہیں یہ چالیس سال کیسے علم و کتاب سے محروم رہ
سکتے ہین اور افر نبی سے غلطی سرزد ہو تو دامن انتخاب پروردگار پر بد نما عیب لگ
جاتا ہے کہ اس نے ایسے کو نبی بنایا جس سے خود غلطی سرزد ہو سکتی ہے پھر ایسا شخص
اصلاح خلق میں کونسا اچھا کردار ادا کر سکتا ہے ؟ اور کسی کو اپریشن کے ذریعے سے مومن کا مل یا نبی ومرسل بنایا جا سکتا ہے تو
باوءمخلوق کو بذریعہ نبی و مرسل دین سکھانے کی کیا ضرورت کیونکہ خدا کی وسیع زمین
میں ملائکہ حدوحساب سے ذیادہ ہیں ہر انسان کا اپریشن کرکے اسے کم از کم ایمان کی
نوزانیت سے بھر دیا جاتا ہے پس سلسلہ نبوت ع رسالت و شریعت ع تقلیف کی ضرورت ہی
نہین تھی کیونکہ لوگ اپریشن کے بعد خود بخود اچھے ہو جاتے بہر کیف نبوت کو کسی
کہنے والوں نے اسلام کے وامن کو اپنی گندہ دہانی سے ملوث کر کے اپنی بد باطنی کا
ثبوت دیا ہے اور اسی نظریہ بد کی وجہ سے تو آج کل کی نئی تہذیب میں گود مغرب کے
پروردہ لوگ جو دین ع مذہب کی قیود سے آزاد ہیں ببانک دہل کیہتے پھتے ہیں کہ محمد ﷺ
نے کلام خدا کو اپنے ذہن کے مطابق سمجھا تھا اور ہم اپنے ذہن کے مطابق سمجھ سکتے
ہیں انہوں نے اس سے وہ استفادہ کیا جو اس
دور کے انسانوں کے مزاج کے مطابق سمجھ سکتے او ر ہم اس سے وہ کچھ سمجھتے ہیں جو
دور حاضر کے ترقی یافتہ انسانوں کے مزاجوں کے مطابق ہے حتاکہ غلام محمد پرویز جیسوں
نے قرآنی تعلیمات کا حلیہ تک بگاڑ کر رکھ دیا اور دینی تعلیمات کو پائے تحقیر سے
ٹھکرا تے ہوئے حقیقی اسلام کے علمبردار خود بن بیٹھے ان کی نظروں میں سرکار رسالت
کی تعلیمات صر ف تاریک ذہن کے لوگوں کے لئے تھیں پس صحابہ کرام و دیگر مجاہدین
اسلام جنہوں نے اسلام کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا اور ہم تک اسلام کی
مقدس امانت کو پہنچا کر ہم پر احسان عظیم کیا تھا آج انہیں تاریک ذہن اور پس ماندہ
ذہنیت کہہ کر او ر اپنے آپ کو روشن خیال اور ترقی یافتہ مسلمان سمجھ کر قرآن و اسلام کی صورت و شکل کو مسخ کر نے کا نام
قرآن ہمیں کافی ہے اور رسول ہم جیسے تھے اور ان کے کمالات کسبی تھے حتی کہ نبوت
بھی ایک کسبی عہدہ کا نام ہے پس ان لوگوں
نے حضور کے متعلق خلقت نوری کی تمام حدیثیں قابل تاویل قرار دے دیں اور آپ
کی نوری حیثیت کا انکار کردیا ۔