اَلْیوْمَ أَکمَلْتُ لَکمْ دینَکمْ وَ أَتْمَمْتُ عَلَیکُمْ نِعْمَتی وَ رَضیتُ لَکُمُ الْإِسْلامَ دیناً ﴿۳﴾ (مائدہ ع آیت 3 )
تفسیر درمنثور 1 میں علامہ سیوطی نے حضرت ابوسعید حزری سے روایت کی ہے
لمانصب رسول اللہ علیا یوم غدیرخم فنادٰی لہ بالولایتہ ھبط جبریل بھذہ الایتہ الیوم اکملت لکم دینکم جب غدیر خم کے دن حضرت رسالتماب علیؑ کو بلندکرکے انکی ولایت کا اعلان کرچکے تو جبریل یہ آیت لےکر اترا الیوم الخ یعنی آج میں نے تمہارا دین کامل کردیا
یہ روایت چونکہ بوجہ تواتر کے انکار کا موقعہ نہیں دیتی لہذا بعض لوگ اسکی تاویل یہ کیاکرتے ہیں کہ دوستی کا حکم دیا گیا تھا کیونکہ ولایت کا معنی دوستی ہے اور مولی کا معنی دوست ہے لیکن اس موقع پر حسان کے قصیدہ نے ان تمام تاویلات کو ختم کرکے رکھ دیا اور مشہور ومعروف کتب معتبرہ میں درج ہے علی ماحکی چنانچہ حسکانی نے شوائد التنزیل میں خوارزمی نے فضائل میں حموینی نے فرائد السمطین میں نطنزی نے خصائص میں اوردیگر مصنفین نے اپنی تصانیف میں درج کیاہے ہم قصیدہ کے چند اشعار یہاں درج کرتے ہیں
ینادیھم یوم الغدیر نبیھم بخم واسمع بالنبی منادیا بانی مولاکم نعم وولیکم فقالو اولم یبدواھناک التعادیا الھک مولانا وانت ولینا ولن تجدن منالک الیوم عاصیا فقال لہ قم یاعلی فاننی رضیتک من بعدی اماما وھادیا فمن کنت مولا ہ فھذاولیہ فکونو الہ اصار صد ق موالیا ھناک دعااللھم وال ولیہ وکن للذی عادی علیا معادی ا
غدیر کے دن انکو جناب رسالتمآبؐ بآواز بلند ندادے رہے تھے مقام خم میں اور حجورؐ کی آواز تمام لوگوں کو خوب منائی دے رہی تھی کہ میں تمہارا مولیٰ اور دین ودنیا میں تمہارے امور کا مختار ہوں تو ان تمام نے بغیر کراہت کے بیک زبان جواب دیا تیرا خدا ہمارا مولا ہے اور تو تمام امور میں ہمارا ولی وحاکم ہے اور اس معاملہ میں ہمارا کوئی فرد آپ کے حکم سےسرتابی نہ کرے گا پس آپؐ نے فرمایا یاعلیؑ اٹھو کیونکہ میں اپنے بعد تم کو امامت اور ہدایت کے عہدہ کے لئے نامزد کرتاہو پس تم لوگ اس کے سچے دوست اور معاون بن جاؤ اس وقت دعاکی اے اللہ اس کے دوست کو دوست رکھ اور جو اس کا دشمن بنے تو اسکا دشمن بن
قصیدہ میں امام وہادی کی دولفظیں مولیٰ کا ہی ترجمہ ہیں حسان کے نہ اس ترجمہ پر جناب رسالتمآبؐ نے نکیر فرمائی اور نہ کسی صحابی نے اعتراض کیا حتی کہ اس روایت کے نقل کرنے والے مورخٰن نے بھی حسانکے اس تصرف پر زبان کشائی نہیں کی جس سے صاف ظاہر ہے کہ حضورؐ نے مراد ہی یہی معنی لیا تھا جو حاضرین کو مقامی قرائن کے لحاظ سے معلوم تھا اور اس روایت کے لئے مناقب فاخرہ سے جو الفاظ منقول ہیں ان میں علیؑ کوہارون سے مثال بھی دی گئی چنانچہ الفاظ ملاحظہ ہوں
