اس مقام پر مجھے ہر قسم کا رطب دیا بس اکٹھاکرنے کی ضرورت نہیں اور نہ جذبات کی رو میں بہنے کو اچھا سمجھتا ہوں پس جوبات عقل سلیم قبول کرے اسی پر ہی عقیدہ کی تعمیر زیادہ پائیداری کی موجب ہوگی بعض لوگ قلم کو بے لگام چھوڑ دیتے ہیں اور اس کے منہ پر عقل وخرد اور نظروفکر کی مضبوط جالی نہیں لگاتے پس وہ ہر قسمکے ہفرات اگلنے لگ جاتی ہیں مین طول کی بجائے فضئلت آل محمد کی چھلکتی ہوئی سلسبیل سے رحیق مختومکے خالص گھوںٹ پیش کروں گی جنہیں پی کر اہل ولا جھوم جائیں اور اہل شک علم ویقین کو اپنے دامن میں لینے کی سعادت حاصل کرسکیں
ہم پہلے ثابت
کرچکے ہیں کہ عالم اکبر میں پروردگار
عالم کیطرف سے جاری کردہ دو نظام
تکوینی وتشریعی میں سے آخری
یعنی تشریعی کو تکوینی پر فضلیت حاصل ہے
پس یہاں نظان تشریعی میں اگر آل محؐمد تمام مشرعین
پر افضل ثابت ہوجائیں توکل کائنات خداوندی میں ان کا افضل ہونا خود بخود ثابت
ہوجائے گا پس بفضلہ تعالیٰ ہم دعویٰ
کرتے ہیں کہ جناب رسالتماۤب کے بعد حضرت علیٰ سے لے کر حضرت مہدیؑ تک تمام آئمہ طاہرینؑ سابق تمام انبیاء سے افضل
واشرف ہیں اس باب میں اجمالی دلیل تو اسی قدر
ہی کافی ہے کہ جب سرکار رسالتماۤب سید
الا نبیاء ہیں تو انکی جگہ پرجوان
کا قائمقام ہوگا اسے انبیاء سے افضل ہونا چائیے اور یہ عقول سلمیہ کے لئے بدیہی
ہے کیونکہ ضلعی حاکم کا قائم مقام ضلعی حاکم کو ہی
سمجھاجاتاہے صوبائی حاکم کا قائم مقام صوبائی حاکم ہی شمار ہوتاہے اور صدر کا قائم مقام
مملکت میں صدر کی حیثیت کا حامل ہی
ہواکرتا ہے پس جناب رسالتمآبؐ کے صحیح
قائمقام کو انبیاء سے افضل ہون اچائیے لیکن میں اس بیان کو ذرا تفصیل کا رنگ دیتاہوں
قرآن مجید نے آدم وملائکہ کا قضہ باربار
دہرای ااور ساتھ ہی ابلیس کا سرزنش اور اس
کے انکار کو بھی قرآن نے کہی دفعہ ذکر کیا
تو کیایہ بار بار کی دہرائی دھرانے والے
کی بھول وچوک کا نتیجہ تو نہیں ؟ یقین جانئے
کہ نہیں تو پھر یہ باربار کا ذکر حضوؐر
کا اپنا تصرف تو نہیں ؟ یقین کیجئے کہ
کہ ایس ابھی ہر گز نہیں تو پھر کیا عقل سلیم کی آنکھوں پر پٹی ہے کہ وہ دیکھتی نہیں یانظر وفکرکی دوڑ دھوپ پرکوئی پابندی
ہے کہ وہ محنت نہیں کرتی آخر یہ
ہوکیوں ؟ صرف یہ نہیں بلکہ جہاں جہاں بھی واقعات کو باربار دھرایا گیاہے اس میں کوئی ایسارازپنہاں ہے جسے اذہان میں پختہ کرنے کی ضرورت ہے ایک
دفعہ سے نہیں تو دوسری دفعہ دوسری بار سے نہیں تو تیسری دفعہ آخرکسی وقت تو آنکھ
کھلے گی نا ؟
خدائے حکیم نے سوال وجواب
