انبیا کو بعض اوقات الہام یا القا ءکی قسم کی وحی بھی ہوتی تھی اور جہا ں شیاطین کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ اپنے دوستوں کو وحی کرتے ہیں ان الشیطین لیوجون الی اولیائھم اس شیطانی القاءکا نام وسوسہ ہے پس وسوسہ اور الہام میں فرق جاننا ضروری ہے تفسیر کبیر رازی میں احیا العلوم غزالی سے منقول ہے کہ دل ایسے گنبد کی مثل ہے کہ متعدد دروازوں کے ذریعے سے اس میں حالات و واقعات کی آمد ہو یا ایسے نشانے کی مانند ہے جس پر ہر جانب سے تیر پڑ رہ رہے ہوں یا ا س شیشے کی طرح ہے جس پر یکے بعد دیگرے مختلف شکلوں او ر صورتوں کا نقش ہوتا ہو یا اس تالاب کی مثل ہے جس میں ہرطرف سے نالیوں کے ذریعے سے پانی جمع ہوتا ہو بنا بریں دل میں حالات مختلفہ کا روبار یا تو ظاہری راستوں سے ہو گا جو حواس خمسہ کہلاتے ہیں یا باطنی راستوں سے جیسے قوت خیالیہ و شہویہ و غضبیہ وغیرہ پس ان مختلف راستوں سے آنے والے واقعات کا دل پر اثر ہوتاہے اور اس لحاظ سے اس کے تاثرات بدلتے رہے ہیں اور دل آثار مختلفہ کی آما جگاہ بنا رہتا ہے ان میں بعض تاثرات دیرپا اور بعض فوری ہوتے ہیں جو آئے اور گئے اور یہی خیالات انسان کی عملی قوتوں کی تحریک کرتےہیں اور ارادوں کو عملی جامہ پہنانے کی دعوت دیتے ہیں پھر ان کی دو قسمیں ہیں ایک وہ جو برائی کی تحریک کرتے ہیں یا جن کا نتیجہ دنیاوی و اخروی خسارہ ہوتا ہے دوسرے وہ جو اچھائی کی تحریک کرتے ہیں یا جن کا نتیجہ دنیاوی یا اخروی ہوتا ہے پہلے خیا ل کا نام وسوسہ ہے اور دوسری قسم کے خیال کا نام الہام ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ ان خیالات کو لاتا کون ہے ؟ یقینا انسان تو نہیں لاتا کیوں کہ ہر انسان جانتا ہے کہ دلی پر وارد ہونے والے خیالات غایبانہ آجاتے ہیں اور ہزار کوشش کرنے کے باوجود بھی دور نہیں ہوتے اگر اپنے لائے ہوئے ہوتے تو ہٹانی سے ہٹ جاتے بعض اوقات ساری رات بیداری میں کٹ جاتی ہے اور وہ جان نہیں چھوڑتے معلوم ہوا کہ ان کا فاعل کوئی اور ہے اور وہ بھی اپنے جیسا کوئی دوسرا انسان تو ہو نہیں سکتا بلکہ وہی ہوسکتا ہے جس کی دل تک رسائی ہو تو اب اس کا فاعل یا خدا ہے یا شیطان پس اگر وہ خیالات اچھائی کی طرف متحرک ہیں تو یقینا ان کا فاعل اللہ ہے کیونکہ شیطان نیکی کا محترک نہیں ہوتا اور اس سے یہ توقع بالکل بے کار ہے اور اگر وہ خیالات برائی کی طرف محرک ہیں توان کا فاعل شیطان ہو گاکیونکہ خدا برائی کی دعوت نہیں دیتا پس الہام خدا کی طرف سے اور وسوسہ شیطان کی جانب سے ہوتاہے اور اس مقام پر پہنچ کرتنبہیہ ضروری ہے کہ بعض لو گ جو اعلانیہ شرعی احکام کی خلاف ورزیکرتے ہیں اور بعض باتیں لوگوں کوا یسی باتیں بتاتے ہیں جو ظاہری اسباب سے ان کو حاصل نہ ہوں تو اس کو الہام سے تعبیر نہ کرنا شاہئیے کیونکہ ایسے گمراہ ایسے گمراہ لوگوں کو دوسرے عوام کے بہکانے کے لئے شیطان وحی کرتاہے اگرچہ نیکی کی بات کیوں نہ ہو کیونکہ مقصد عوام کا بہکانا ہوتاہے
الہام یا القاء
3 min read