التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

حرم کی زمین

2 min read

 زمینوں  میں سے وہ خظے  جن کااحترام خصوصیت سے واجب  ہے  اس کو حرم یاحرام کہاجاتاہے جیسے مسجدالحرام  بیت الحڑام یعنی  حرمت والی مسجد حرمت والا گھر  جس طرح زمانی لحاظ  سے  مہینوں مین سے چار مہینے  حرام  ہیں  یعنی حرمت والے  ہیں رجب ذوالقعدہ ذوالحجہ اور محرم کہ عرب لوگوں میں ان مہینوں  کی حرمت  تھی  حضرت  ابراہیمؑ  نے دعا مانگی تھی اے اللہ تو اس کو بلد امن قرار دے  چنانچہ خداوندکریم نے  اسکو حرم بنادیا  حضوؑر  سرور  کائنات سے مروی ہے آپ نے فرمایا میرے جد ابراہیمؑ  نے  مکہ کو حرم بنایا اور ہم نے مدینہ کو حرم بنا دیا پس مکہ کی زمین  حضرت ابراہیمؑ  کی دعا سے حرم  بن گئی اور مدینہ  حضوؑر  کی وجہ سے حرم بن  گیا حرم مکہ کے خصوصیات یہ ہیں

1       اگر کوئی مجرم جرم کرکے بھاگ کر حم کی حدود میں آجائے  تو س کو سزا نہیں دی جائے گی  جب تک حرم سے نکل نہ جائے

2       حاجی  پر شکار ممنوع  ہے اگر وہ حرم میں کرے گا تو کفارہ دگناہوگا

3       مکہ کی زمین میں تمام مسلمانوں  کو رہنے کاحق  حاصل ہے لہذا وہاں کی زمین  ملکیت کسی کی متصور نہیں  ہوگی جو مسلمان رہنا چاہے گا اسے اس کا حق حاصل  ہے

4         کعبہ  کی عمارت سے کسی مسلمان  کو بلند مکان بنانے کا حق حاصل نہیں ہے

5       حدود حرم کے  متعلق معمولی سے معمولی  چیز بھی اگر کسی کی کوئی ٹھائے  گا تو وہ لقطہ  نہیں  ہوگا بلکہ امانت ہوگی

6       تفسیر صافی میں ہے حرم میں مدفون ہونے والا قیامت کی گھبراہٹ سے محفوظ رہے گا بشرط ایمان

7       حرم خدا  یا حرم رسول میں مرنے  والاقیامت  میں بھی با امن ہوگا(بشرط ایمان  کے ساتھ مرا ہوں )

8        جو شخص ایمان کےساتھ ان دوحرموں کے درمیان مرجائے تو حساب نہوگا یعنی وہ جنتی ہوگا

عربوں کا دستور  تھاکہ اگر  وہ اپنے باپ کے قاتل کو بھی حرم بیت اللہ  میں دیکھ لیتے  تو اس سے کعبہ  کے احترام کی خاطر وہاں انتقام نہ لیتے تھے  حجرت امام مظلوم سید الشہداء علیہ السلام  نے مدینہ  کو حرم رسولؐ  کی وجہ سے چھوڑا تھا اور کعبہ سے حج کے احرام  توڑ کر کوچ کیا تھاتاکہ میری وجہ سے حرمکی توہین  نہ ہو اور اسی وجہ سے  حضرت علی علیہ السلام نے مدینہ کو چھوڑ کر کوفہ  کوجائے سکونت بنایا تھا تاکہ میری وجہ سے لوگ حرم رسولؐ کی توہین نہ کرسکیں  کیونکہ جنگ کرنا حرم کی توہین کے مترادف تھا اور اس حرمت کی وجہ سے مدینہ کی مسجد نبوی میں ایک نماز دس ہزار نمازوں کو ثواب رکھتی ہے اور مسجد الحرام کعبہ میں ایک نماز ایک لاکھ نماز کاثواب رکھتی ہے  نیک  بخت ہیں  وہ لوگ جو اس شرف کے حاصل کرنے  پر موفق ہوتے ہیں  خدا سے دعا ہے  کہ ہمیں بھی شرف یاب  فرمائے اور  جملہ مومنین کو توفیق عطافرمائے  اس اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے اس سال ہمیں یہ سعادت کرامت فرمائی والہ الحمد  مقام کی موزونیت کے پیش نظر  استطراداہم دواورحرموں کا ذکر بھی کردیتے جس کا شیعی معتقدات  سے تعلق ہے  ایک مسجد کوفہ اور دوسرے حرم حسین علیہ السلام۔

ایک تبصرہ شائع کریں