إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِى بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَـٰلَمِينَ (96)فِيهِ ءَايَـٰتٌۢ بَيِّنَـٰتٌ مَّقَامُ إِبْرَٰهِيمَ ۖ وَمَن دَخَلَهُۥ كَانَ ءَامِنًا ۗ وَلِلَّهِ عَلَى ٱلنَّاسِ حِجُّ ٱلْبَيْتِ مَنِ ٱسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِىٌّ عَنِ ٱلْعَـٰلَمِينَ (97)قُلْ يَـٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَـٰبِ لِمَ تَكْفُرُونَ بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ وَٱللَّهُ شَهِيدٌ عَلَىٰ مَا تَعْمَلُونَ (98)قُلْ يَـٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَـٰبِ لِمَ تَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ مَنْ ءَامَنَ تَبْغُونَهَا عِوَجًا وَأَنتُمْ شُهَدَآءُ ۗ وَمَا ٱللَّهُ بِغَـٰفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ (99)يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِن تُطِيعُوا۟ فَرِيقًا مِّنَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَـٰبَ يَرُدُّوكُم بَعْدَ إِيمَـٰنِكُمْ كَـٰفِرِينَ (100)وَكَيْفَ تَكْفُرُونَ وَأَنتُمْ تُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ ءَايَـٰتُ ٱللَّهِ وَفِيكُمْ رَسُولُهُۥ ۗ وَمَن يَعْتَصِم بِٱللَّهِ فَقَدْ هُدِىَ إِلَىٰ صِرَٰطٍ مُّسْتَقِيمٍ (101)
آیاتِ بیناّت
مَقَامُ اِبْرِاہْیم :
بعض روایات میں ہے کہ اس سے مراد وہ پتھر ہے جس
پر حضرت اسمعیل کی زوجہ نے آپ کو نہلایا
تھا جبکہ آپ شام سے بغرض ملاقات تشریف لائے تھے پس اس پتھر میں آپ کے قدموں کا
نشان باقی رہ گیا اورقصہ کی تفصیل تفسیر کی دوسری جلد ص۲۰۷تا۲۰۹میں مذکور ہوچکی ہے
اوربعض روایات میں ہے کہ اس سے مرادوہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کراپ نے بیت اللہ کی
تعمیر فرمائی تھی صافی میں بروایت کافی امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ
مقام ابراہیم پہلے دیوارکعبہ کے ساتھ متصل تھا پھر زمان جاہلیت میں اس کو اپنی جگہ سے منتقل کرکے دوسری جگہ
رکھا گیا جہاں وہ اب موجود ہے اورجب جناب رسالتماب نے مکہ فتح کیا تو اس کو پھر
اپنے اصلی مقام پر نقل کردیا اورپہلی خلافت اوردوسری خلافت کے کچھ زمانہ تک وہاں
رہا لیکن دوسری خلافت کے اخری دور میں اسے پھر وہاں سے اٹھوا کر پہلی جگہ پر منتقل
کردیا گیا ایات بینات میں سے اس کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کرنا اس لئے ہے کہ وہ تاحال
ایک زندہ معجزہ ہے ورنہ ان واضح نشانیوں میں اورمقامات بھی ہیں جیسا کہ حضرت امام
جعفر صادق علیہ السلام سے بروایت کافی وعیاشی مذکور ہے
حجراسود
مروی ہے کہ یہ جو ہر تھا جو خدا نے حضرت ادم علیہ السلام کے ساتھ زمین پر
اُتارا تھا اس کو بنی ادم کے عہد وپیمان ودیعت کئے گئے ہیں بروزمحشر ان لوگوں کے
حق میں بزبان فصیح گواہی دے گا جنہوں نے اس کی زیارت کی اوراپنے عہد کی وفاکی
اوراس کی گویائی اروایات میں حضرت سجاد علیہ السلام کی امامت کی گواہی کے مقعہ پر
بھی ثابت ہے جبکہ حضرت محمد بن حنفیہ کے ساتھ نزاع ہوئی تھی اوراس کاواضح اورغیر
مبہم اعجازی یہ پہلو بھی ہے کہ کبھی غیر معصوم اس کو اپنی جگہ پر نصب نہ کرسکے
(صافی )
حطیم
یہ وہ مقام ہے جہاں حضرت ادم کی تو بہ مقبول
ہوئی تھی اورحضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ اگر کرسکو کہ تمام
نمازیں خواہ واجب ہوں خواہ سنتی ہوں اسی مقام پر حطیم میں ادا کرو تو ہرگز اس سے
گریز نہ کرو کیونکہ تمام زمین سے یہ بقعہ اشرف وافضل ہے اوراس کے بعد حجر اسود کے
پاس نمازپڑھنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے
ابوحمزہ ثمالی سے مروی ہے کہ حضرت امام علی زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا کہ
