إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِى بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَـٰلَمِينَ(96)
تحقیق پہلا گھر جو بنایا گیا لوگوں کےلئے وہی ہے جو مکہ میں ہے
ذکر ِکعبہ
اِنَّ اَوَّلَ بَیْت:
ظاہراً یہودی کے ایک شبہ کا جواب ہے کیونکہ تحویل قبلہ کے بعد وہ مسلمانوں
کو گمراہ کرنے کیلئے یہ پروپگنڈا کرتے تھے کہ ملت ابراہیمی کی پیروی اورتحویل قبلہ
دونوں یکجا جمع نہیں ہوسکتے کیونکہ بیت المقدس پرانے زمانہ سے قبلہ ہے اورحضرت
ابراہیم ؑکیلئے بھی قبلہ یہی تھا لہذااِس سے روگردانی ملت ابراہیمی کے منسوخ کرنے
کے مترادف ہے پس خداوند کریم ان کے جواب میں ارشاد فرمارہاہے کہ بیت المقدس کے
مقدم ہونے کا دعویٰ وہ غلط کرتے ہیں بلکہ سب سے پہلے جس مقام کو لوگوں کیلئے عبادت
گاہ بنایا گیا وہ وہی جگہ ہے جو مکہ میں ہے یعنی کعبہ اور اس کو بلا شک حضرت
ابراہیم ؑنے ہی تعمیر کیا تھا اوراس کے شواہد وعلامات اب تک موجود ہیں مثلاً مقام
ابراہیم اور اس کا جائے امن ہونا اوراس کی حج کالوگوں پر وجوب پس یہ کیسے کہا جاسکتا
ہے کہ بیت المقدس قدیمی قبلہ ہے اوریہ نیا؟
وجہ تسمیہ:
کہتے ہیںکہ بَکَّہکا لفظ بَکَّ یَبَکُّکے باب سے ہے اوربَاکٌ کا معنی ہے
ازدہام اورہجوم کی وجہ سے اس کا نابلہ ہوگیا اورحضرت جعفر صادق علیہ السلام سے
بروایت علل الشرایع ایسا ہی منقول ہے اور وہ جگہ کعبہ کے اردگرد طواف کرنے کا مقام
ہے یایہ کہ بَکَّ کا معنی گردن مروڑنا
اوریایہاں چونکہ سرکشوں اورتکبروںکی گردنیں جھک جاتی ہیں اوران کو سرکشی کی مہلت
نہیں دی جاتی اس لئے اس کو بَکَّہ کہا گیا
اسی طرح مکہ کے متعلق کہا گیا ہے کہ اس کی اصل بَکَّہ ہے اوریاکو میم سے تبدیل
کرلیا گیا ہے جس طرح لازب اورلازم کی دولفظیں ہم معنی ہیں یایہ کہ مکہ سے مشتق ہے
جس کا معنی ہے چوسنا پس پانی کی نایابی اورقلت کی وجہ سے اس کو مکہ کہا گیاہے
اورحضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ کعبہ کی جگہ کا نام بَکَّہ
ہے اورشہر کانام مکہ۔
ھُدًی لِّلْعٰلَمِیْن:
کعبہ کی ہدایت دینی ودنیاوی ہر دوطرح کی ہے
عبادات ومناسک حج کی ادائیگی فروتنی
وانکساری اورخداترسی و اخرت کی تعمیر سے متعلق ہیں اورعلمی اجتماعی یکجہتی ویگانگت
کاعمومی مظاہرہ اوراتفاق واتحاد کا عمل درس تمدن ومعاشرت کی اصلاح سے وابستہ ہیں
مختصرتاریخ کعبہ
تفسیر صافی میں بروایت فقیہ وعباشی حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ جب خداوند کریم نے زمین کو خلق
فرمانے کا ارادہ کیا تو ہواوں کوپانی میں موج پیدا کرنے کا حکم دیا چنانچہ اس کی
موجوں سے جھاگ پیدا ہوئی پس وہ بیت اللہ کے مقام پر یکجاہوئی اورایک جھاگ کا پہاڑ
بن گیا پھر خدانے اس کے نیچے سے زمین کو بچھادی بروایت فقیہ کعبہ کی زمین کا ٹکڑا
تمام زمینوں سے پہلے پیدا کیا گیا اوراسی سے پاقی زمین کو بڑھایا گیا
اقول: مکہ کوامّ القری کہنے کی
ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے مجمع البیان میں ہے کہ کعبہ کی زمین کا ٹکڑا باقی زمین
سے دوہزار سال قبل خلق ہوااوریہ پانی کے اوپر ایک سفید جھاگ کی مانند تھا
اوربروایت کافی امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ مقام کعبہ باقی زمین سے