کے اندرز میں اپنی خلافت کا معیار اچھاتے رنگ سے ظاہر کیا پہلے اعلان میں تو انی جاعل کے لفظ سے تصریح فرمادی کہ یہ
مرتبہ نص سے تعلق رکھتا ہے یعنی میری اپنی ذاتی مشیت کےسوا اور کسی کے
مشورہ وصلاح کی ضرورت نہیں پس فرمایاکہ میں بناتا ہوں اس کے بعد جو فرشتوں نے آدم
پر نکتہ چینی کی کہ ایسے کو کیوں بناتاہے جو فسادوخونریزی کریگا اور اپنی اہمیت
وصلاحیت کو ذکر کیاکہ ہم تیری تسبیح وتقدیس کرنے والے ہیں تو انکے جواب میں صرف
اتناہی کہہ دیا انی اعلم مالاتعلمون جو میں جانتاہوں تم نہیں جانتے
سوال وجواب کے رنگ میں یہاں دوچیزیں بالکل واضح طور پر منظر عام پر آگئیں ایک تو خلافت
کے متعلق ملائکہ کا نظریہ کہ خلیفہ اسے ہونا چائیے جس میں ووصفتیں ہوں
پہلی یہ کہ فساد اور خونریزی کرنے والا
نہ ہو یعنی تمدنی زندگیکے وقار وناموس کو جانتا ہو اور اس کی پاس رکھتا ہوں
یایوں سمجھئے کہخود فسادی نہ ہو بلکہ فساد
کے قلع وقمع کی اہلیت رکھتا ہو یعنی سیاست مدینہ ہاور سیاست
ملکیہ کو اچھی طرح سنبھال
سکتا ہو اور اس پر کنٹرول کرسکتاہو
اور دوسری صفت یہکہ وہ تسبیح وتقدیس کرنے والا ہویعنی عابد وزاہد ہو متقی ہو حضرت آدمؑ
کے متعلق انکو ان دونو صفتوں کے جامع ہونے کا شبہ تھا کیونکہ جس مادہ سے
حضرت آدمؑ کی تخلیق ہوئی تھی اس کے
اثرات انکےسامنے تھے وہ اس قبل
زمین پر آباد ہونے والی پہلی
مخلوق قوم جن کو دیکھ چکے تھے اور نہیں
جذبات وشہوات کی کارستانیوں کاپتہ تھا جو اس مخلوق میں تفویض کی جارہی تھیں
لہذافساداور خونریزی کا اندیشہ بجاتھا نیز قوائے جسمانیہ کا جذب ودفع واخلاق نفسیہ میں نظم وضبط یابدنظمی وے قاعدگی کی
کھچاتائی خشوع وخضوع اور ایمان اخلاص پرکافی اثر اندازہوتی ہے لہذا
ایسی مخلوق تسبیح وتقدیس پروردگار کی بجااوری یقینا کوتاہی کرے گی کیونکہ خواہشات سے نہ گلو خلاصی ہوگی اور نہ یقین وتقویٰ کی
لذت نصیب ہوگی پس وہ اپنے مقام پر معیار خلافت ان دوچیزوں
کوسمجھتے ہوئے بول اٹھے
دوسری چیز جو اس جگہ منظر
عام پر آئی وہ یہ ہے کہ پروردگار عالم
نے بھی دوچیزوں کا اظہار فرمایا ایک یہکہ خلافت ارضیہ مین صرف
نص کوہی دخل ہے یہاں رائے ومشورہ کا کوئی
دخل نہیں اور دوسری یہ کہ جس بات کو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے مقصد یہ کہ تما پنے سابق تجربہ کی بناپر یامادہ کےخواص
واثرات کی بناپر جو ایک عام اندازہ کررہے ہو وہ درست ہے لیکن جوجوہر میری نظر میں
ہے وہ تمہیں معلوم نہیں جس کی بناء پر میں اسے خلافت کےعہدہ جلیلہ پر فائز کرنا چاہتاہوں پس وہ اس جو ہر کی بدولت