بتاو زمین کے ٹکڑوں میں کونسا افضل ہے ہم نے عرض کی کہ اللہ اوراس کارسول اوراولاد
رسول اس کو بہتر جانتے ہیں آپ نے فرمایا کہ رکن اورمقام کی درمیانی جگہ پس اگر
کوئی شخص حضرت نوح کی سی عمر پائے اورزندگی بھر اسی مقام پر روزہ سے اوررات کو
عبادت خدا میں مصروف رہا کر اہماری ولایت کے بغیر دربارخداوندی میں پیش ہوتو
اسکواپنے اعمال ذرہ بھر فائدہ نہ دیں گے
اسی طرح ایات بینات میں سے
زمزم ہے جس کا پانی شفاہے اس مقام پر اہلی
جانوروحشی درندوں سے نہیں درتے اس کا طواف
کبھی ختم نہیں ہوا کوئی پرندہ بیت اللہ کی چھت سے نہیں گذر سکتا اس کے جانور انسانوں سے خوف نہیں کھاتے ہر سال سنگریزے مارنے کے
باوجود جب دوسرے سال اس مقام کو دیکھا جائے تو وہ زمین پہلے کی طرح ہوتی ہے ورنہ
قاعدہ کے مطابق تو اسے ایک پہاڑ ہوجان اچاہیے تھا
اورانہی ایات میں سے قصہ اصحاب فیل بھی ہے جن کوابابیل نے تباہ وبرباد کردی
اتھا ورصافی میں بروایت کتب معتبرہ امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ
خدانے ہرنوع سے کسی ایک کو انتخاب فرمایا ہے اورزمینوں میں سے اس نے کعبہ کی زمین
کو منتخب فرمایاہے
زمین کربلا
بعض روایات میں ہے کہ ایک دفعہ زمین کعبہ نے
اپنی برتری پر ناز کیا کہ مجھ جیسا کون ہے میں کعبہ کا مسکن ہوں تو فوروحی الہی
ہوئی خاموش اے کعبہ کی زمین کربلا کی زمین کے مقابلہ میں تیری فضلیلت کو وہ نسبت
ہے جو نوک سوزن پر اٹھے ہوئے پانی کے قطرہ کو پر ازاب سمندر سے ہوا کرتی ہے بقسم
اگر اس زمین اوراسکے ساکن کو خلق نہ کرتا تو تجھے پیدا نہ کرتا اورنہ تیرا کعبہ
پیداہوتا (مراوی ترجمہ کردیا گیا ہے(سفیتہ البحار)
اس روایت اورسابق روایات میں تو فیق کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ صرف کعبہ کی
طرف جھکنے والے اوراہلبیت اطہاار کو پس پشت دالنے ولے چونکہ صرف کعبہ پر ہی ناز
کرتے ہیں اوراپنی بخشش کا انحصار صرف اسی میں سمجھتے ہیں تو ان کی تنبیہ کے لئے
ارشاد ہے کہ بے شک کعبہ اورزمین کعبہ اپنی جگہ شرف وفضل کے حائل ہیں لیکن اگر
کربلا والوں کیسرفروشی نہ ہوتی اوران کے ناحق خون سے اسلام کی حفاظتی حصار کی
تعمیر نہ ہوتی تو پورے اسلام کو یزیدی طاغوتی حملوں نے نیست ونابود کردیا ہوتا
اورجب اسلام ہی ختم ہوجاتا تو کعبہ کاوقار کس کام کا کعبہ اپنے مقام پر محترم ہے
لیکن کسی محترم کے خالی وجود کو کیا کیا جائے جب احترام کرنے والاہی دنیا میں
موجود نہ ہو اے کعبہ کاا حترام کرنے والوپہلے اس دروازہ پر پہنچو جس نے کعبہ کا
احترام بچایا ہے اورتمہیں احترام کرنا سکھایا ہے اورزمین کعبہ اگر ناز کرے کہ میں
محترم ہوں تو اس ناز سے پہلے اس کو زمین کربلاکے سامنے سرنگوں ہوکر نیاز مندی
کااظہارکرنا پڑے گا بے شک وہ تمام زمینوں پر سرافتخار بلند کرسکتی ہے لیکن زمین
کربلاکے سامنے اس کاسرنیاز خم ہی رہے گا پس زمین کربلا کی افضلیت اس لحاظ سے ہے کہ
اس کا ساکن محسن اسلام ہے اورحج بیت اللہ اسلام کا ایک فرعی حکم ہے گویا بیت اللہ
صرف حاجیوں کامحور التفات ہے اورحسین ؑتمام اہل السلام کے لئے مرکز ہدایت ہے پس
مقام عمل میں کوء زمین کعبہ کی زمین سے افضل نہیں ہوسکتی اورمقام ہدایت ورشد میں
کوئی زمین کربلا کی زمین سے زیادہ درس اموز نہیں ہوسکتی لہذا دونوں اپنے اپنے مقام
پر افضل ہیں لیکن افضلیت کی حیثیتںہیں اورفرعی فضیلت قطعا اصلی فضیلت کا مقابلہ
نہیں کرسکتی تاہم یہ دونوں معنوی طورپر ایک دوسرے سے جدانہیں لہذا جوکعبہ کا تولا
ہو وارکربلاوالوں کو نظراندازکرکے زمین کربلا کو حقیر سمجھے اس کے لئے کعبہ جانے
کا کوء فائدہ نہیں اورجو شخص کربلا والوں کی محبت کادم بھر تاہو اورزمین کربلا
کازائر ہو لیکن کعبہ جانے کی استطاعت رکھنے کے باوجود اس کوترک کرے تو اس کاکربلا
والوں سے محبت کادعوی کرنا محض زبانی وبے بنیاد ہے کیونکہ حسین ؑنے خود جام شہادت