فقال النبی من اولیٰ منکم بانفسکم فضجواباجمعھم وقالوا اللہ ورسولہ فاخذ بید علی وقال من کنت مولاہ فعلی مولا ہ اللھم وال من والاہ وعاد من عداہ وانصر من نصرہ واخذل من خذلہ لانہ منی وانا منہ وھو منی بمبزلتہ ھارون من موسیٰ الاانہ لانبی بعدیٰ وکانت اخر فریضتہ قرضھا اللہ علیٰ محمد ثم انزل اللہ الیوم اکملت لکم الایتہ
حضورؐ نے پوچھا تمہارے نفسوں پر جو تم سے زیادہ حق تصرف رکھتا ہے وہ کون ہے ؟ تو سب پکارا ٹھے اور کہنے لگے وہ اللہ اور اس کا رسول ہے پس آپ نے حجرت علیؑ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا جس کامیں مولا ہوں تو اس کا علیؑ مولا ہے اے اللہ تو اس کو دوست رکھ جو اس کو دوست رکھے اور اسکو دشمن رکھ جو اس کو دشمن رکھے اس کی مدد کر جو اس کی مدد کرے اور اس کو رسواکر جو اس کورسواکرے کیونکہ وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور اس کو مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰسے تھی مگر فرق یہ ہے کہ میرے بعد نبی کوئی نہ ہوگا اور یہ آخری فریضہ تھا جو اللہ نے آپ پر فرض کیاتھا پھر اس کے بعد اللہ نے یہ آیت بھیجی الیوم اکملت الخ میں نے آج تمارا دین کامل کردیا ہے
ان لفاظ میں حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی خلافت وافضلیت تین مقاموں سے سمجھی جارہی ہے
حضورؐ کا پہلے اپنے اولیٰ بالتصرف ہونے کا اقرار لینے کے بعد علیؑ کے مولا ہونے کا اعلان صاف بتلاتاہے کہ یہ علیؑ کے اولیٰ بالتصرف ہونے کا ہی اعلان تھاورنہ محبت اور دوستی کے حکم کےلئے اپنے لئے اس اقرار لینے کی کیاضرورتھی
2 من کنت کی تعمیم یعنی یہ کہ جس جس کا میں مولا ہوں یعنی اولیٰ ہوں اس اس کا علیؑ مولا ہے یعنی اولیٰ ہے مولا کا معنی اولیٰ پہلے فرینہ کی رو سے ہے پس اس فقرہ میں حضرت علیؑ کی تمام کائنات خداوندی میں رسول خدا کے بعد افضلیت کااعلان ہے
1
آخر میں علیؑ کوہارون سے اور اپنے آپ کو موسیٰؑ سے مشابہت دے کر علیؑ کی حکومت
وخلافت کو ناقابل تاویل بنادیا کیونکہ حضرت موسیٰؑ کوہ کوہ طور پر جاتے ہوئے ہارونؑ کی صرف دوستی
کا حکم نہیں دے گئے تھے بلکہ اولیٰ بالتصرف اور حاکم مقرر کرکے چلے تھے اور چونکہ ہارونؑ عہدہ نبوت پر بھی فائز
تھے اور یہاں نبوت ختم تھی لہذامباوااس
مشابہت سے کوئی علیؑ کو نبی سمجھ لے اس کی
وحاحت فرمادی کہ میرے بعد نبی کوئی نہہوگا پس اس تاریخی پس منظر کے بعد آیت الیوم
اکملت کا اترنا حضرت علیؑ کی خلافت منصوص
ہونے کی تاکید درتاکید ہے اور مناقب
اخطب خوارزمی سے بروایت حزیفہ یمانی
وابوذر غفاری منقول ہے کہ حضورؐ نے جب خم غدیر میں ولایت علیؑ کا اعلان فرمایا تو
اس کے بعد حکم دیا سلمواعلی علی بامرۃ المومنین کہ علیؑ کو خلافت مومنین کا سلامکرو اور اس کے بعد آیت اکملت نازل ہوئی