سیاست ملکیہ کو بھی سنبھال سکے گا اور تسبیح وتقدیس سے بھی غفلت نہ کرے گا اس بیان
مین عام انتخابات کی قلعی بھی کھل گئی کہ جب فرشتے کسی انسان کے متعلق صحیح نظریہ قائم نہیں کرسکتے کیونکہ ان کا اندازہ
صرف ظاہری نشوونما یاظاہری اسباب
تک ہی محدود ہوتا ہے تو عام لوگ کسی انسان کے انتخاب میں کہا ں تک صحیح
نظریہ کو اپناسکیں گے پس انتخاب کاحق صرف اس ذات کوہے جو اس کے باطنی
جوہرسے مطلع ہو جس پر تمام خوبیوں کا دارو مدار ہے اور وہ اللہ ہی ہے گویا انتخاب خلافت کے لئے ظاہری معیار
کافی نہیں بلکہ معیار خلافت کی واقعیت کو
صرف خدا ہی جان سکتاہے پس انی اعلم مالا تعلمون سے یہی واضح ہواکہ تم جس انداز سے
بات کررہے ہو وہ صرف ظاہر ہی ظاہر ہے اور میں جس نظریہ سے اعلان کررہاہوں وہ باطنی
جوہر پر موقوف ہے جس کی تمہیں کوئ خبر نہیں لہذا خلافت کے متعلق صرف مجھے ہی نامزد کرنے کا حق حاصل ہے
یہاں فرشتے خاموش
ہوگئے کیونکہ معاملہ باطن کا تھا جسکو وہ
نہ سمجھ سکے پس علمی میدان میں آدمؑ اور ملائکہ کو کھڑا کرکے ظاہری طور پر امتحان
لے لیا اور آدمؑ کا شرف علمی ظاہری طور پر جوان پر کھلا تو
انہیں معلوم ہواکہ عقل وعلم کا جوہر ہی وہ جوہر ہے جو اس مادہ ظاہریہ کے پردہ میں
کار فرماہے اور وہ جوہر اس مادہ کے تاریک پردہ میں رہ کر جوکام کرسکتاہے وہ اس
پردہ کے بغیر نہیں کرسکتا بیشک وہ مادہ کی تمام ظلمتوں اور تاریکیوں پر پس پردہ رہتے ہوئے چھاسکتاہے اور اپنی
نورانی کرنوں سے ظلمت کدہ عالم کومنور کرسکتاہے
پس تسبیح وتقدیس جو اس سے ظاہر ہوگی
وہ ہمارے بس سے باہر ہے اور اس کی
فضیلت بے شک ظاہر وباہر ہے چنانچہ اپنی بے
جالب کشائی پر خجالت محسوس کرتے ہوئے سجدہ مین گر کر عملا حضرت آدم کی افضلیت کا لوہا مان لیا اور بارگاہ رب العزت سے سبقت
لسانی کی معافی مانگ کرہمیشہ کےلئے اس
مقام عظیم کی خواہش کو خیر باد کہہ دیا اور آرام
میں رہے
فرشتوں نے اپنے نور
کے حسن اور اس کی حسن اطاعت کو عریانی کے رنگ میں دیکھا ہوا تھااور مادے کے
اثرات وفسادات کے صرف ظلمانی رکگ میں
دیکھا تھا اب جو اس مادےکے تاریک وسیاہ پر دے
کے اندر حسنکی زیبائش اور اس کی حسن اطاعت میں پر کشش آرائش کا ملاحظہ کیا تو بول اٹھے اور بے تحاشا زنان نور سے یہ کلمات
نکلے سبحانک لاعلم لنا الا ماعلمنتنا انک
انت العلیم الحکیم
گریا عالم تکوین کی انتظامیہ (ملائکہ ) دوباتوں کو سمجھے ہوئے تھے ایک تدبیر قہری بمشیت پروردگار اور دوسری تسبیح وتقدیس قہری بحکم فطرت نوریہ لیکن یہاں
