التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

نظام تکوین اور نظام تشریع

2 min read

چونکہ مملکت کلیہ الہیہ میں خالق کائنات کی جانب سے دو نظام ہمیشہ سے ساری و ساری ہیں ایک نظام تکوین جیسے خلق رزق  موت و حیات اورموجودات میں رونما ہونےوالے تمام کلی و جزوی حوادث و واقعات اور دوسرا نظام تشریع جو صرف ذوی العقول اور اولی الالباب طبقہ کےلئے فلاح تمدن اصلاح معاشرہ ارتقا نفس اورنجات اخروی کے لئے تشکیل کیا گیا ہے ان پر دو نظام کاسربراہ اعلی اورمختار کل خالق کائنات و مدبر عالم جل شانہ ہے اور اس کی تقسیم کار کاطریقہ یہ ہے کہ تکوینی امور کی انجام دہی کے لئے اس نے ملائکہ مقرمین کو مقرر کیا ہے ہواوں کاچلانا بادلوں کابنانا درختوں و دیگر نباتات کی نشوونما اور ان کی حفاظت حیوانوں وا نسانوں کی خدمات بارشوں کا برسانا دریاوں و سمندروں اور ان میں بسنے والی مخلوق کی نگہداشت غرضیکہ کلی و جزءتمام امور تکونیہ خواہ عالم علوی سے متعلق ہوں  یا عالم سفلی سےان کا تعلق ہو کی تنظیم و تدبیر ان کے ذمہ ہے اور وہ اللہ کے حکم و ارادہ اور اس کی مشیت و مصلحت کے ماتحت ان تمام امور کی انجام دہی میں مصروف کار ہیں اوریفعلون ما یومرون کے مصداق ہیں اور تشریعی معاملہ کواس نے انبیا و مرسلین یا ان کے اوصیائے طاہرین علہیم السلام کے سپر د  فرمایا ہے اور ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی اس نے اسی مطلب کے لئے مبعوث فرمائے جنہوں نےاپنی اپنی حیثیت سے اپنے اپنے زمانہ میں اپنے کام کو باحسن طریق انجام دیا اور اس سلسلہ میں انہوں نے ہر آنے والی مصبیت کا سینہ تن کر مقابلہ کرتے ہوئے حکم پروردگار کو پہنچانے میں عزم صمیم سے کام لیا اور سب کے آخر میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف لائے جو ان سب کے سلطان و سید تھے اورنظام تشریع میں ان سب سےافضل و برتر اورا ن کا حلقہ تبلیغ ایک یادو قومین نہیں بلکہ پورے عالم کو قرار دیا گیا پس اس نظام میں آپ سید الانبیا و المرسلین اور سلطان الاولین والآخرین تھے جس طرح نظام تکوین میں حضرت جبرئیل سید الملائکہ المقربین ہیں ۔

ایک تبصرہ شائع کریں