شیخ صدوق نے عقائد میں فرمایا ہےکہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت آدم سے لے کر حضرت عبداللہ تک آپ کے آبا ءکا سلسلہ سب مسلمان تھا اور جناب آمنہ والدہ ماجدہ حضور بھی مسلمہ تھیں اور حضور نے فرمایا تھا کہ سلسلہ آبا ءمیں آدم سے لے کر آخر تک میری ولادت نکاح سے رہی ہے حضرت ابو طالب بھی مسلمان تھے اور ایک یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ حضرت عبدالمطلب حجت خدا تھے اور حضرت ابو طالب ان کے وصی تھے حضرت رسالت مآب کے آبا ءطاہرین کا سلسلہ سب کا سب مسلمان ہونامتواتر روایات سے ثابت ہوتاہے اور یہ سب ملت ابراہیمی پر تھے کیونکہ حضرت موسی و حضرت عیسی صرف بنی اسرائیل پر مبعوث برسالت ہوئے تھے جو حضرت اسحق کی اولاد تھے اور اسماعیل کی اولاد کے لئے سنت ابراہیمی ہی نافذالعمل تھی اور حضرت عبدالمطلب کا حجت خدا ہو نا بھی اسی ملت کے ماتحت تھا ۔
قرآن مجید کی آیت تقلبک
فی الساجدین سورہ شوری میں تما م منصف مزاج مفسرین حتی کہ اہلسنت کے آئمہ تفسیر
بھی اس امر کا اعتراف رکھتے ہیں کہ اس آیت میں حضرت رسالتمآب کے آبا ءطاہرین کا
ساجد ہونا مذکورہے چنانچہ تفسیر کبیر سے منقول ہے کہ اس کی تفسیر میں حضور نے ارشاد فرمایا مجھے ہمیشہ خد
اپاک صلبوں سے پاکیزہ رحموں کی طرف منتقل فرما تا رہا حتی کہ میں تمہارے سامنے
آگیا اور دیگرتفاسیر سے بھی یہی مضمون ملتاہے نیز مظروف کےلئے ظرف کی موافقت ضروری
ہے کوئی شریف کسی مشروب کو اس کے نامناسب ظرف میں ڈالنا پسند نہیں کرتا اور کسی
پاکیزہ چیز کو کسی نجس برتن میں رکھنا فاعل مختار و دانا سے بعید بلکہ ناممکن ہے
تو ذات ایزو متعال سے ناممکن ہے کہ اشرف الانبیا کے نور مقدس کونجس ارحام کا
فراصلات میں ایک وقت مدید تک ساکن بنائے رکھے یہ عجز الہی یا اس کے جہل کا کاشف ہے
تعالی اللہ عن ذالک البتہ جولوگ نبوت کو کسبی کہتے ہیں اور نبی کوا پنے جیسا خیال
کرتے ہیں وہ جو جی چاہے کہتے رہیں دیکھئے قرآن مجید جوہمارے نزاعات کے حل کی آخری
امید گاہ ہے اس میں حضرت موسی علیہ السلام کے تذکرہ میں ہے جب حضرت موسی صندوق میں
بند کرکے دریا سپرد ہوئے اور آخر کار فرعون کے گھر پہنچے تو حضرت آسیہ نے سفارش کی
اور ان کو قتل سے محفوظ رکھا گیا پھردودھ دینے کے لئے دایہ کی تجویز ہوئی تو آپ
کسی کا دودھ قبول نہ کرتے تھے پس آپ کی بہن جو صندوق کے ساتھ ساتھ یا بعد میں
اطلاع پا کر پہنچی اور دیکھا کہ میرا بھائی کسی عورت کا دودھ قبول نہیں کرتا تو
بڑھ کر کہا ھل ادلکم علی اھلبیت یکفلونہ کیا میں ایسے خاندان کا پتہ دو ں جو اس کی
کفالت کر سکتے ہیں پس اپنی ماں کا دودھ قبول کر لیا دنیا یہ ماجرا دیکھ کر حیران
رہی اور واقع کا کسی کو پتہ نہ تھا کہ یہ اس کی ماں ہے خدا وند کریم ارشاد فرماتا
ہے وحرمنا علیہ المراضع ہم نے موسی پر اس سے پہلے دوسری عورتوں کا دودھ حرام کر
رکھا تھا اس لئے کہ وہ کافر تھیں اور خدا نہیں چاہتا تھا کہ میرے کلیم کی غذانجس
دودھ بنے جب کلیم اللہ کے لئے کسی کافرہ عورت کی تربیت اور رضاع کو اللہ نے پسند
نہ فرمایا تو فخرموسی سید الانبیا کی تربیت ورضاع توبجائے خود نجس رحموں اور نجس
صلبوں میں ایک مدت مدیدہ تک رکھنا کیسے ممکن ہو سکتا ہے بنا برین یہ با ت قابل
تسلیم ہے کہ تمام انبیا طاہرین کے آباءمسلمان ہو ا کرتے تھے اور حضرت ابراہیم کے
باپ کے متعلق جو جھگڑا ہے وہ بھی ظاہرین فقط کا دھو کا ہے کیونکہ حضرت ابراہیم کا
والد تارخ تھا اور آور ان کا چچاتھا چونکہ حضرت ابراہیم کے باپ کا انتقال ہو گیا
تھا ورچچا باپ کے بھائی کی حیثیت سے باپ کا قائمقام تھا اس لئے ان کو اب کہہ کر
پکارتے تھے اور قرآن نے بھی وہی لفظ اب کا استعمال فرمایا ہے