البیت المعمور
کعبہ کی محاذات میں عالم بالا میں ایک مقام ہے جو ملائکہ سما کا قبلہ ہے جس طرح کعبہ زمین والوں کا قبلہ ہے اور روایت میں اس کا چرخ چہارم پر ہونا منقول ہے اسی مقم پر شب معراج حضوؐر گئے تھے اور جبرئیل نے اذان کہی تھی اور گزشتہ تمام انبیاء نے آپ کے پیچھے نمازادا کی تھی اور یہ آیت اسی مقام پر اتری تھی واسئل من ارسلنا الآیہ اور آپ نے پوچھا تو تفسیر برہان میں ہے کہ تمام نبیوں نے جواب میں کہا تھا ہم اللہ کی توحید تیری نبوت اور علیؑ کی ولایت پر مبعوث ہوئے ہیں اور ینابیع المودۃ میں بھی یہ روایت موجود ہے نیز تفسیر نیشاپوری سے بھی نقل کی جاتی ہے
ہمارا عقیدہ ہے کہ پہلا گھر
جولوگوں کی عبادت کےلئے تعمیر ہوا ہے
وہ کعبہ ہے جو ہزاروں برکتوں کا
سرچشمہ ہے اور ہدایت کا بلند ترین مینار
ہے چنانچہ ارشاد قدرت ہے ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبارکا وھد للعالمین پ
تحقیق پہلا گھر جو لوگوں کے لئے
بنایا گیا وہ وہی ہے جو مکہ میں ہے درحالیکہ
وہ بابرکت اور عالمین کا ہادی ہے
اس کی تعمیر حجرت ابراہیم علیہ
االسلام نے بحکم پروردگار کی تھی اور حضرت اسمٰعیل اینٹیں
ٹھا اٹھا کردیتے تھے اور روایات
میں ہے کہ کعبہ کی زمین سب زمینوں سے پہلے سطح آ ب پر
بچھائی گئی پس یہ پوری زمین کا دل ہے حضرت
ابراہیمؑ کے بعد کئی دفعہ اس کی تعمیر
ہوئی ہم نے تفسیر انوار النجف کی چوتھی جلد
میں ایک جامع بیان لکھا ہے جس میں کعبہ کی مختصر تاریخ موجود ہے ہمارے نزدیک کعبہ کی عزت واجب ہے اور اس کی توہین صرف گناہ نہیں بلکہ موجب کفر ہے کعبہ کو اہل السلام سے متعدد تعلقات ہیں
1
آیات بینات
اس میں ہین جن کی تعظیم واجب ہے
2
تمام مسلمانوں
کا مسلم طور پر قبلہ سے نمازوں میں
اسکی طرف رخ کرنا ذبح کے وقت ذابح ومذبوح
کا اس کی طرف متوجہ ہوتا اور مرنے والے کا
اس کی طرف منہ کرنا بوقت غسل میت کا ایک طریق خاص سے اس کی طرف رخ کرنا اور دفن کے
وقت داہنے پہلو
پر میت کو الٹانا کہ کعبہ کی طرف اس کا منہ ہوجائے ضروری ہے
3
حضرت امیرالمومنین
علی بن ابی طالب علیہ السلام کیجائے ولادت ہے اور کتب فریقین سے یہ بات تسلیم شدہ ہے
4
یہ گھر بیت اللہ ہے اور
اسلام کی مقدس عبادت حج کا
فریضہ اسی جگہ ادا ہوتا ہے
5
شیعوں کے
لئے اس میں اور بھی ایمانی روابط ہیں کہ
ام الآئتہ جناب فاطہ بنت اسد کے لئے
اس کی دیوار شگافتہ ہوئی تھی
6
شیعوں کے لئے ایک یادگار مصیبت بی ہے
کہ حجرت امام حسین علیہ السلامکے
احرام توڑائے گئے اور ان کو حج کا موقعہ نہ دیا گیا تھا
7
حضرت قائم آل محمداؐ بھی پہلے
پہل بوقت ظہور کعبہ میں ہی تشریف لائیں گے اور یہیں
سے اعلان کریں گے
8
کعبہ کی وجہ سے مکہ اور اس کا گردونوح حرم پروردگار ہے جوجائے امن قرار دیاگیا
9
حضرت ابراہیم واسمعیل کی وجہ سے تمام اہل اسلامکے دل اس کی طرف جھکتے ہیں
کیونکہ ملت ابراہیمؑی پر چلنے کا
انکو حکم دیا گیاہے
10 اسی
کعبہ میں
ہی حضرت امیر علیہ السلام کو دوش
پیغمبر پر قدم رکھنے کا موقعہ ملا تھا جو نورٌ علی نور کی تفسیر تھی
اور انہوں نے بت شکنی کا فریضہ ادا فرمایا تھا بہر کیف کعبہ کو باقی زمینوں سے بجا شرف حاصل ہے
کہ یہ تمام دنیا کے لئے بیت اللہ
کے لقب سے ملقب ہوا ہے اور سلطان وگدا نبی وولی وامام ومقتدی سب کی
اس کی طرف گردنیں جھکتی ہیں اور کعبہ کی تولیت کا بجاشرف حضرت ابوطالبؑ کو
حاصل تھا جس کی بدولت تمام قبائل اس کےسامنے غلامانہ حیثیت ہے پیش
آتے تھے
خدا سے دعا ہے کہ اپنے مقدس گھر کی زیارت نصیب فرمائے اور فریضہ حج اداکرنے
کی توفیق عنایت کرے( بفضل خدا ہماری دعا مقبول ہوئی
اور اسی سال سہ1967ءمطابق سہ1386ھ اپنی
بیوی اور والدین کے ہمراہ فریضہ
حج کوادا کرکے بخیریت واپس پہنچا
ہوں )