مادیات کے تاریک پرودوں سے جونور چمکا
اس حسن تدبر وجوہر اطاعت اختیار یہ کی شعاعیں انکے لئے خیرہ کن تھیں لہذاہتھیار ڈال دیئے
پس علم ومعرفت ہی ہے معیار فضیلت
ومینار کرامت جس کی بناء پر تمام عالم تکوین عالم تشریع کے سامنے خادم کی حیثیت
رکھتاہے چنانچہ قرآن میں باربار یہ یاد
دہانی کرائی گئی ہے کہ یہ سب کچھ تمہارے لئے خلاق لکم مافی الارض جمیعا اور حدیث قدسی میں ایک فقرہ کہیں آتاہے خلقت
الخلق لک وخلقتک لی کہ اے اولاد آدم سب مخلوق میں نے تیرے لئے پیدا کی ہے اور تجھے اپنے لئے خلق کیاہے
جناب رسالتمآب کی تمام انبیاء پر افضلیت علم کی بدلت ہے چنانچہ بین المسلمین مسلم
حدیث قدسی لولا ک لماخلقت الافلاک
کا ذات پروردگار کا ارشاد جو حضوؐر کی عظمت
وجلالت شان کا مظہر ہے وہ صرف جذباتی جملہ نہیں بلکہ واقع
کا آئینہ دار ہے چنانچہ انسان کی
پیدائش سے ہی ملائکہ کی بھری مجلس میں پروردیگار عالم نے اس
کی برتری کا پہلے روز اعلان فرمادیا اسی طرح تمام انبیاء کی اپنی اپنی
امتوں سے فضیلت وکرامت کا اصلی سرچشمہ علم ہی تھا ماننا پڑتا ہے کہ سید الانبیاء کی تمام انبیا سے شرافت وسیادت کا اصلی معیار علم ہی
ہے اور قرآن تمام کتب سماویہ کے
علوم کا جامع ہے جس طرح حضؐور بنفس نفیس
تمام کمالات نبوت کے جامع ہیں اور
حضؐور قرآن کےعالم اور مدرس تھے
تو جوبھی انکی صحیح جانشین
ہوگا اسے انبیاء سے افضل ہونا چائیے میرے بیان
سے یہ اندازہ بلکہ یقین ہوجائے گا
کہ ہدایت خلق کے لئے خدا اسی کو منتخب
فرماتاہے جو اس انتخاب کے اہل ہو اور جناب
رسالتماۤب نے اپنے بعد کےلئے متعدد مقامات
پر وضاحت فرمادی کہ میری جانشینی کا اہل
کون ہے اور چونکہ اب علم کے ماخذ دہی تھے ایک قرآن اور دوسرے خود وجود سرکار
رسالتمآبؐ پس آپ نے ہر دو کے ورثاء حقیقہ
کی نشاندہی کھلے اور صاف الفاظ میں فرمادی تاکہ بعد میں کبھی مغالطہ نہ ڈالا جاسکے اور قیامت تک کے لئے ہدایت
امتکا مستقل انتظام ہوجائے گا
علامہ امینی نے اس مقام پرکتب مخالفین سے بہت کچھ آثار نقل فرمائے ہیں
ہم ہر دومقام یہاں
ذکر کرتے ہیں پہلا مقام کہ حضرت علیؑ علم رسول کے وارظ ہیں
1
قال علی وعاء
ووصیتی وبابی الذی اولی منہ
آپ نے فرمایا علیؑ میرے علم کا
ظرف میراوصی اور میرے پاس پہنچنے کا
دروازہ ہے
2
قال علی باب علمنی ومبین لامتی مارسلت بہ من بعدی
علیؑ میرے علم کا دروازہ اور میری امت کے لئے ان چیزوں کے
بیان کرنے والا ہے جنکے لئے میں بھیجا گیا
ہوں
کنزالعمال ج 6 کشف اللثام
3 علی
خازن علمی (شرح بن ابی الحدید )
علیؑ میرے علم کا خازن ہے