نوش فرماکر شعائر اسلامیہ کو قائم کرنے کے گریز کرتا ہو امامت اصل ہے اورحج فرع ہے
پس جس طرح حج کا فعل بغیر اقرار امامت کے نادرست ہے اسی طرح اقرار امامت بغیر
افعال فرعیہ کے اقرار زبانی اورلقلقہ لسانی ہے کیونکہ اصل وفرع دونوں ایک دوسرے کے
بغیر فائدہ مند نہیں ہوا کرتے
سوال: یہاں ایک سوال پیدا ہوسکتا
ہے کہ اس توجیہ کے اعتبار سے تو پھر مدینہ منورہ کی زمین کو سب سے افضل کہنا چاہیے
جواب: اس میں شک نہیںکہ ایک زمان
مخصوص تک مدینہ منورہ ہدایت خلق کا سرچشمہ رہا اوراسی لحاظ سے اطراف عالم کے جو
یان حق کی ہجرت گاہ بھی رہا حتی کہ ااہل مکہ کے لئے بھی وہاں سے ہجرت کرکے مدینہ
کو چلے جانے کا حکم تھا اورزمین مدینہ کی فضیلت کے لئے یہی کافی ہے لیکن حضرت
رسالتماب کے بعد جب الامی شرعی حدود کی پامالی کے لئے اموی سلاطین جور نے اپنی
اندھا دھندپیش قدمی سے اسلامیان عالم کو مسحور یامرعوب کرتے ہوئے ظلم واستبداد کے
اوچھے حربوں سے کام لینا چاہا تو اسوائے حسینؑ بن علیؑ کے ورکون تھا جس نے ببانگ
دیل بے پناہ قوت ایمانی کے ساتھ اس قسم کی پیش قدمیوں کے خلاف نعرہ حق بلند فرمایا
اورجان مال اورناموس کی ہرمکن قربانی سے دریغ نہ کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات کے لئے
سینہ سپر بنا اورسچ ہے کہ اگر حسین نہ ہوتا تو اسلام کا لہراتا ہوا سر سبز وشاداب
باغ اموی دور خزاں سے صحیح وسالم ہرگز نہ بچ سکتا اگر حسینؑ کی قربانی نہ ہوتی تو
یقینا شمع اسلام کی حیثیت ایک چراغ سحری کی سی رہ گئی تھی اگر حسین کا عزم
واستقلال اورثبات قدم ایک مضبوط چٹان بن کرسامنے نہ اتا تو دمشق کی طرف سے اٹھا
ہوا ظلم وجور کا بے پناہ طوفان خرمن اسلام کو بہا کرلے گیا ہوتا پس حسین ؑنے اپنے
اہنی ارادوں سے یزیدی منصوبوں کی قلعی کھول کررکھ دی جس طرح حسین ؑکے اس مبارک
ومضبوط اقدام نے کعبہ کی لاج رکھی اسی طرح حسین ؑکی عظیم الشان قربانیوں نے مدینہ
کی حرمت اورصاحب مدینہ کی تئییس سالہ محنت کو بقاء ودوام کی خلعت بھی بخش دی
اوراسلام کی اس فتح مبین کا شہر ازمین کربلا ہی کے سرپر ہے لہذا یہ زمین تاقیام
مرجع ہدایت خلق ہے اوریہی چیز اس کے شرف پائیدار کا بلند مینار ہے
زمین کربلا کی خصوصیات
ء شیخ جعفر شوستری اعلی اللہ
مقامہ نے زمین کربلا کی خصوصیات بہت کچھ ذخر فرمائی ہیں ان میں سے بعض کو اس مقام
پر بطور اختصار ذکر کرنا مناسب ہے
مروی ہے کہ کعبہ کی خلقت سے چوبیس ہزار سال قبل زمین کربلاکوخلق کیا گیا
سوال:
قرآن مجید پہلا گھر خانہ کعبہ کوبتلاتا ہے اور حدیث مذکور میں زمین کربلا
کو خلقت میں مقدم کہا گیا ہے
جواب: قرآن مجید میں کعبہ کے
روئے زمین پر پہلی عبادت گاہ بنائے جانے کا اعلان کیاگیا ہے کیونکہ یہودیوں نے
تحویل قبلہ کے بعد مسلمانوں پر ایہ اعتراض شروع کردیا تھا کہ بیت المقدس روئے زمین
پرپہلی عبادت گاہ ہے حتی کہ حضرت ابراہیم کا قبلہ بھی یہ تھا تو خداوند کریم نے ان
کی رومیں ارشاد فرمایاہے کہ وہ غلط کہتے ہیں اورصحیح یہ ہے کہ لوگوں کے لئے زمین
پر پہلی جائے عبادت جس خطہ ارضئی کو قرار دیا گیا وہ وہی ہے جو مکہ میں ہے یعنی
خانہ کعبہ پس قرآن مجید میں کعبہ کی خلقت کاکوئی تذکرہ نہیں بلکہ صرف اس کے قبلہ
ہونے کی سبقت کا اعلان ہے اورحدیث مذکور میں زمین کربلا کی خلقت کی تقدیم کا ذکر
ہے لہذامضمون حدیث اورمفہوم آیت میں کوئی تعارض نہیں یعنی خلقت میں زمین کربلا کو
زمین کعبہ پر تقدیم حاصل ہے اورقبلہ ہونے میں کعبہ کو بیت المقدس سے اول ہونے کا
شرف حاصل ہے اورگزشتہ بعض احادیث میں جہاں کعبہ کی پیدائشی سبقت بیان کی گئی ہے
وہاں زمین کربلا کے علاوہ باقی زمینوں سے سبقت
مراد ہے واللہ اعلم
ء مروی ہے کہ زلزلہ قیامت کا وقت
آئے گا تو زمین کربلا کواٹھالی اجائے گا اوریہ خطہ جنت کے تمام خطوں سے افضل ہوگا
