التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

نزول سورہ برات

2 min read

        محدثین ومفسرین کا اتفاق ہ ے کہ جب سورہ برات نازل ہوئی تو حضرت رسالتمآبؐ نے اہل مکہ کو حکم خداوندی سنانے کے لئے ابوبکر کونامزد فرمایا اور پھر اسکو اس عہدہ جلیلہ سے معزول فرماکر حضرت علیؑ کو متعین فرمایا الطاظ  روایات میں قادر سے اختلاف ہے لیکن اصل مقصد  سب کا ایک ہے اور وہ یہ ہے

حضورؐ نے حضرت ابوبکر  کو روانہ فرمایاکہ سورہ برات کی دس آیتیں  انکےسامنے جاکر پڑھے اور انکےساتھ کئے ہوئے عہد وپیمان کو منسوخ کردے اور پھر حضرت علیؑ کو روانہ فرمایاکہ حضرت ابوبکر سے وہ عہدہ خود لے کر جائے چنانچہ حضرت علیؑ رسولؐ خدا کی مخصوص سواری ناقہ  غضباء پر سوار ہوکر مقام ذوالحلیفہ یاعرج یاضجنان یا حجفہ پر (بااخلاف  الفاظ )  ابوبکر کو جاملے اور انکو معزول کرکے عہدہ سنبھال کیااور روانہ  ہوگئے ابوبکر نے واپس آکر دریافت کیاکہ حضورؐ کیا میرے بارے میں کچھ اترا ہے ؟ آپ  نے فرمایا نہیں کوئ ی بات نہیں لیکن یہ اعلان چونکہ میری طرف سے  ہے لہذااس کو میں نے ہی پہچانا ہے یامیری جانب سے صرف وہی پہنچا سکتاہے جو مجھ سے ہے روایت کے لفظ یہ ہیں

لایؤدی  عنی الاانا اورجل منی

 اس روایت کو تیرہ معتبر اکابر صحابہ نے روایت کیاہے

1 حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام

2  حضرت ابوبکر

3 ابن عباس

1       انس بن مالک

2       ابوسعید خدری

3       ابورافع

4       سعد بن ابی وقاص

5       ابوہریرہ

6       عبداللہ بن عمر

7       حبشی بن جنادہ

8       عمران بن حصین

9       ابوذرغفاری

10  جابر بن عبداللہ

اور جن کتب معتبرہ میں یہ روایت موجود ہے وہ یہ ہیں

درمنثور ج3 - ص 209  کنزالعمال جلد 1 – ص 247؛246 مسند احمد ج 1 -  ص 151تفسیر شوکانی ج2ص 193- تاریخ ابن کثیر ج5ص38 وج7 ص 357 - حسینی شرح بخاری ج 8ص637 - خصائص نسائی ص 2 -کفایتہ کنجی ص125 – جامع ترمزی  ج2  ص 135- سنن بہیقی ج9ص224- قسطلانی شرح صحیح  بخاری ج7136 - فتح الباری

ج8ص256- عینی ج 8 ص637 - اور روح المعانی

اس حدیث  کی اہمیت تو اس امر سے خوب واضح ہے کہ یا اسکو رسولؐ خود پہنچائے یاوہ آدمی پہنچائے جو رسول سے ہو ابوبکر کو راستہ سے واپس بلانا اور حضرت علیؑ کو نامزد کرکے بھیجنا اس امر کو خوب واضھ کرتاہے کہ نیابت رسولؐ کا عہدہ سوائے علیؑ کے اور کوئی نہیں سنبھال سکتا کیونکہ جب صرف دس آیتوں کیلئے  ایک شخص شہر والوں کا مبلغ نہیں قرار دیاجاسکتا تو پورے قارا-ن کا مبلغ پورے عالم کے لئے  کیسے بن سکتاہے ؟ پس یہ حدیث شریف حضرت علیؑ کی خلافت پر نص قاطع ہے اس کے متعلق لمبی چوڑی بحث سوالات وجوابات کےساتھ ہم نے تفسیر انوار النجف کی ساتویں جلد میں کی ہے وہاں ملاحظہ فرمایئے

ایک تبصرہ شائع کریں