4 انامدینہ العلم وعلی بابھا فلا توتی البیوت الامن
ابوابھا
میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا
دروازہ ہے اور گھروں میں دروازوں سے ہی
داخل ہواجاتاہے
علامہ امینی نے الغدیر میں ایک سوترتالیس 143
علمائے اہل سنت کی فہرست لکھی ہے جنہوں
نے باسناد صحیحیہ یہ حدیث نقل کی ہے
عن البحار قالؐ من اراد ان ینظر الیٰ
آدم فی علمہ والی ابراہیم فی قرہ
والی سلیمان فی قضائہ والی یحیٰ فی
زھدہ والیٰ ایوب فی صبرہ والی اسمعیل فی صدقہ فلینظر الیٰ علی بن ابی طالب
یعنی جو شخص حضرت آدم کو اپنے علم میں ابراہیؑم کو خلت میں سلیمان کو اپنے فیصلوں میں یحیٰ کو
زہد میں ایوب کو صبر میں اور اسمعیل کو
اپنے صدق میں دیکھنا چایئے تو وہ علیؑ بن
ابی طالب کو دیکھ لے
یہ حدیث مختلف کتب آثار میں مختلف الفاظ سے وارد ہوئی
ہے ان کی تفاصیل الغدیر علامہ امینی میں ملاحظہ ہوں
حضرت علیؑ علوم قرآنیہ
کے وارث ہیں
عن ربیع الابرار للذمحشری عن ام سلمۃ سمعت رول اللہ یقول علی مع
الحق والقران والحق والقران مع علی ولن یفتر قاحتی یرد اعلی الحوض
ربیع الابرار سے مرو ی ہے ام سلمہ
فرماتی ہیں میں نے جناب رسول کریؑم سے سنا فرماتے تھے علیؑ حق اور قرآن کےساتھ ہے اور حق وقرآن علیؑ کےساتھ ہیں اوریہ
دونو ایک دوسرے سے ہر گز جدا نہ ہوں گے
یہاں تک کہ کوثر پر وارد ہوں گے
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کا عالم قرآن
ہونا اس قدر واضح اور کتب اسلامیہ
میں اتنا بدیہی ہے کہ صحابہ میں سے کوئی شخص بھی حضرت علیؑ
کی فضلیت کے انکار کی جرات نہیں کرسکا
چنانچہ علامہ جلال الدین سیوچی نے
تفسیر الاتقان میں بروایت حلیہ ابونعیم ابن مسعود سے سے روایت کی ہے
ان القران انزل علی سبعۃ
احرف مامنھا حرف الاولہ ظھر وبطن وان علی ابن ابی طالب عندہ منہ
الظاھر والباطن
ترجعہ قرآن سات حرفوں میں اُترا ہے اور ان میں سے
ہر حرف کا ظاہر بھی ہے اور باطن بھی اور
تحقیق علیؑ بن ابی طالب کے پاس اس کا ظاہر بھی ہے اور باطن
بھی اور حضرت ابن عباس کا قول ہے
کہ میرا اور محمدؑ کے تمام صحابہ کا علم علی کے مقابلہ میں اس طرح ہے جس طرح سات
سمندروں کے مقابلہ میں ایک قطرہ آب ہو
(الغدیر) اور اس میں شک نہیں کہ
حضورؐ کے بعد لوگ جس قدر حضرت علیؑ کے چشمہ فیوض علمیہ سے سیراب ہوئے
اور کسی سے ان کو اس کا عشر عشیر بھی دستیاب نہ ہوسکا اور حضورؐ کے بعد
ہمیشہ کے لئے مقام علم میں جو علیؑ نے عقدہ کشائی فرمائی تاریخ اسلام اس کی ممنون
رہے گی آپ کے عام خطبات بھی اگر آپ ملاحظہ