اورجنت کے ریاض میں یہ زمین اس طرح چمکے گی جس طرح کوکب دری دوسرے ستاروں سے
نمایاں طور پر اپنی چمک دہمک کو ظاہرکرتا ہے حتی کہ اس کی چمک سے تمام اہل جنت کی
انکھیں خیر گی محسوس کریں گی اوراس کے اوازائے گی کہ میں وہ پاک زمین ہوں جسے
شہیدوں کے مدفن ومسکن ہونے کا شرف حاصل ہوا ہے
ء خاک شفا کی تسبیح سے استغفار
کرناستر گنازیادتی ثواب کا موجب ہے
ء خاک کربلا یعنی شفاکی تسبیح کا
ہاتھ میں رکھنا بھی تسبیح پڑھنے کے ثواب کے برابر ہے
ء خاک شفاپر سجدہ کرنے سے مقبولیت
عبادت کاروکاوٹ کے سات حجاب دور ہوجاتے ہیں اورعبادت مقبول ہوجاتی ہے
ء مٹی کاکھانا حرام ہے لیکن خاک
شفا کا شفایابی کی نیت سے کھانا جائز ہے
ء خاک شفاکا پاس رکھنا ہرقسم کے
خطرات سے بچنے کا حرز اورتعویز ہے بشرطیکہ
اسی نیت سے اپنے پاس رکھے
ء اگر سامان تجارت میں خاک شفا
کورکھاجائے تو تجارت میں برکت نصیب ہوگی
ء نوزائید بچے کے حلق میں خاک شفا
ڈالنا اس کی امان وسلامتی کا موجب ہے
ء میت کے ساتھ قبر میں خاک شفا کا
رکھنا عذاب قبر سے امان کا موجب ہے
ء میت کے حنوط کے ساتھ خاک شفا کی
ملاوٹ مستحب ہے
ء زمین کربلا می دفن ہونے والا
بغیر حساب جنت میں داخل ہوگا
ء زمین پر اترنے والے فرشتے جب واپس
جاتے ہیں تو حوریں ان سے خاک شفاکا تحفہ طلب کرتی ہیں
ء تمام ملائکہ بطور تحفہ خاک
شفاکو جناب رسالتماب کی خدمت میں لے جاتے رہے ہیں
ء یہی زمین حضرت عیسی کی ولادت
گاہ ہے
ء حضرت موسی کوجس زمین پر شرف
کلام حاصل ہوتا تھا وہ یہی زمین تھی
ء آدم ؑسے لے کر خاتم تک تمام
انبیاء کا درد داس مقدس زمین پر ہوا
ء اسی مقدس زمین میں واقعات کربلا
سے قبل دوسونبی دوسووصی اوردوسبط نبی دفن ہوئے جو درجہ شہادت پر فائزہو کردنیا سے
رخست ہوئے تھے (خصاص حسینیہ)
تولیت کعبہ
بنا ئے کعبہ کے بعد اس کی تولیت حضرت اسماعیل کے سپرد تھی اورانکے بعد ان
کی اولاد کو تولیت بیت اللہ کا شرف حاصل رہا لیکن کچھ عرصہ کے بعد قبیل جرہم نے
غلبہ حاصل کرکے کعبہ کی تولیت ان سے چھین لی اورجب قبیلہ جرہم اورعمالقہ کی اپس
میں جنگ ہوئی تو عمالقہ غالب اگئے اورکعبہ
کو انہوں نے اپنے قبضہ میں لے لیا پھر ایک مرتبہ جرہم نے عمالقہ کو مغلوب کرکے ان
سے کعبہ کی تولیت واپس لے لی اورتقریبا تین سوبرس اس کے متولی رہے اورانہوں نے
کعبہ کی عمارت میں کچھ اضافہ بھی کیا
جب حضرت اسمعیل کی اولاد کی تعداد بڑھ گئی تو انہوں نے قبیلہ جرہم کو مکہ
سے نکال دی اورکعبہ کی تولیت خود سنبھال لی اس وقت ان کاسر کردہ عمر وبن لحی خزاعی
تھا اوریہ پہلا شخص ہے جس نے کعبہ میں بت
لاکر رکھے اورلوگوں کو شرک کی تعلیم دی اس نے پہلا بت جو کعبہ میں رکھا تھا اس کا
نام ہبل تھا اوروہ اسے شام سے لایا تھا اس کے بعد پھر دوسرے بت لائے گئے حلیل
خزاعہ میں سے کعبہ کا آخری متولی ہے حلیل کی صرف ایک لڑکی تھی جو قصی بن کلاب کے
نکاح میں تھی پس حلیل نے اپنے بعد کعبہ کی تولیت اپنی بیٹی کے سپرد کردی اوراس
کاکلید برادری کے لئے ابوغبشان نے معمولی معاوضہ لے کر کعبہ کی کلیدبرادری بھی قصی
بن کلاب کوبیچ دی پس اس طریقہ سے کعبہ کی تولیت قریش تک پہنچی جب جناب رسالتماب نے
مکہ کو فتح کیا تا اس کے اندر جس قدر بت وغیرہ رکھے تھے ان کوگرادیا گیا
زمین مکہ کے خصوصیات
ء اگر کوئی شخص حرم بیت اللہ کی
حدود کے اندر ایسا جرم کرے جس کی شرعی حدیا قساص مقرر ہے تو اس کو اپ نے کئے کی
سزا حرم کے اندردی جاسکتی ہے لیکن اگر جرم کاارتکاب حرم کی حدود ہے باہر ہو
اورمجرم بھاگ کرحرم کے اندر داخل ہوئے تو اس پر سزاجاری نہ ہوگی تاکہ وہ خود بخود
حرم کی حدود سے نکل جائے اوراس پر معینہ حدجاری کی جائے
ء مکہ کی زمین میں تمام مسلمانوں
کو رہنے کا حق حاصل ہے لہذا کسی مسلمان کو وہاں کی رہائش سے روکا نہیں جاسکتا بعض
علماء کا فتوی ہے کہ روکنا حرام ہے اوربعض مکردہ جانتے ہیں
ء کعبہ کی عمارت سے بلند کسی