بلند تھا اورچاندوسورج کی طرح چمکتا تھا پس جب حضرت آدم کو اُتارا گیا اوراطراف
کی تمام زمین کو بلند کرکے اس کو دکھایاا اورارشاد قدرت ہوا کہ یہ سب زمین تیری
ملکیت ہے تو حضرت آدم نے عرض کیااے پروردگار یہ سفید وچمکدار زمین کونسی ہے
توارشاد ہوا کہ یہ میری زمین میں میراحرم ہے اورتیرے اُوپر تازیست روز مرہ اس کے
سات سوطواف واجب ہیں پس جب ہابیل کو قابیل نے نے قتل کیاتو اس سے و ہ نورانیت ختم
ہوگئی اوراس کی سفیدی کی جگہ سیاہی نے لے لی اورنیز آپ سے مروی ہے کہ حضرت آدم
کے لئے خدانے موتی کی شکل میں کعبہ کوجنت سے اُتارا تھا اس کے بعد اس کو
اٹھالیاچنانچہ اس کی بنیاد باقی رہ گئی اوروہ اس کعبہ کی سیدھ میں ہے جس میں ہرروز
ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں پس حضرت ابراہیم واسمعیل کوانہی بنیادوں پر کعبہ کی
تعمیر کا حکم ہوا
جس وقت کعبہ کی تعمیر کا حکم ہوا اس وقت ہاں صرف حضرت اسمعیل اوریمن کا ایک
قبیلہ جرہم اطرف میں آباد تھا اورحضرت ابرہیم کی تعمیر کے بعدنبی جرہم اورعمالقہ
نے یکے بعد دیگرے اس کی ازسرنوتعمیر کی جب کعبہ کی تولیت حضرت رسالتماب کی جداعلی
قصی بن کلاب کے سپرد ہوئی تو نہوں نے
گراکر دوبارہ اس کی پختہ تعمیر کی اورعمدہ لکڑی سے اس کو مسقف کیااوراس کے پہلومیں
دارالندوہ تعمیر کردیا جس میں وہ مقدمات کے فیصلے کرتے تھے اوروہی ان کا اسمبلی ہاں بھی تھا اورقریش کے
باقی قبیلوں پر جہات کعبہ کو تقسیم کردیا چنانچہ قریشیوں نے کعبہ کے ارد گرد گھر
بنوالئے اوران کے دروازے کعبہ کی طرف کئے
میزان
بعثت سے پانچ برس پہلے جب کہ آپ کی عمر پینتیس برس کی تھی کعبہ کا مکان
سیلاب کی وجہ سے منہدم ہوگیا پس قریش قبائل نے اس کی تعمیر کے پروگرام کو اپس میں
تقسیم کرکے کام شروع کیا کلینی سے بسند صحیح حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے
مروی ہے کہ قریش نے خانہ کعبہ کی توسیع کا ارادہ کیاتو ایک زلزلہ عظیم بپا ہوا ورتاریکی
چھا گئی چنانچہ انہوں نے وہ ارادہ ملتوی کردیااورحضرت ابراہیم کی بنیادوں پر اس کی
تعمیر کی تجویر پاس کی جب حجراسود رکھنے کا وقت آیا تو قبائل قریش میں نزاع پیدا
ہوئی اورہر شخص اس میں سبقت کا خواہاں تھا پس تجویز یہ ہوئی کہ باب الشیبہ کی طرف
سے جو شخص پہلے اندر ائے اسی کافیصلہ سب کو مان لینا چاہیے تو سب سے پہلے حضرت
رسالتماب اس دروازہ سے داخل ہوئے پس انہوں نے نزاع کی تفصیل آپ کے سامنے بیان
کیاآپ نے اپنی روائے مبارک کوبچھا حجراسود کو اس کے اُوپر رکھااورفرمایاکہ قریش
کے ہرقبیلہ کا ایک ایک خود بنفس نفیس اس کو عباء مبارک سے اٹھا کر اسے اپنے اصلی
مقا م پر رکھ دیا
اسی زمانہ میں بادشاہ روم نے حبشہ میں گرجاکی تعمیر کے لئے کافی لکڑی ودیگر
عمارتی سامان بذریعہ کشتی روانہ کیا تھا اورہوانے بقدرت خداکشتی کو ساحل عرب کی
طرف دھکیل دی اوریہاں کشتی قریب ساحل کیچڑ میں دھنس گئی کشتی بانوں نے ہرچند کو شش
کی لیکن بے سود جب قریش کو اطلاع ہوئی تو ان کوچونکہ تعمیر کعبہ کے لئے لکڑی کی
ضرورت تھی فورا وہاں پہنچے اوروہ لکڑی خرید لائے اورکعبہ کی چھت مکمل ہوئی (حیات
القلوب )
اوربعض روآیات میں ہے کہ قریش نے مصارف کی کمی کی وجہ سے حجراسود کی طرف
سے کچھ حصہ چھوڑ کردیوار بیت اللہ اندر کی طرف کردی اورحجراسود کا حصہ بیت اللہ سے