فرمائیں گے تو علوم ومعارف کے چھلکتے ہوئے سمندر آپ کو محسوس ہو نگے اور تمام صحابہ کرام حضرت علیؑ کے مقام علمی کےسامنے اس طرح سہمے ہوئے معلوم ہوں گے جیسے ایک ادنیٰ ساطالب علم
ایک بہت بڑے ماہراستادکےسامنے اور ان کی سطوت علمی اور صولت عرفانی میدان
علم میں باوجود للکارنے کے اپنے حریف نہ
دیکھ سکی تیرا چودہ سوسال
کے بعد والوں کا کہنا کہ فلاں بڑا
علم تھا اور فلاں بڑا مفسر تھا کوئی فائدہ
نہیں رکھتا جب کہ اوراق تاریخ انکی علوم ومعارف میں یتیمی
کا رونا رو رہے ہوں ہر سائل کو نوک
شمشیر سے یاتازیانہ کی شہ سے خاموش
کرالینا اور ہے اورعلوم ومعارف کی پیچیدہ
گھتیوں کو سلجھانا اور ہے حسن کی جلوہ گری پردوں کے اندر بھی چھپی نہیں رہتی اور بدصورتی کا عیب ہزار چھپانے کے بعد بھی آکر عریاں ہوکر رہتاہے
علیؑ کے علم کو کہاں تک چھپایا
جاسکتاہے اور کسی ہیمچدان کے عیب پر کہاں
تک پردہ ڈالا جاسکتاہے آخر نرجس کی مہک
اپنا آپ ظاہر کردیتی ہے اور عطر کا جوہر اپنی خوشبو سے خود ظاہر ہوجایا
کرتاہے خداکی قسم دشمن کے منہ سے تعریف اور سوکن کی زبان سے حسن کی تصدیق حقیقت وواقعیت کے سب سے بڑے گواہ ہیں علی ؑ کے فضائل ومناقب
کے اوپر پردہ ڈالنے والوں نے بہت کچھ
چھپایا اور کافی حقائق پر پردہ ڈالا لیکن
حضرت عمر کے اس اعتراف کوکوئی مورخ نظر اندازکرنے پر موفق نہ ہوسکا لولاعلی لاھلک
عمر حتیٰ کہ نحویوں کو بھی لولا کی حقیقت کو سمجھانے کےلئے اسی جملہ کے علاوہ اور
کوئی مثال نہ مل سکی اور یہ سب قدرت
پروردگار اور اس کی حکمت کےکرشمے ہیں کہ
طالبان علوم ابتداء ہی سے باور کرلیں کہ
رساتمآب کے بعد صرف علیؑ ہی ہے جو چرغ علم ومعرفت پر چمکتا ہو اآفتاب ہے جس کی روشنی تمام اکابر صھابہ کےلئے باعث
فیض تھی میرا دن چاہتاہے کہ اس مقام پر حضرت امیر اعلیہ السلام کی زابانی اپنے
مقام علم کی ترجمانی میں ان کے چند جملے پیش کرو ں جو قلب ایمان میں فرط
وانبساط کے موجب ہیں بحارالونوار کی جلد جہارم باب احتجابات امیرالمومنین
میں اصبغ بن نباتہ روایت کرتاہے کہ جب میرے مولا سریر آرائے خلافت ہوئے اور
لوگ بیعت کرچکے تو آپ رسالتمآب کا عمامہ
سر پر حضوؐر کی عبادوش اطہر پر نعلین رسول الثقلین زیب پااور تلوار سرکار رسالتمآب
زیب کمر کرکے مسجد نبوی میں تشریف لائے پس
آ تے ہی خطیب منبر سلونی نے منبر رسالت کو
رونق بخشی اور اطمینان سے بیٹھ کر اپنے
ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں
میں ڈال کر دونوں ہاتھ گود میں رکھ لئے
اور ارشاد فرمایا