مسلمان کو اپنا مکان نہیں بنوانا چاہیے (بعض علماء کے نزدیک حرام اوربعض کے نزدیک مکروہ ہے )
ء حدود حرم کے اندر کسی کی کوئی
چیز گر جائے تو خواہ وہ کم ہو یا زیادہ کسی اٹھانے والے پر وہ حلال نہیں ہوسکتی
بلکہ وہ اس کے پاس امانت کے طور پر رہے گی اورسال بھر تک ان کی تعریف واعلان کرنا
ضروری ہے اگر مالک مل جائے تو ٹھیک ورنہ بطور امانت اپنے پاس رکھے یامالک کی طرف
سے صدقہ کردے
ء تفسیر صافی میں مروی ہے کہ
جوشخص حرم میں مدفون ہوجائے وہ قیامت کی سخت گھبراہٹ سے محفوظ ہو گا
ء جو حرم خدایا حرم رسول میں سے
کسی ایک حرم میں مرجائے تو خدااس کو امن
پجانے والوں میں محشور کرے گا (صافی )
ء جو شخص ان دونوں حرموں کے
درمیان مرے تو بروز محشر اس کا دیوان پیش نہ ہوگا
ء مکہ میں داخل ہونے والے کے
لئے ضروری ہے کہ احرام عمرہ باندھ کرداخل
ہو
ولادت علی درکعبہ
کعبہ کی خصوصیات میں سے اہم خصوصیت ہے کہ وہ حضرت علی علیہ السلام کی جائے
ولادت ہے اوراس شرف پر کعبہ کو بجاطور پر ناز ہے کتب فریقین میں حضرت علی کی کعبہ
میں ولادت کی خصوصیت اورکعبہ کی حضرت علی ؑکے مولد ہونے کی خصوصیت کو متفق طور پر
تسلیم کیا گیا ہے
چنانچہ کفایتہ الطالب کنجی سے
منقول ہے کہ اس زمنہ میں ایک عابد تھا جسے مسرم کہتے تھے اوراس نے دوسوستر برس خداوند کریم کی عبادت کی تھی اورکبھی اپنی
کسی حاجت کا سوال نہ کیا تھا حضرت ابوطالب کوخدانے اس کے پاس بھیج دیا اس نے
دیکھتے ہی اٹھا تعظیم کی سر کا بوسہ دیا اوراپنے سامنے جگہ دی پھر ان سے دریافت
کیا کہ آپ کون ہیں حضرت ابوطالب نے جواب دیا کہ میں تہامہ (مکہ ) کے رہنے والا ہوں اس نے نسب دریافت کیا تو آپ
نے فرمایا کہ میں ہاشمی ہوں وہ عابد سنتے ہی دوبارہ اٹھا اورحضرت ابوطالب کے سر کو
بوسہ دیا ورکہا کہ مجھے خدانے بطور الہام خبر دی ہے کہ خدا تجھے ایک فرزند عطا کرے
گا جو ولی اللہ ہوگا پس جس شب کو حضرت علی ؑکو تولد ہوا تو فضائے عالم اپج کوطلعت
نورانی سے منور ہوئی حضرت ابوطالب نے باہر نکل کر اعلان فرمادیا کہ بند گان خدانے
کعبہ میں ولی اللہ کاتولد ہو چکا ہے صبح
سویرے جب داخل کعبہ ہوئے تو یہ اشعار اپنی زبان پر جاری کئے
یَارَبَّ ھٰذَالْغَسَقِ الدَّجیٰ
وَالْقَمَرِ الْمُبَلَّج الْمُضِیْ
بَیِّنْ لَنَا مِنْ اَمْرِکَ الْخَفِّی
مَاذَاتَریٰ فِیْ اِسْمِ ذَاالصَّبِّی
اے پھیلتی ہوئی تاریکی اورروشنی پھیلانے والے چاند کے پروردگار اپنے
مخفی راز میں سے تو ہی بتا کہ تیرے نزدیک اس بچے کا کیا نام ہونا چاہیے
پس ہاتف غیبی کی نداکان میں میں پہنچی
یَااَھْلَ بَیْتِ الْمُصْطَفَی النَّبِی
خُصِّصْتُمْ بِالْوَالَد الزکی
ان اسمہ من شامخ علی
علی ن اشتق من العلی
اے مصطفی نبی کے گھر والوتمہیں یہ بچہ مبارک ہو علی اعلی نے اس کانام اپنے
نام سے مشتق کرکے علی رکھا ہے
۲ مستدرک حاکم سے مروی ہے کہ توااترت الاخبار ان فاطمۃ بنت اسد ولدت امیرا لمومنین علی بن ابیطالب کرم اللہ وجھہ فی جوف الکعبۃ (احددیث میں یہ بات تواتر سے پہنچی ہے کہ حضرت
امیرالمومنین علی بن ابی طالب کرم اللہ
وجہ جناب فاطمہ بنت اسد کے بطن مبارک سے
کعبہ کے اندر ہی پیدا ہوئے
۳ ابن صباغ مالکی فصول مہمہ میں لکھتے ہیں کہ حضرت امیرالمومنین علیہ
السلام مکہ مشرفہ میں بیت اللہ کے اندر ۱۳رجب بروز
جمعہ ۳۰ عام الفیل ہجرت سے ۲۳ یابقولے ۲۵ سال قبل
اوربعثت سے ۱۲سال یابقولے ۱۰ پہلے پیدا ہوئے اوران
سے پہلے بیت اللہ میں کوء بچہ پیدا نہیں ہوا وریہ وہ فضیلت ہے کہ اس میں اپ کا
کوئی شریک نہیں اوران کے اجلال علوم تبت اوراظہار کرامت کے لئے ہی خدانے ان کو یہ
شرف خصوصی مرحمت فرمایا اورنیز اپ ہی وہ پہلے شخص ہیں جوماں اورباپ دونوں کی طرف سے ہاشمی ہیں
۴ بحار الانوار
سے مروی ہے کہ سعید بن جبیر یزید بن قعنب سے روایت کرتا ہے کہ می اورعباس
بن عبدالمطلب بیت اللہ کے سامنے بیٹھے تھے