خارج رہ گیا چنانچہ علامہ کے تذکرہ سے بھی یہی روایت منقول ہے (حاشیہ لمعہ ) لیکن
دوسری صحیح روایات اس کی تائید نہیں کرتیں بہر کیف طواف کے وقت حجراسود کو داخل
طواف کرنا ضروری ہوا کرتا ہے کیونکہ عمل صاحب شریعت اسی طرح ثابت ہے
جب حجاز پر عبداللہ بن زبیر کاتسلط ہوااورحسینؑ نے یزید کی طرف سے فوجی سپہ
سالار کی حیثیت سے مکہ پر چڑھائی کی تو کعبہ کوبھی منہدم کردیا اوراس کاغلاف
اورکچھ لکڑی کا سامان بھی جلادیا گیا لیکن یزید کی موت کی خبر پہنچنے پر جب یہ
لشکر وہاں سے دفع ہواتو ابن زبیر نے کعبہ کو ازسرنوتعمیر کرایا اورحجراسود کو بیت
االلہ کے اندر داخل کیا وراسکو پہلے کی نسبت بلند بھی کردیا اور یہ ۱۷ ھ کو ختم ہوئی پھر جب عبدالملک بن مروان تخت نشین ہوا تو اس نے حجاج بن کو ابن
زبیر کی سرکوبی کے لئے مکہ روانہ کیاچنانچہ ابن زبیر مارا گیا اورحجاج نے عبدالملک
کو کعبہ کی تعمیر میں ابن زبیرکی تجدید کی اطلاع بھیجی تو اس نے کعبہ کو اصلی پہلی
شکل پر لانے کا حکم نافذکیا پس حجاج نے شمالی طرف تقریبا چھ ذراع کی مقدار گراکر
اندر کی طرف قریش کی بنیادوں پر عبی کی تعمیر کو مکمل کیا دیوار یں پھر گر گئیں تو
عثمانی حکومت کے چوتھے تاجدار شاہ مراد نے اس کو ترمیم کی اورآج تک پھر اسی حالت
پر باقی ہے
مکان کعبہ
کعبہ کا مکان تقریبا مربع شکل کا ہے اوراس کاہر
زاویہ چار سمتوں میں سے ایک سمت کے مقابل ہے نیلے قسم کے پتھراوں سے دیواریں بنی
ہیں اورغالبا موجودہ بلندی سے زمان رسالت میں اس کی بلندی کم تھی جیسا کہ روایات
سے مستفاد ہوتا ہے
کعبہ کے زاویوں کو ابتداء سے ارکان کہا جاتا ہے چنانچہ شمالی زاویہ کو رکن
عراقی غربی زاویہ کو رکن شامی جنوبی زاویہ کو رکن یمانی اورشرقی زاویہ کو جس میں
حجراسود ہے رکن اسوک کہا جاتا ہے اوراسی
رکن اسود سے دروازہ تک کے فاصلہ کو ملتزم کہتے ہیں کیونکہ طواف کرنے والااس سے چمٹ
کردعائیں مانگتا اورگڑگڑاتا ہے
شمالی دیوار پر جو میزاب موجود ہے
جس کو میزاب رحمت کہتے ہیں یہ حجاج بن یوسف کی ایجاد ہے سلطان سلیمان عثمانی نے۹۵۴ھ میں اس کوچاندی کابنادیا تھا اس کے بعد سلطان احمد نے ۱۰۲۱ھمیں تبدیل کرکے اس کی جگہ دوسراچاندی کا میزاب رکھا جس میں
سنہری نقوش تھے پھر سلطان عبدالمجید عثمانی نے ۱۲۷۳ھمیں سونے کا میزاب اس کی جگہ نصب کرایا جواب تک موجود ہے
غلاف کعبہ
تعمیر کعبہ کی تکمیل کے بعد پہلے حضرت ہاجرہ نے اپنی چادر اس کے دروازہ پر
اویزاں کی تھی لیکن کعبہ کا پورا غلاف پہلے پہل تبع ابوبکر نے وپہلی چادروں سے
چڑھایا اوراس کے جانشین اس کی سنت پیرارہے اورلوگ مختلف قسم کی چادروں کا غلاف
چڑھاتے رہے اورجب ایک غلاف کہنہ ہوجاتا تو اس پر دوسرا چڑھا دیا جاتا تھا اورجب
قصی متولی کعبہ ہوا تو اس نے سالانہ غلاف چڑھانے کا اہتمام کی اوراس کی اولاد میں
یہ سلسلہ باقی رہا یہاں تک کہ جناب رسالتماب نے یمنی چادروں سے غلاف چڑھایا اورآپ
کے بعد پھر ایسا ہی ہوتا رہا لیکن جب مہدی عباسی خلیفہ ہو اتو بیت اللہ کے دربانوں
نے غلافوں کی زیادتی کا شکوہ کیاتو اس نے تمام غلاف اُتار کر صرف ایک غلاف کے باقی
رکھنے کاحکم جاری کیا اوراج تک پھر یہی طریقہ ہے اورکعبہ کے اندر چادر چڑھانے کی
ابتداء حضرت عباس بن عبدالمطلب کی والدہ نے کی تھی کیونکہ یہ اس کی نذرتھی