یامعاشر الناس سلونی قبل ان
تفقدونی ھذاسفط العلم ھذا لعاب رسول اللہ ھذا مازقنی رسول اللہ زقازقا سلونی فان عندی علم الاولین والاخرین اماواللہ
لوثنیت لی الوسادۃ فجلست علیھا لافتیت اھل
التورٰۃ بتوراتھم حتیٰ ینطق التوراۃ فتقول
صدق علی ماکذب لقد افتاکم بناانزل اللہ وافتیت اھل الانجیل بانجیلھم حتیٰ ینطق الانجیل
فیقول صدق علی ماکذب لقد افتاکم بناانزل اللہ فی وافتیت اھل اقرآن بقرآن حتی
ینطق القرآن فیقول صدق علی ماکذب لقدافتاکم بناانزل اللہ فی وانتم تقتلون
القرآن لیلا ونھار افھل فیکم احد یعلم
مافیہ الیٰٓ ان قال ثم سلونی قبل ان تفقدونی فوالذی خلق الحبط وبراء النسمۃ لو
سئلتمونی عن ایۃ ایۃ فی لیل نزلت اوفی
نھار نزلت مکیھا ومدنیھا وسفریھا وحضر یھا نسخھا ومنسوخھا ومحکمھا ومتشابھما وتاویلھا وتنزیلھا لاخبر تکم (الحدیث)
وفی اخر قال سلو نی قبل ان
تفقدونی فان بین جوانحی علما جما
گروہ حاضرین مجھ سے میرے چلے جانے
سے قبل پوچھ لو یہ علم کا جوہر ہےیہ زبان رسالت کا لعاب ہے یہ رسالت مآبؐ کی زبان وحی کا چوسا ہوا نچوڑ ہے مجھ سے پوچھو تحقیق میرے پاس اولین وآرین کا علم ہے ہاں بخدااگر میرے لئے تکیہ
لگایا جائے اور میں اوپر بیٹھ جاؤں تو
تورات والوں کو تورات سے فتوی ٰدو یہاں تک
کہ خود تورات بول کرکہے کہ علیؑ کا قول
سچاہے جھوٹا نہیں اور نہوں نے وہ فتویٰ دیاہے جو مجھ میں اللہ نے نازل فرمایا اور انجیل
والوں کو انجیل کافتویٰ دوں حتیٰ کہ انجیل
بول اٹھے کہ علیؑ نے سچ فرمایا جھوٹ نہیں
بلکہ وہ فتویٰ دیا جو اللہ نے مجھ میں نازل کیا
اور قرآن والوں کو قرآن سے فتویٰ دوں کہ قرآن بول کرکہے علیؑ نے وہ کہاجو مجھ میں اللہ نے اتارا اورتم بھی صبح
وشام قرآن پڑھتے ہو بتاؤ تم میں کوئی ایسا ہے جو اسکے علوم کو جانتاہو
(سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے پھر فرمایا) پھر پوچھو قبل اس کے کہ مجھے نہ پاؤ مجھے اس ذات کی قسم
جس نے دانہ سے انگوری کو پیدا کیا اور روح کو خلق فرمایا اگر تم مجھ سے ایک ایک
آیت پوچھو خواہ رات میں اُتری یا دن میں اُتری مکی ہو یامدنی سفری یاحضری ناسخ
یامنسسوخ محکم یامتشابہ اور تاویل یا تنزیل
تو میں تم کو بتادوں گا
ایک اور حدیث میں آپ نے فرمایا مجھ سے پوچھو قبل اسکےکہ مجھے نہ پاسکو
تحقیق میری پسلیوں کے اندر علم کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے اسی
طرح حضرت امیرا علیہ السلام کایہ فرمان صرف جذباتی
نہیں بلکہ حقیقت کا ترجمان ہے