اچانک ہم نے والدہ امیرالمومنین علیہ السلام حضرت فاطمہ بنت اسد کراتے دیکھا اوراپ
نوماہ سے حاملہ تھی اپ کو خاص تکلیف محسو ہوئی جوعورتوں کی زائیدگی کے وقت ہوا کرتی ہے تو یہ دعا زبان پر جاری کی
اے پر وردگا میں تیرے اوپر ایمان رکھتی
ہوں نیز تیرے رسولوں اورتیری کتابوں کومانتی ہوں اراپنے جدبزرگوار حضرت خلیل علیہ
السلام کی تصدیق کرتے ہوں جہنوں نے بیت اللہ کی بنا رکھی تھی پس تجھے اس گھر کی
بنا رکھنے والے کے حق کی اوراس بچہ کے حق کی جومیرے بطن میں ہے قسم دے کر سوال
کرتی ہوں کہ اس بچہ کی ولادت کا معاملہ
میرے اوپر اسان فرما یزید بن قعنب کہتا ہے کہ ہم نے دیکھ ادیوار کعبہ پشت
کی طرف سے شق ہوئی اورجناب فاطمہ اندر داخل ہوکر ہماری نظروں سے غائب ہوگئیں
اوعردیور پہلے کی طرح متصل ہوگئی ہم نے سامنے سے اکر قفل کھولنا چاہالیکن ہمیں
ناکامی ہوئی پس ہم سمجھ گئے کہ یہ قدرتی راز ہے اس کے بعد چوتھے روز جناب فاطمہ
بنت اسد حضرت امیر المومنین علیہ السلام کو ہاتھوں پر اٹھاکرباہر ائیں اورفخریہ یہ
الفاظ زبان پر جاری کئے کہ مجھے گزشتہ تمام عورتوں سے فضیلت عطاکی گئی ہے کیوکہ
اسیہ بنت مزاحم نے خفیہ طور پر ایک ایسی جگہ خداکی عبادت کی جہاں بغیر اضطرار کے
کسی کی عبادت کو جائز نہیں قرار دیا جاتا اورحضرت مریم بنت عمران نے خشک
کھجور کو حرکت دے کر تازہ پھل حاصل کئے
اورنوش فرمائے اورمیں بیت اللہ میں داخل ہوکر جنت کے میوہ جات کھاتی رہی ہوں اورجب
میں نے وہاں سے باہر انے کا ارادہ کیاتو ہاتف غیبی کی جانب سے ندا پہنچی اے فاطمہ
اس بچہ کانام علی رکھوپس وہ علی ہے اورخدائے علی وعلی ارشاد فرماتا ہے کہ میں نے
اس کا نام اپنے نام سے مشتق کیا ہے اوراورمیں نے خود ہی اس کو اپنیاداب تفویض کئے
ہیں اوراس کو اپنے رموز علم سے اطلاع بخشی ہے وہ میرے گھر سے بتوں کو توڑ کرنکالے
گا اوروہی احلانیہ میرے گھ رمیں اذان دے گا اورمیری تقدیس وتمجید بیان کرے گا پس
اس کے حبداروں اوراطاعت گذاروں کے لئے طوبی اورس کے دشمنوں اورنافرمانوں کے لئے
ویل ہے ناسبت مقام اورتبرک کے لئے یہ روائیں نقل کی گئی ہیں
کعبہ جائے امن ہے
کعبہ کی خصوصیات میں سے ہے کہ من دحلہ کان امنا جوبھی اس میں دخل ہویاامن
رہے گا یہخصوصیت صرف مکان کعبہ کی نہیں بلکہ حدود حرم کے اندر کاعلاقہ سب کا سب
اسی خصوصیت کاحامل ہے اورزمانہ جاہلیت بھی بھی جاہلی عربوں کا یہدستور تھا کہ اگر حرم
کے اندر اپنے سگے باپ کے قاتل کو بھی پالیتے تھے تو حرم کی حرمت کی پاسداری کرتے
ہوئے اس سے ان حدود کے ا ندر انتقام لینا پسند نہ کرتے تھے تفسیر صافی میں بروایت
علل حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ اپ نے ابوحنفیہ سے ایت کے اسی
ٹکڑے کے متعلق دریافت فرمایا کہ وہ زمین کونسی ہے تو اس نے جواب دیا کہ کعبہ تو اپ
نے فرمایا کہ حجاج بن یوسف نے جب حملہ کیا تھ اورابن زبیر کعبہ میں ہی قتل ہوگیا
تھا توا سکے لئے پھر جائے امن کیسے رہا وہ جواب سے عاجز اگیا اوراس سوال وجواب کی
قدرے تفصیل مقدمہ تفسیر انوارالنجف ۸۰؛۸۱ پر موجود ہے اخرکار
اس نے اپ سے ہی اس کی تاویل پوچھی تو اپ نے فرمایا کہ یہ ان لوگوں کے متعلق ہے جو
ہمارے قائم علیہ السلام کی بیعت کرکے اس میں داخل ہوں گے اوران کے ہاتھ پجر
ہاتھ رکھ کران کے صحابہ میں شامل ہوں گے اسی کتاب مٰں حضرت امام محمد باقر علی السلام
سے مروی ہے کہ ایت مجیدہکامطلب یہ ہے کہ خداوند کریم کی جانب سے عائدکردہ جمیع
احکام کاعارف ومعترف ہوکر جو بھی اسمیں داخل ہوا اوراخرت کے دائمی عذاب سے نجات
پائے گا
بروایت عیاشی اپ سے مروی ہے کہ
لوگوں میں سے جوبھی حرم کو پناہ سمجھ کر اس میں داخل ہوگا وہ غضب خدا سے محفوظ
ہوگا اورجانوروں اورپرندوں میں سے جوبھی اس میں داخل ہوگا اس کواذیت نی دی جائے گی
یہاں تک کہ وہ حرم کی حدود سے باہر چلاجائے
تنبیہ: یہ راایات تاویل اورباطن
کے لحاظ سے ہیں ورنہ ظاہرکے لحاظ سے ابتداء خلقت سے لے کر تاقیام قیامت کعبہ جائے امن
ہے اورکسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ کعبہ میں پناہ حاصل کارنے والے کو خوفزدہ
کرے انسان تو بجائے خود کسی حیوان کو بھی حدود حرم کے اندر ستایا نہیں جاسکتا
اورجو شخص اس حک کی مخالفت کرے گا وہ حرم خداکی توہین کرنے والاسمجھاجائے گا جس کے
لئے وہ بارگاہ ربا لاعزت میں بروز محشر جوابدہ ہوگا
اسلام میں سب سے پجہلے حضرت سیدالشہداء علیہ اسلام کو کعبہ میں خوفزدہ کیا گیا جس کی بناء جپر اپ
نے احرام حج کو عمرہ میں تبدیل کرکے اعمال عمرہ بجالانے کے بعد احرام کھولا
اوروہاں سے روانہ ہوگئے اوریہ اس لئے کہ کہیں ہماری وجہ سے حرم خداکی ہتک نہ ہو
اوراس کا مفصل تذکرہ کتب مصائب میں موجود ہے
حج کعبہ
لِلّٰہِ عَلٰی النَّاسِ
حِجُّ الْبَیْتِ :
تفسیر صافی میں بروایت کافی حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے
کہ یہاں حج وعمرہ دونوں مراد ہیں اوراستطاعت کے متعلق اپ سے مروی ہے کہ بدن تندرست
ہو اورمالی طاقت موجود ہو تو وہ مستطیع ہوگا ایک اورروایت میںہے کہ بدن تندرست
زادوراحلہ موجود اورراستہ پر امن ہو بہر کیف فقہائے امامیہ کے نزدیک وجوب حج کے
شرائط چند ہیں
۱ کامل العقل ہو لہذانابلغ اوردیوانے پر حج واجب
نہیں ہوا کرتی
۲ ازاد ہو لہذا غلام پر حج واجب نہیں ہوتی
۳ زادوراحلہ موجود ہو یعنی مالی طاقت موجود ہوکہ
اپ نے راستہ کے امدورفت کے اخراجات کے علاوہ اپنی واپسی تک کابال بچوں اوردیگر
واجب النفقہ افراد کی ضروریات زندگی کا انتظام کرسکتاہو
مسئلہ: اگر ایک شخص کے پاس زمین
یاکوئی دوسری جائداد اپنی ضرورت سے زائد موجو دہو لیکن نقدروپیہ ہاتھ میں نہ ہو
اتو اس صورت میں زائد ازضرورت مال کو
فروخت کرے حج کو جانا واجب ہے
مسئلہ: اگر اس کے پاس روپیہ موجود
ہے لیکن اسی قدر مقروض بھی ہے ت وحج کا وجوب ساقط ہوگا پس وہ روپیہ قرض خواہ کو دے
کر قرضہ سے سبکدوش ہوجائے پھر اگر استطاعت
ہو تو شرائط کے ماتحت اس اس پر حج کا وجوب عائد ہوگا
مسئلہ: جس پیسہ میں خمس وزکوۃ
اوردیگر حقوق مالیہ داخل ہیں اوراب تک اس نے ادا نہیں کئے تو اس پر واجب ہے کہ خمس
وزکوۃ ودیگر حقوق واجبہ سے پہلے سبکدوش ہونے ی کوشش کرے
اوراس کے بعد اخراجات حج
کے لئے روپیہ بچ جائے تو حج کو جائے ورنہ استطاعت کا انتظار کرے
مسئلہ: اگر روپیہ موجود ہو لیکن وجوب کے پہلے سال ہی روانگی سے پہلے وہتلف
ہوجائے تو وجوب حج ساقط ہوجائے گا
مسئلہ: اگر روپیہ موجود ہو اورحج
کی درخواست بھی دے دی لیکن ملکی رکاوٹوں کی وجہ سے نہ جاسکا اوردوسرے سال کے ایام
حج انے سے پہلے اس کاوہ روپیہ خرچ ہوگیا تو اس سے وجوب حج ساقط ہوگا کیونکہ پہلے
سال اس پر حج کا استقرار نہیں ہوسکا تھا پھر اگر اس کواستطاعت حاصل ہوگی اورجانا
بھی ممکن ہوگا تو حج واجب ہوگی
مسئلہ: جس شخص پر حج واجب ہواورنہ
کرسکے تو اس کے وارث پر اس کیطرف سے واجب ہوا کرتی ہے
مسئلہ: اگر حج واجب ہوجائے تو پھر
ترک کرکے مرجائے تو جناب رسالتماب سے مروی ہے ک وہ قیامت کے دن یہودی یانصرانی
مبعوث ہوگا اورفرمایاکہ تارک حج کافرہے کیونکہ قران مجید میں خدافرمارہاہے ومن کفر
فان اللہ غنی عنالعلمین اسی طرح امام جعفر
صادق علیہ السلام سے ہے کہ وجوب حج کے بعد بلاعذر شرعی جو شخص حج کو نہ جائے تو اس
کی موت یہودیت یانصرانیت کی موت ہوگی روایات میں حج کی تاکید بہتزیادہ ہے
خداوندکریم تمام شیعان اہلبیت کو اس کی
توفیق مرحمت فرمائے
۴تندرستی اگر ایسا
بیمار ہو کہ حج کے سفرکی صعوبتوں کو برداشت
نہ کرسکتا ہوتو اس سے وجوب ساقط ہے لیکن مروی ہے کہ اس صورت میں اپنی طرف
سے نائب بناکر حض کروائے پس اگر اس کیبیماری تاموت رہ جائے تو وہی حج اس کی ہوگئی اوراگر بع میں تندرست ہوجائے تو اس کو حج
دوبارہ کرنی پڑے گی