لوشئت لاوقرت سبعین بعیر امن تفسیر فاتحۃ الکتاب اگر میں چاہوں تو صرف سورہ فاتحہ کی تفسیر سے ستر اونٹ لاد سکتاہو فضل بن روز بہان جیسا متعصب آدمی بھی علیؑ
کی علمی برتری کو کو تسلیم کئے بغیر نہ رہ سکا چنانچہ جہاں علامہ
نے حضرت علیؑ علیہ السلام کی خلافت
بلا فصل کے اثبات کے لئے یہ آیت پیش کی ثم
اورثناالکتاب الذین اصطفینا من عبادنا
ترجمہ پھر ہم نے کتاب کا وارث ان لوگوں
کو بنایا جنہیں ہم نے اپنے بندوں
میں سے چن لیا تو فضل بن روز بہان
اگر چہ آیت کو دلیل خلافت بنانے سے انکاری رہا لیکن یہ جملہ کہاگیا علی من جملۃ ورثۃ الکتاب فھذا یدل علیٰ علمہ ووفورتوغلہ فی
معرفۃ الکتاب انتھیٰ ترجمہ
علیؑ وارثان وارث ہونا دلالت
کرتاہے کہ آپ کتاب کے حقائق
کوجانتے تھے پس کتاب کا وارث ہونا دلالت
کرتاہے کہ آپ عالم تھے اور کتاب کی معرفت
میں آپ کافی گہرائی تک پہنچے ہوئے تھے آخر میں صرف حدیث ثقلین پیش کرتا ہوں جو تمام اہل اسلام کی کتب صحاح
میں موجود ہے اور حدتواتر کو پہنچی ہوئی
ہے آپ نے فرمایا انی تارک فیکم
الثقلین کتاب اللہ وعترتی ماان تمسکتم بھما لن تضلو ابعدی اولماقال
ترجمہ میں تم میں دوگرانقدر
چیزیں چھوڑے جاتاہوں ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری عترت جبتک تم ان دونو سے
تمسک رکھو گے ہر گز گمراہ نہ ہو گے
یہاں تک پہنچنے
کے بعد یہ بات روز روشنکی طرح واضح ہوگئی کہ امت اسلامہ میں جناب رسالتمآب کے بعد حضرت علیؑ سب سے بڑے عالم تھے اور تمام کمالات کا جامع فقرہ جو حضوؐرنے فرمایا تھا
علی مع الحق والحق مع علی علیؑ حق
کےساتھ ہے اور حق اس کے ساتھ ہے اور علاوہ ازیں حضوؐر نے
تصریح بھی فرمادی کہ علیؑ تمام انبیاء
کے کمالات کا جامع ہے جیسے کہ ہم ایک حدیث اس مضمون کی نقل کرچکے ہیں پس حضرت امیر علیہ السلام کی تمام نبیاء پر افضؒیت ثابت ہوگئی اور یہی بیان آپ کی
خلافت بلا فصل کی بھی دلیل ہے کیونکہ فاضل کی موجود گی میں مفضول کو اور افضل کی جگہ فضول کو بٹھانا بالکل غیر معقول ہے پس اگر جناب رسالتمآب کی حیثیت دین کی سربراہی کی ہے تو ان کی جگہ
دینی سربراہ وہی ہوسکتاہے جو دینی معلومات کوکم ازکم دوسروں سےزیادہ جانتاہو اور
وہ سوائے علیؑ کے اور کوئی نہیں تھ ااسی طرح
آیتہ مجیدہ آیت مباہلہ میں انفسنا
کی لفظ ثابت کررہی ہے کہ حضرت علیؑ نفس
رسولؑ ہے تو جب رسول ؐ تمام انبیاء
سے افضل ہے تو نفس رسول بھی افضل ہوگا اور
خلافت بلا فصل کےلئے بھی یہی لفظ کافی ہے
اور اسی بیان سے واضح ہوگی کہ حضرت علیؑ کے بعد یکے بعد دیگرے آئمہ طاہرین علیہم
السلام تمام انبیاء سابقین سےافضل ہے