۵ راستہ کا باامن ہونا اگر راستہ خوفناک ہو تو حج
کا وجوب ساقط ہے ان مسائل کی تفصیلات کتب فقیہہہہ
سے معلوم کی جاسکتی ہیں
مسئلہ: عورت کی استطاعت میں وجود
محرم ضروری نہیں ہے اگر عورت کے پاس دیگر اسباب موجود ہوں لیکن کوئی محرم دستیاب
نہ ہو جس کے مہراہ وہ سفر کرے تو اگر سلامتی کاظن حاصل ہو تو وہ سفر حج کو اسکتی
ہے ورنہ نہیں
مسئلہ: استطاعت نہ ہونے کی صورت
میں اگر حج کرے تو پھراستطاعت حاسل ہونے کے بعد اس پر دوبارہ حج واجب ہو گی کیفیت
حج اوراس کے دیگر ضروری مسائل تیسری جلد کی ابتداء میں بیان ہوچکے ہیں
یَأَیُّـھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
شان نزول کہتے ہیں اوس خزرج کے دونوقبیلے ایک مقام پر اپس میں پیار ومحبت
کی باتیں کررہے تھے کہ شاش بن قیس یہودی کان پر گر وہا تو اس کی ان کی باہمی محبت
ناگورا گذری پس اس نے ایکیہودی نوجوان کو مشورہ دیا کہ ان کواپنی گشتہ دشمنیوں
اورلڑائیوں کے واقعات سنا کر یہ انگیختہ کرے
پس وہ ان میں اکر بیٹھ گیا اوراس نے ایک سابقہ لڑائی کا ذکر چھیڑ دیا جو
اوس اورخزرج کے مابین ہوئی تھی اوراس میں قبیلہ اوس کو کامیابی حاصل ہوئی تھی پس
اس پر دونوقبیلے تو تو میں میں پر اگئے اورلڑنے پر کمر بستہ ہوگئے اتنے میں لوگ
کافی تعداد مٰں جمع ہوگئے فوراطلاع پاتے ہی جناب ردسالتماب بنفس نفیس تشریف
لائیاورفرمایا کہ میری موجود گی میں تم پھر جاہلیت کی طرف جارہے ہو حالانکہ تم کو
اللہ نے اسلام ایسی نعمت عطا فرما کر تم سے جہالت کو دفع فرمایا اورتمہیں ایک
دوسرے سے باہمی الفت کادرس دیا پس وہ فورا بھانپ گئے کہ یہ شیطانی سازش تھی جو ہم
میں چلائیگئی اوردشمن کا فریب ودھوکا تھا جس میں ہم کو مبتلا کیا گیا چنانچہ انہوں
نے فور اہتھیارڈال کر اپنے کئے سے توبہ کی اورایک دوسرے کے گلے مل گئے وارجناب
رسالتماب کے ساتھ واپس اگئے پس خداوند کریم کی جانب سے یہودیوں کی تفہیم کا حک ہوا
کہ اے اہلکتاب تمہیں ایسے کفریہ کرتوتوں سے باز اجان اچاہیے اوراللہ کے سچے راستے
یعنی دین اسلام کی تعلیمات سے لوگوں کو برگشتہ کرنے کی ناپاک حرکات کو چھوڑ دینا چاہیے اورخداتمہاری ان ناپاک سازشوں سے
پوری طرح اگاہ ہے اس کے بعد پھر ایمان والوں کو خود خطاب فرماتا ہے کہ تمہیں ان
یہودیوں کے دام تزویر مٰں ہرگزنہ انا چاہیے
ورنہ وہ تو تمہیں دوبارہ کفر کی طرف ہی کھینچ کر لے جائیں گے ( تفسیر صافی ، تفسیرمیزان)
وَ کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ
یونی ویسے بھی حجت تمام ہونے کے بعد انسان کو کفر نہیںکرتا چاہے لیکن جب
قرآن پاسموجود ہو اور کے احکام کی ترجمانی کرنے والا رسول بھی پاس ہوتو پھر کفر
کیطرف عو د کرنا انتہائی نالائقی ہے جس طرح وہ لوگ قرآن کیمطالبکو ہر وقت سن کر
اطمینان قلب حاصل کرتے تھے اسی طرح جناب رسالتماب ؐ کے وجود ذی جود کے معجزات و کرامات
بھی ان کی تازگی ایمان اور زیادتی یقین کا بہترین ذریعہ تھے اور ان کو بار ہا
دیکھنے کا شرف حاصل ہوتا تھا چنانچہ آپ کے جس م اقدس کے کرامات جو ہروقت سامنے
تھے یہ ہیں
- · جس طرح آپ سامنے دیکھتے تھے اسی طرح پیچھے کیچیز کو بھی دیکھتے تھے
- · آپ کی آنکھیں سوتی تھیں اور دل بیدار رہتا تھا
- · آپ کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا تھا
- · مکھی آپ کے سجم پر نہ بیٹھ سکتی تھی
- · زمین آپ کے فضلات کو نگل جاتی تھی
- · برے سے بڑا قد آور بھھی جب آپ کے پاس کھڑا ہوتا تھا تو آپ کا قد اس ے بلند نظرا ٓتا تھا
- · آپ کے شانو ں کے درمیان مہر نبوت کا واضح نشان موجود تھا
- · جس مقام سے آپ کا گزر ہوتا تھا خوشبو کی مہک باقی رہتی تھی جس سے لوگوں کو آپ کے گزرجانے کا علم ہوجاتا تھا
- · شب تاریک میں آپ کا چہرہ کا نور روشنی کا موجب ہوتا تھا
- · آپ ختنہ شدہ متولد ہوتے تھے (مجمع البیان)
- · دھوپ میں آپ کے جسم پر بادل سایہ گن رہتا تھا وغیرہ